” جس آئی ۔ایس ۔آئی کو میں جانتا ہوں“

24 جون 2011
نواز خان میرانی
کہتے ہیں ایک دفعہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ہمارے جنرل اختر عبدالرحمن سے ایک اہم ملاقات کیلئے آئے( واضح رہے کہ اس وقت ملاقات بلحاظ منصب ہوتی تھی) اس ملاقات کا مقصد ایک دوسرے کے ساتھ خصوصی تعاون اور معلومات پاکستان کو بہم پہنچانا تھیں۔ جنرل اختر کو بتایا گیا کہ ہماری کئی سال کی محنت و کاوش کے بعد ہمیں پتہ چلا ہے کہ روسی جرنیلوں کے نام کیا ہیں اور کون سے جنرل افغانستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔اتنی معلومات کا سنتے ہی جنرل اختر نے زور کا قہقہہ لگایا اور بولے یہ کونسی ایسی بات ہے اور کونسی غیر معمولی معلومات ہیں۔ہمارے پاس تو یہ معلومات ایک عرصے پہلے سے موجود ہیں کیونکہ ہمارے لوگ تو بطور خانساماں اور ڈرائیور روسی جرنیلوں کے گھروں میں کام کررہے ہیں۔ پھر جنرل اختر، ضیا الحق سے ملنے گئے اور اُنہیں یہ سارا واقعہ سنایا۔ یہ سنتے ہی ضیاءالحق کا چہرہ فق ہوگیا، اُنہوں نے انتہائی افسوس کا اظہار کیا اور بولے اختر تمہیں ایسے بالکل نہیں کرناچاہئے تھا امریکی روسیوں کو چھوڑ کر ہمارے پیچھے لگ جائینگے کہ انکی انٹیلی جنس اس قدر فعال اور مضبوط ہے اور پھر وہی ہوا کچھ عرصہ بعد پاکستان کو دولخت کرنے کی ذمہ دار ” را“ امریکہ کی کیوں چہیتی ہے۔ وہ اس لئے کہ اب انکی ٹریننگ امریکہ اور انگلینڈ میں ہوتی ہے مگر سونے پہ سہاگہ یہ ہے کہ اسرائیل میں بھی بطور خاص را کے ایجنٹوں کو تربیت کیلئے بھیجا جاتا ہے۔را ہیڈ کوارٹر دلی میں ہے اور 65ءکی جنگ کے بعد دو کروڑ کے بجٹ سے اور اپنی ابتدا ڈھائی سو ایجنٹوں سے کی تھی مگر اب تعداد ہزاروں تک ہے صرف پاکستان میں دشمن ایجنٹ1993 تک بارہ ہزارہ سندھ میں دس ہزار پنجاب میں آٹھ ہزار سرحد اور پانچ ہزار کوئٹہ میں، یقینا کوئٹہ اب انکا اصل ہدف ہے اور یہ تعداد بڑھ گئی ہوگئی اب رَا کا بجٹ اربوں روپوں سے تجاوز کرتا جارہا ہے۔پاکستان میں شیعہ سنی فساد کی ابتدائ، سرائیکی صوبے کی مہم، بلوچستان، سوات اور سرحد میں طالبات کے سکولوں کو منہدم کرنا،افغانستان و پاکستان میں القاعدہ کے خلاف پراپیگنڈہ ،طالبان کے اہداف انکے نقشہ جات، ٹریننگ کیمپ اور اسامہ کی موجودگی کے ثبوت امریکہ کودینے اور ان معاملات میں دل کھول کر پیسہ خرچ کرنا جس میں کالا باغ ڈیم کے علاوہ افغانستان اور پاکستان میں جعلی کرنسی نوٹ چھاپ کر پھیلانا، رَا کے فرائض میں شامل ہے۔سوات میں امن کی بحالی، سکولوں کا اجرائ، میلوں ٹھیلوں کو منعقد کرانا، پاکستانی جھنڈوں کو دوبارہ لہرانا،آئی۔ایس۔ آئی کی بہت بڑی کامیابی ہے۔مگر اتنے ایجنٹ کا پاکستان میں گھس آنا،کس کس اداروں کی غفلت اور مجرمانہ کوتاہی ہے اس کا سدباب ادراک اور ذمہ داروں کا تعین کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔
جنرل نیازی کاہتھیار رکھنے کا اندازاورغلط کمانڈ کی وجہ سے ہزاروں جوانوں کا ذلت آمیز طریقے سے قید میں جانا کسی پاکستانی کیلئے ممکن نہیں کہ وہ اسے زندگی میں بھول جائے بھارتی وزیراعظم نے تو کہا تھا کہ ہم نے صدیوں کی غلامی کا بدلہ لے لیا ہے مگرہم نے پاکستان توڑنے کے منصوبہ ساز کوکار ساز پہ چھوڑ دیا ہے۔اسکے باوجود یہ ادارہ ہمارے حریفوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے خواہ وہ رَا ہو ،سی آئی اے یا موساد ہو۔ خاص طور پہ امریکہ جس پوشیدہ سپر پاور روس سے بدکتا تھا، ہماری آئی۔ایس۔ آئی کی حکمت عملی کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ ہماری یہ فتح امریکہ، بھارت کیلئے ناقابل یقین اور خوف و یاس کا باعث بنی۔ اسی لئے اُس نے ممبئی کا ڈرامہ رچا کر سب سے پہلے آئی۔ایس۔ آئی پہ الزام لگایا اور مطالبہ کیا کہ آئی۔ایس ۔آئی کے سربراہ کو بھارت میں پیش کیا جائے اور حیرت کا مقام ہے کہ ہمارے دوسرے دوست نما دشمن نے آئی۔ایس۔ آئی کے نیک نام محب وطن، غیور، بے باک نڈر اور صاف گو سابق سربراہ کو دہشت گردوں کی فہرست میں ڈال کر مطلوبہ افراد کے ساتھ مانگ لیا۔ہمارے حکمران دونوں رسوائیوں کیلئے آمادہ تھے مگر پھر ہماری یہی فوج اور آئی۔ایس ۔آئی کام آئی اور دشمن کو اس وقت اور سانحہ ایبٹ آباد کے بعد واضح کیا کہ بھارت، بھارت رہے۔ امریکہ بننے کی کوشش نہ کرے۔ ورنہ تمہاری کسی بھی کوشش کو اعلان جنگ سمجھا جائیگا ، بھارت کو وہ تاریخ تو یاد ہوگی جب 1999ءمیں بھارت کے دو جہازوںنے پاکستان آنے کی جرات کی تھی اور وہ دونوں اس طرح سے مارے گئے تھے کہ جس کی سمجھ نہ بھارت کو آئی اور نہ دنیا کو لہٰذا میں اُس آئی۔ایس ۔آئی کو جانتا ہوں۔