COMIC RELIEF.... (گزشتہ سے پیوستہ)

24 جون 2011
ماضی قریب میں جن لوگوں نے محترمہ کو پرویز مشرف اور وزیراعظم گیلانی صاحب کا انٹرویو لیتے ہوئے ٹی وی پر دیکھا ہے وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتے ہیں۔ ”نوجواں ہے گردشِ شام و سحر کے درمیاں“۔ عمر رسیدگی نے شبستان وجود کا تو کیا احاطہ کرنا ہے۔ وہ انکی دہلیز کو بھی نہیں چھو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے ایک سابقہ کالم میں لکھا تھا۔ ”یہ اگر کسی کھمبے کا بھی انٹرویو لیں تو اُس کے فیوز شدہ بلب ایک ساتھ جل اُٹھتے ہیں۔
ایک کالم نگار نے شراب اور شرابیوں کے متعلق جو لطیفے سنائے ہیں اور اس ضمن میں جوش اور مجاز کی نوک جھونک بیان کی ہے ہم اُس میں تھوڑا سا اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ جوش خود پینے کے رسیا تھے لیکن اعتدال کے قائل تھے۔ اسرارالحق مجاز کو نصیحت کرتے کرتے انہوں نے سو شعروں پر مشتمل پورا پندنامہ لکھ ڈالا جس میں حاصل نظم وہ شعر تھا
ذہنِ انساں کو بخشتا ہے جمال
نشہ گر ہو بقدرِ نور ہلال
ان سو شعروں کے جواب میں اُس رندِ خرابات نے ایک شعر لکھ بھیجا
قلبِ شاعر پہ جو گذرتی ہے
شاعرِ انقلاب کیا جانے
غالب نے بھی نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
کل کے لئے کر آج نہ خست شراب میں
یہ سوئے ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں
عدم تو اِس حد تک بے باک ہو گیا تھا جو کہہ بیٹھا
اک مصرعہ شعور لکھتا ہے ایک مصرعہ شراب کہتی ہے
لیکن ہمیں میر تقی میر کا مصرعہ زیادہ حسب حال لگتا ہے۔
میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
ہو سکتا ہے کہ عتیقہ کے پاس شراب نہ ہو۔ کسٹم آفیسر غلطی سے دو نینوں میں جھانک بیٹھا ہو اور مدہوشی کے عالم میں اکھیوں کے جھروکے میں اُسے بوتلیں نظر آئی ہوں.... ہم اِس خانہ خراب کے متعلق لکھے ہوئے سب کلام کو قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں اور قانون کی دراز رسی میں سب شاعروں اور ادیبوں کو جکڑنا چاہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ جرم ثابت کرنے کے لئے موثر شہادت درکار ہوتی ہے جو اکثر دستیاب نہیں ہوتی۔ بالفرض سب نے عزیز میاں قوال کا موقف اختیار کر لیا کہ وہ شراب معرفت کی بات کر رہے تھے تو پھر.... پھر کیا ہو گا؟