زوال پذیر قوموں کی نشانیاں

24 جون 2011
مصباح کوکب (سابق ایم پی اے)
قوموں پر جب زوال آتا ہے تو تاریخ دانوں کی نظر میں اس کی وجوہات میں کچھ ماضی کے غلط فیصلے اور کچھ حال کی نااہل لیڈر شپ شامل ہوتی ہے۔ تاریخ دانوں نے زوال پذیر اقوام کی درج ذیل نشانیوں کے ذریعے بشارت دی ہے۔
1۔ زوال پذیر اقوام میں عزت نفس کے اصول ختم ہو جاتے ہیں اس قوم کے رہنما ہر چیز حتیٰ کہ اپنا ضمیر بھی بیچنے کےلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ 2۔ زوال پذیر اقوام کے لیڈرز میں اعلیٰ کردار کے اوصاف ناپید ہو جاتے ہیں۔
3۔ احساس زیاں کا خاتمہ ہو جاتا ہے 4۔ زوال پذیر قوم کے رہنما جھوٹے مکار ہوتے ہیں اور اعلیٰ انسانی روایات اور اقدار کے دشمن ہوتے ہیں ان کی اپنے ملک کے ساتھ کسی قسم کی محبت یا وفاداری نہیں ہوتی اور برا وقت آنے پر وہ سب کچھ سمیٹ کر ملک سے فرار ہو جاتے ہیں۔ 5۔ زوال پذیر قوم کے لیڈرز کا کوئی نظریہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی اصول ہوتے ہیں۔ ان کا نظریہ حیات اسی طرح کے فلسفے کے گرد گھومتا ہے جسطرح کا فلسفہ مشاہد حسین سید نے ”لٹو اور پھٹو“ کے نام سے پیش کیا تھا۔ 6۔ زوال پذیر معاشروں کے نام نہاد لیڈرز اپنی قوم کو اجڈ‘ جاہل گنوار اور گری ہوئی معاشرت کا حصہ سمجھتے ہیں چنانچہ انہیں ایسا سیاسی اور معاشی نظام دیتے ہیں جس سے انہیں عزت نفس سے محروم رکھا جائے اور ایسا آپ تعلیم‘ صحت اور ترقی کے بجٹوں سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ 7۔ زوال پذیر اقوام کے لیڈرز کائناتی اخلاقیات کے وضع کردہ اصولوں کی مبنی بر انصاف اصولوں کی پاسداری نہیں کرتے بلکہ صرف مڈل کلاس کو کنٹرول کرنا ہی ضروری سمجھتے ہیں جبکہ کرپٹ اور ناانصافی پر مبنی نظام ہمیشہ معاشروں کو طبقات کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے اور اقوام میں تصادم اور محرومیوں کے کلچر کو فروغ دیتا ہے جبکہ ہمارے متضاد قوم کے لیڈرز کی بھی آج حالت یہ ہے کہ وہ خود ہی یہ سب کھیل کھیل رہے ہیں۔ ملک کی معیشت ڈوب رہی ہے‘ عام آدمی بے حال ہے‘ ملک بحرانوں کی لپیٹ میں ہے ہر بحران کا دوسرا سرا اقتدار کی نااہلی اور بدعنوانی سے جڑا ہوا ہے۔ ہمارے ملک کی کسی جماعت کا سربراہ ہٹ دھرم ہے کوئی عاقبت نااندیش ہے اور کوئی بے بصیرت ہے۔ دہشت گردوں نے اودھم مچا رکھا ہے۔ کوئی نئے صوبوں کی رٹ لگا رہا ہے اور کوئی ڈیم نہیں بننے دونگا کی دھمکی دیتا ہے۔ انگریز نے ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کے اصول کو بطور پالیسی اپنایا اور آج ہمارے لیڈرز سردار‘ سرمایہ دار اور وڈیرے بھی انگریز کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ ان کا منشور ہے لیکن انگریز کو تو اس دھرتی اور اس دھرتی کے لوگوں سے محبت تھی نہ ہمدردی‘ لیکن ہمارے لیڈرز کو اس دھرتی نے عزت دی ہے نام دیا ہے شہرت دی ہے‘ پہچان دی ہے۔ اس لئے یہ یاد رکھیں کہ جن قوموں کے لیڈرز اپنی قوم کو ترقی یافتہ صف میں شامل کرنے کی بجائے زوال کیطرف لے گئے ان کا حال آج ساری دنیا جانتی ہے اور تاقیامت جانتی رہے گی۔