طعنہ رائج الوقت۔کرپشن بیرونی اثاثے

24 جون 2011
محمود فریدی
آزاد کشمیر الیکشن مہم کے دوران جناب نواز شریف نے زرداری حکومت پر الزام لگاتے ہوئے فرمایا کہ کرپشن تمام حدوں کو پھلانگ چکی ہے۔” ایسی کرپشن کبھی دیکھی نہ سنی“۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ملک کو تباہ ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ فوجی جرنیلوں اور ججوںکو غیر آئینی کام کرنے پر آئین کی دفعہ 6کے تحت سزا ملنی چاہیے۔زرداری صاحب نے محترمہ کی برسی پر فوری جواب میں کہا کہ نواز شریف جیل سے ڈرتے ہیں دوبارہ وقت پڑا تو وہ غیر ملکی اثاثوں کاروبار، جائیداد کی بنا پر ” پُھر“ سے بیرون ملک بھاگ جائیںگے۔ ان گرما گرم بیانات کے نتیجہ میں کرپشن اور بیرونی اثاثوں نے مسلمہ طعنوں کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔اس سے قبل یہ اصطلاحیں صرف گلے شکوے، نوک جھونک، چھیڑ چھاڑ کے طورپر مستعمل تھیں مگر اب ترکی بہ ترکی استعمال کے بعد طعن و تشیع کی مسلمہ صورت بن چکی ہیں۔ طعنہ جب باقاعدہ رائج ہوجائے تو دشنام بنا کر تیزابی اثرات کا حامل بن جاتا ہے دشنام بننے کے بعد طعنہ لڑائی پر منتج ہوتا ہے۔گویا دونوں لیڈروں نے میدان جنگ میں قدم رکھ دیا....
حسن کے حسن مقابل ہے خدا خیر کرے
بے چارے عوام سوچتے ہیں کہ الیکشن کے ذریعہ لیڈر چننے کا اختیار تو محض فریب ہے کیونکہ یہ عوامی نمائندے اور رہنمائی کے دعوے دار کہا ں تک ان کے جذبات، احساسات، ضرورتوں اور آرزوﺅں کی نمائندگی کا حق ادا کر رہے ہیں۔ایک لیڈرفوج کے خلاف ہرزہ سرا ہے تو دوسرا مولوی مولوی کہہ کر اسلامی سوچ کے خلاف بے زاری کا اظہار کر رہا ہے عوام یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ ....
نا حق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بد نام کیا
حقیقت یہ ہے کہ دونوں ملکی مفادات پر ذاتی سیاست کر رہے ہیں۔نواز شریف صاحب کو خدشہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور زرداری حکومت ملی بھگت کے ذریعہ انہیں مکھن کا بال بناناچاہتی ہے۔زرداری صاحب نواز شریف کو اپنے لئے حتمی خطرہ سمجھتے ہوئے انہیں فوج اور امریکہ کی نظروں سے گراناچاہتے ہیں۔
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیسے کھلاڑی ہیں جن کو کھیل کے اخلاقی ضابطے تک یا د نہیں رہتے اور یہ تنک مزاج معشوق کی طرح گہے غنچہ گہے گل بن جاتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وقت کا تقاضا یہی ہے یا کچھ اور؟؟ اندر کی لڑائی بین الاقوامی استہزا کا موجب بنانا کہاں کی دانشمندی ہے۔.... دشمن دروازے پر دستک دے رہا ہے لیکن گھر والے برتن ٹکرا رہے ہیں!!چلو بے وقت کی اس چھینا چھپٹی سے طعنوں کی بلی تو تھیلے سے باہر نکلی آئی کہتے ہیں غصے میں بعض اوقات سچ منہ سے پھسل جاتا ہے۔چلیں یہ فیصلہ تو ہوا کہ طعنہ رائج الوقت کیا ہے!....
کرپشن اثاثے اثاثے کرپشن
ہیں آپس میں وہ ہم کلام اللہ اللہ