جمعة المبارک ‘ 21 رجب المرجب1432 ھ‘ 24 جون 2011

24 جون 2011
بھارتی تعلیمی بورڈ نے نبی اکرم سے متعلق گستاخانہ مواد نصاب میں شامل کر دیا۔
بھارت کو اچھی طرح خبر ہے کہ مسلمان سب کچھ معاف کر دیگا‘ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کو اپنے پرائے کی تمیز کے بغیر برداشت نہیں کریگا۔ اگر بھارتی حکومت نے اپنے نصاب سے یہ زہریلا مواد خارج کرکے معافی نہ مانگی تو اس معاملے پر اسے بہت بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اس لئے کہ 25کروڑ عشاق رسول تو خود بھارت میں موجود ہیں اور 18کروڑ پاکستانی عشاقِ رسول بھارت پر زمین آسمان ایک کر سکتے ہیں‘ اس لئے کہ جب تک گستاخانِ رسول کو کیفرکردار تک نہ پہنچایا جائے‘ کسی بھی مسلمان کا ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے ہاں تو نصاب میں ہندو نیتاﺅں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جائے اور بھارت اب کشمیر‘ پانی سے گزر کر ناموس رسالت پر بھی ہاتھ ڈال بیٹھا ہے۔ یہ مسئلہ ہر مسئلے سے زیادہ حساس اور خطرناک ہے‘ ہمارے حکمرانوں کو بھی اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دینے کیلئے بھارتی حکومت سے کہہ دینا چاہیے کہ تین دن کے اندر اندر نصاب سے گستاخانہ مواد خارج کرکے معافی مانگے‘ وگرنہ اسکے بعد جو بھی ہوا‘ اس کو بھگتنے کیلئے تیار ہو جائے۔ اس کائنات کی اعلیٰ ترین ہستی اور انسانیت کو انسانیت سکھانے والے کی گستاخی ناقابل برداشت ہے۔
ہمارے پاس علم دین حضرات کی کمی نہیں‘ یہ ثواب اور یہ مقام کون مسلمان چھوڑے گا‘ بھارت شاید اب پاکستان سے پنجہ آزمائی کرنا چاہتا ہے‘ اس لئے اس نے آخری تیر بھی چلا دیا ہے۔ بت پرستوں کو خدا پرستوں کے داﺅ پیچ کی اچھی طرح خبر ہے‘ ہزار سال حکومت کے بعد دوسرا قرن شروع ہو گا تو یہ کمینہ دشمن درست ہو گا‘ اب اسکی درستگی میں تاخیر خطرہ ایمان ہے۔
٭....٭....٭....٭
وزیراعلیٰ کے دورہ نارووال کے دوران کمشنر اور اے سی میں واش روم تیار نہ ہونے پر جھڑپ اور وہاں کے پٹواریوں نے اے سی کا ساتھ دیتے ہوئے‘ ہڑتال کی دھمکی دے دی۔
کمشنر اور اے سی سے چیف سیکرٹری پوچھ گچھ کے دوران یہ ضرور پوچھیں کہ کیا وزیراعلیٰ نے تقریر واش روم میں کرنی تھی‘ جو وہ دونوں اس موضوع پر ایک دوسرے سے لڑ پڑے۔ پٹواری تو کمشنر کیا چیف سیکرٹری سے بھی آگے ہے کیونکہ وہ بحوالہ آئین اکبری ”خداوند زمین“ کہلاتا ہے۔ آخر پٹواریوں کا اے سی کی حمایت میں احتجاج کرنے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ شاید یہاں بھی سپاہی اور ایس ایچ او والا فارمولا کارفرما ہوتا ہے کیونکہ پٹواری جو بھی لکیریں کھینچتے ہیں‘ ان میں رنگ اے سی بھرتے ہیں۔ کمشنر تو ایک ایسے کیمرے کی مانند ہوتا ہے‘ جو چاروں طرف گھوم گھام کر ماحول کی تصویر کشی کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے اس لڑائی پر کوئی ریمارکس نہیں دیئے‘ شاید انکو معلوم ہی نہ ہو کہ بیوروکریسی واش روم کے مسئلے پر الجھی ہوئی ہے کیونکہ اس ملک کو شاید واش روموں کی زیادہ ضرورت ہے۔ ویسے وزیراعلیٰ کا اپنا ملک ہے‘ اپنے باڈی گارڈز ہیں‘ اپنے کارکن ہیں‘ آخر اے سی اور کمشنر کو کیا ضرورت ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے وزیراعلیٰ کے جلسے کے انتظامات میں لگ جائیں اور واش روم صاف کرکے نمبر سکور کریں‘ یہ تو جمعدار کا کام ہے۔
٭....٭....٭....٭
بھارتی حکام نے صومالی قزاقوں سے رہا کرانے کے بعد پانچ پاکستانیوں کو قید کرلیا جبکہ فشنگ ٹرالر پر سوار ایرانی باشندوں کو رہا کردیا۔
آسمان سے گرا بنیئے کی کمینگی میں اٹکا‘ یہ ہے وہ سرگزشت جو ہمارے پانچ پاکستانی ماہی گیروں پر گزری‘ جنہیں ایرانی باشندوں سمیت بھارت نے بحری قزاقوں سے رہائی دلائی۔ بھارت نے ان پانچ پاکستانیوں کو بحری قزاقوں سے رہا کراکے بھارتی زمینی قزاقوں کے حوالے کر دیا‘ اب انکے ساتھ بھارتی جیل میں کیا ہو گا‘ اسکی روک تھام اور انکی واپسی کیلئے پاکستان کے حکام حرکت میں آئیں تاکہ پتہ چلے کہ ہمارے حکمران کبھی کبھی بھارت کی مخالفت بھی کرلیتے ہیں۔ بنیا پھر بنیا ہے‘ وہ ان پانچ پاکستانیوں پر سودا بازی کریگا یا جیلوں میں گلنے سڑنے کیلئے چھوڑ دیگا۔ اب اس معاملے میں دیر کی تو ہر پاکستانی یہ سمجھے گا کہ انکے حکمرانوں میں اتنا بھی دم نہیں کہ بلاوجہ پکڑے گئے اپنے بے گناہ شہریوں کو کمینے ہمسائے سے چھڑا سکیں۔ بھارت کی جو ادائیں ہیں‘ ان سے ظاہر ہے کہ وہ پاکستان کو ہر قدم پر یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ میں زیادتی کرتا رہوں گا‘ کرلو جو کرنا ہے۔ اس واقعہ کو حکومت گرفت میں لے اور اگر نہیں تو پھر ہماری نیوی پانچ دس بھارتی پکڑ کر اندر کر دے تاکہ کم از کم وٹہ سٹہ تو ہو سکے۔ اگر ہندو کو یقین نہ آئے تو وہ ہمارا قانونِ قصاص پڑھ لے‘ اسے تسلی ہو جائیگی‘ اس لئے کہ سمندر کے پانیوں میں انکے مچھیرے بھی ہوتے ہیں اور ان پر جال ڈالنا مشکل ہے۔ ہندو ٹھوکر کھا کر ہی رام رام کرتا ہے۔
٭....٭....٭....٭
صاحبزادہ فضل کریم نے کہا ہے‘ مذہبی سے زیادہ سیاسی فرقہ واریت خطرناک ہے۔
صاحبزادہ فضل کریم عالم دین ہونے کے علاوہ سیاسی شعور بھی رکھتے ہیں‘ انکے اس قول میں بلا کی طاقت پوشیدہ ہے جس تک سیاستدانوں کو پہنچ جانا چاہیے‘ وگرنہ انکی ہر پہنچ نارسا رہے گی۔ اگر اس ملک میں سیاسی فرقہ واریت ہے تو پھر مذہبی فرقہ واریت کو کون روکے گا؟ سیاست اگر مضبوط‘ پاک اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو تو یہاں دین کا بھی یہی عالم ہو گا‘ وگرنہ چنگیزی ہی چنگیزی راج کریگی اور باقی رہ جائیگی افراتفری‘ انتشار اور حق سے انکار۔ سیاسی فرقے ضرور ہوں مگر ان میں واریت نہ ہو‘ تو مذہبی سے بھی واریت خارج ہو جائیگی‘ اگر آپ چاہیں تو اس واریت کو انگریزی کے لفظ War سے مشتق قرار دے سکتے ہیں۔ یہ سیاسی اور مذہبی فرقوں میں نظریات کا عالمانہ اختلاف تو قابل قبول ہے مگر اختلافِ رائے جس کا مطلب نظریات کا تنوع ہے‘ باعثِ رحمت بھی ہو سکتا ہے‘ اگر جمہوریت ہی کو اپنانا ہے تو اسے پہلے مسلمان کیجئے تاکہ اس میں خلافت ِراشدہ کی روشنی پیدا ہو اور لوڈشیڈنگ و آئی شیڈنگ کے اس زمانے میں کم از کم ہر سیاسی پارٹی صاف رستے پر تو چلے‘ اگر توفیق ہو تو اس عربی مقولے پر غور کرلیا جائے۔
”الناس علی دین ملوکھم“ (لوگ اپنے حکمرانوں‘ سیاست دانوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں)