تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ اور آزاد کشمیر اسمبلی کے انتخابات .... ایک لمحہ فکریہ

24 جون 2011
پروفیسر الیف الدین ترابی turabi786@gmail.com
24اکتوبر 1947کو جب آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر قائم ہوئی تو اس کا قیام خود بخود عمل میں نہیں آ گیا تھا بلکہ آزاد کشمیر کے اس خطے کو ڈوگرہ سامراج سے آزاد کرانے کےلئے اس خطے کے لوگوں نے جان و مال کی جو عظیم الشان قربانیاں پیش کی تھیں اسکی کوئی نظیر نہیں ملتی۔چنانچہ اس خطے کی سرزمین کا کوئی ایک انچ بھی ایسا نہیں ہو گا جسے ڈوگرہ اور بھارتی فوج کے تسلط سے آزاد کرانے کےلئے مجاہدین نے اپنے لہو سے نہ سینچا ہو‘ چنانچہ یہ ایک امر واقعہ ہے کہ 1947کے جہاد کے دوران میں آزاد کشمیر کے اس پورے خطے میں کوئی بھی گھر ایسا نہیں بچا ہو گا جس کا کوئی فرد اس جہاد میں شریک نہ ہوا ہو اور اسکے نتیجے میں شہید یا زخمی نہ ہوا ہو ۔یوں یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ آزاد کشمیر کی سرزمین کا ایک ایک انچ شہیدوں کے مقدس خون سے سیراب ہے۔
یوں آزاد کشمیر کے عوام کی قربانیوں کی وجہ سے 24اکتوبر 1947کو آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کے نام سے تحریک آزادی کشمیر کی ایک نمائندہ حکومت معرض وجود میں آئی جس کا ہدف یہ قرار پایا کہ یہ آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کا بیس کیمپ بنا کر تحریک آزادی کشمیر کی تکمیل کےلئے جدوجہد کرےگی۔ اس لحاظ سے اس حکومت کے تقاضے حسب ذیل قرار پاتے ہیں۔
اولا ً:اپنے تمام ممکنہ وسائل کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کشمیر کی تائید و حمایت کرکے اسے کامیابی سے ہمکنار کرنا۔
ثانیا ً: آزاد کشمیر میں ایک فلاحی اسلامی معاشرہ قائم کرنا تاکہ یہ خطہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے جذبہ آزادی کےلئے مہمیز کا کام دے۔
تحریک آزادی کشمیرکے بیس کیمپ کی حکومت کے ان تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم گزشتہ 64سال کے دوران میں آزاد کشمیر میں برسراقتدار آنےوالی مختلف حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھ کر انتہائی دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ اس عرصے کے دوران آزاد کشمیر میں جو لوگ حکمران رہے انہوں نے آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہونے کے ان دونوں تقاضوں کو مکمل طور پر پس پشت ڈالے رکھا۔ ان میں آزاد کشمیر کے موجودہ حکمران بھی شامل ہیں اور وہ پارٹیاں بھی شامل ہیں جو اس وقت تو اپوزیشن میں ہیں لیکن گزشتہ عرصے کے دوران باری باری آزاد کشمیر میں برسر اقتدار رہ چکی ہیں ہمیں یہ بات انتہائی دکھ اور افسوس سے کہنا پڑتی ہے کہ اس سارے عرصے کے دوران آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کا ایک ہی ہدف رہا ہے کہ وہ جس طریقے سے بھی ممکن ہو کرسی اقتدار تک پہنچ جائیں اور اگر یہ کام صحیح طریقے سے ممکن نہ ہو تو اس کےلئے سازشیں اور ریشہ دوانیاں کرنے اور دھونس دھاندلی سے کام لینے میں بھی انہیں کوئی باک نہیں رہا ہے۔
تحریک آزادی کشمیر کیا ہے اور اسکے بیس کیمپ کے تقاضے کیا ہیں اس پر سوچنے کےلئے نہ کبھی انکے پاس وقت تھا اور نہ انہیں کبھی اسکی ضرورت محسوس ہوئی۔
یہاں اس افسوس ناک حقیقت کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ یوں تو آزاد کشمیر میں گزشتہ 64سال کے دوران برسراقتدار رہنے والے حکمرانوں کا مجموعی کردار تحریک آزادی کشمیر کے تقاضوں کے منا فی رہا ہے لیکن1990میں مقبوضہ کشمیر میں آزادی اور حق خود ارادیت کی موجودہ تحریک شروع ہونے کے بعد سے آزاد کشمیر میں جو لوگ برسراقتدار رہے ہیں انکا کردار تو اس حوالے سے انتہائی مجرمانہ اور بھیانک رہا ہے۔ 1990میں مقبوضہ کشمیر میں آزادی اور حق خودارادیت کی جس عظیم تحریک کا آغاز ہوا ہے اسکا شعار پہلے دن سے یہ نعرہ رہا ہے : ”آزادی کا مطلب کیا : لا الہ الاللہ ؛ پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الاللہ“۔
یہ تحریک جو 1990 میں شروع ہوئی تھی اب تک جاری ہے۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ اس تحریک کے دوران ہمارے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں نے اسلام اور آزادی کےلئے جو عظیم الشان اور لازوال قربانیاں دی ہیں انکی کوئی نظیر نہیں ملتی۔یقیناً اس عرصے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے جس نے اس تحریک کے دوران کوئی شہید نہ پیش کیا ہو یا جس کی کسی ماں ،بہن یا بیٹی کی عصمت نہ لوٹی گئی ہو یا جس کاکوئی بیٹا کسی انٹروگیشن سینٹر یا ٹارچر سیل میں بھارتی فوجی درندوں کی تعذیب و تشدد کا شکار ہو کرشہید یا معذور نہ ہوا ہو۔ایک اندازے کےمطابق اس عرصے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان مرد، عورتیں اور بچے شہید ہوئے ہیں جبکہ زخمی اور اپاہج ہونےوالوں کی تعداد اس سے دگنی ہو گی۔اسی طرح اس عرصے کے دوران بھارتی درندوں کے ہاتھوں ہماری جن کشمیری ماوں ، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں لوٹی گئیں انکی تعداد کسی طرح بھی دس ہزار سے کم نہیں ہو گی۔
علاوہ ازیں اس عرصے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ سے زیادہ گھروں اور دوکانوں کو لوٹ کر مسمار کر دیا گیا ہے۔مختصر یہ کہ بھارتی فوجیوں کے اس ظلم و تشدد کے نتیجے میں آج مقبوضہ کشمیر کے شہر اور قصبے ویرانوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر کے تمام بڑے شہروں اور قصبوں کے ساتھ ساتھ شہدا کے بڑے بڑے مزار ہیں جن میں اس تحریک کے دوران شہید ہونےوالے شہدائے کرام دفن ہیں۔ مزید براں کنٹرول لائن کے ساتھ بڑی تعداد میں ان نوجوانوں کی گمنام قبریں دریافت ہوئی ہیں جنہیں اس تحریک کے دوران انکے گھروں سے گرفتار کر کے بھارتی فوج کے قائم کردہ انٹروگیشن سینٹروں اور ٹارچر سیلوں میں لے جایا گیا لیکن پھر انکا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بھارتی قابض فوجوں کے اس ظلم و استبداد اور جبر و تشدد سے کشمیر کی وہ وادی جو کبھی دنیا کی جنت کہلاتی تھی، جہنم میں تبدیل ہو چکی ہے لیکن بھارت کے اس تمام تر جبر و تشدد کے باوجود آزادی اور حق خود ارادیت کی یہ تحریک نہ صرف یہ کہ جاری ہے بلکہ اسکی قوت اور ہمہ گیری میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
اس تحریک کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ایک ہمہ گیر تحریک ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کا ہر فرد قطع نظر اس بات کے کہ وہ مرد ہے یا عورت ،بوڑھا ہے یا جوان ،شہری ہے یا دیہاتی پوری طرح شریک ہے اور اپنے اپنے محاذ پر اپنے اپنے حصے کا رول ادا کر رہا ہے اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ خوش قسمتی سے اس تحریک کو ایک ایسی بالغ نظر قیادت میسر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عزیمت و استقامت اور فراست مومنانہ کی ایسی صفات سے بہرہ ور کر رکھا ہے جن کی وجہ سے بھارت نہ اسے جبروتشدد کے ہتھکنڈوں سے جھکنے پر مجبور کر سکتا ہے اور نہ ترغیب و تحریص کے ہتھکنڈوں سے اسے دام فریب میں مبتلا کر سکتا ہے۔
یہ ایک امر واقعہ ہے کہ اس عرصے کے دوران اگر تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ میں ایسے حکمران ہوتے جنہیں یہ شعور اور احساس ہوتا کہ تحریک آزادی کشمیر کے اس فیصلہ کن مرحلے میں تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ کے حکمرانوں اور عوام کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور انہوں نے ان ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہونے کی کچھ بھی کوشش کی ہوتی تو آج مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور حق خودارادیت کی یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہو چکی ہوتی اور اسکے لئے دی گئی جان و مال کی قربانیاں نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہوتیں ۔ لیکن یہ ایک افسوس ناک بلکہ شرمناک حقیقت ہے کہ اس عرصے کے دوران تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ آزاد کشمیر میں جو لوگ حکمران رہے ہیں یا جو جماعتیں یہاں برسر اقتدار رہی ہیں قطع نظر اس بات کے وہ آج اقتدار میں ہیں یا اپوزیشن میں۔ وہ اس سارے عرصے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی اورحق خودارادیت کی تحریک سے مکمل طور پر بیگا نہ رہی ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ افسوسناک اور شرمناک بات یہ ہے کہ اس سارے عرصے کے دوران تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ سے تعلق رکھنے والی یہ سیاسی جماعتیں جن میں حکمران جماعت اور اپوزیشن کی جماعتیں یکساں طور پر شامل ہیں۔ ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہیں جو تحریک آزادی کشمیر کے تقاضوں سے مکمل طور پر منافی ہیں۔
جب مقبوضہ کشمیر کے ہمارے بھائی اور بہنیں آزادی کےلئے اپنی جان مال اور عزتیں پیش کر کے مدد کےلئے تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ کے بھائیوں اور بہنوں کو پکار رہی تھیں،بیس کیمپ کی سیا سی جماعتیں انکی پکار پر لبیک کہنے کی بجائے یہاں علاقائی اور نسلی عصبیتوں کو ہوا دے رہی تھیں۔جب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوجیوں کے درندے ہماری ماوں، بیٹیوں اور بہنوں کی عصمتیں لوٹ رہے تھے ،آزاد کشمیر میں حکمران جماعت اور اسکے کارکنوں کو ان کی آہوں اور سسکیوں پر لبیک کہنے کی بجائے اپنی اپنی تجوریاں بھرنے کی فکر تھی اور اپوزیشن جماعتوں کو بس اس بات کی فکر تھی کہ حکمران جماعت کی طر ف سے قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں انہیں انکا حصہ نہیں مل رہا۔ (جاری)