اوباما کی تقریر

24 جون 2011
تقریباً دس سال تک عراق کے تپتے ریگستانوں کی دھول کھانے اور افغانستان کی ناقابل تسخیر پہاڑیوں کے ساتھ بے سود سر ٹکرانے کے بعد خون میں لت پت امریکی اب دہشت گردی کےخلاف نام نہاد جنگ کی بساط لپیٹنے کی بات کرنے پر مجبور ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ امریکہ کی چوتھی بین الاقوامی شکست ہے۔ 1950ءکی دہائی میں امریکہ شمالی کوریا کو صفحہ ہستی سے نہ مٹا سکا۔ ساٹھ کی دہائی میں ویٹ کانگوں نے امریکہ کو ناکوں چنے چبوائے، نوّے کی دہائی کی گلف وار بے نتیجہ رہی اور اب اکیسویں صدی کی دہشت گردی کےخلاف عراق اور افغانستان کے محاذوں پر امریکہ کی مکمل ہزیمت نوشتہ دیوار ہے۔ اس آخری جنگ میں امریکہ اور اتحادیوں کے تقریباً چھ ہزار سے بھی زیادہ لوگ لقمہ اجل بنے اور تیس ہزار سے بھی کہیں زیادہ زخمی اور معذور ہو گئے۔
امریکی سیکرٹری ڈیفنس نے چند دن پہلے ایک تقریر میں کہا کہ پچھلے چار سالوں میں امریکی سپاہیوں کی ہلاکت کے بعد لکھے گئے خطوط پر دستخط کرتے وقت وہ تقریباً ہر روز روتے رہے۔ اسکے علاوہ اب امریکہ نے یہ بھی تسلیم کر لیا ہے کہ عراق، افغانستان جنگوں میں اُن کا ایک ٹریلین ڈالرز سے بھی زیادہ مالی نقصان ہو چکا ہے۔ اب امریکی صدر اوباما نے اپنی مختصر تقریر میں کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کی حکمتِ عملی کو وہ آخری شکل تو شکاگو میں متوقع کانفرنس میں دینگے لیکن یہ بات انہوں نے واضح طور پر کہی کہ انخلاءاب شروع ہو جائےگا اور پہلی 10 ہزار امریکی سپاہیوں کی کھیپ اس سال امریکہ واپس چلی جائےگی اور انخلا 2014ءتک مکمل کر لیا جائےگا۔ انہوں نے کہا پاکستان کے تعاون کےساتھ القاعدہ کو ختم کر کے دم لیں گے۔ القاعدہ اب دباو کا شکار ہے جس کے ساتھ لڑائی بین الاقوامی سطح پر جاری رہے گی لیکن طالبان سے مذاکرات ہونگے اور جب تک دہشت گردی ختم نہیں ہوتی چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
قارئین! کاش کہ امریکی صدر اپنی تقریر میں دنیا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور بے چینی کی فلسطین سے کشمیر تک پھیلی ہوئی اصل وجوہات کا ذکر بھی کرتے پھر دیانتداری سے یہ بتاتے کہ اس سلسلے میں عراق سے افغانستان تک امریکہ نے کون سے بلنڈرز کئے جو وہ آئندہ نہیں کرینگے۔
عراق، افغانستان اور پاکستان میں لاکھوں بے گناہ لوگوں کے ماورائے بین الاقوامی قوانین قتال پر معافی مانگتے، اس جنگ میں پاکستان کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، ہوائی اور زمینی راستوں کے بے دریغ استعمال پر پاکستان کا نہ صرف تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے بلکہ 67.8 ارب ڈالر کے ہمارے مالی نقصان کو پورا کرنے کا وعدہ کرتے۔ اسکے علاوہ ہمارے 35 ہزار شہدا کے لواحقین کی اقوام متحدہ کی طرف سے مالی امداد اور معذور اور زخمیوں کےلئے بہترین علاج کی یقین دہانی بھی کرواتے۔
پاکستان کے تعاون کے ساتھ القاعدہ کو کمزور کرنے اور اسامہ بن لادن کو قتل کرنے کی بات تو انہوں نے کی لیکن پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں پاکستان کی پیٹھ میں چُھرا گھونپنے پر معافی نہیں مانگی جس پر پاکستانی قوم سراپا احتجاج ہے۔
افغانستان میں اتنی ہزیمت اٹھانے کے بعد اور پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لے جانے کے بعد بھی لگتا ہے امریکہ نے ابھی تک کوئی سبق نہیں سیکھا، اگر ایسا ہوتا تو امریکہ مندرجہ ذیل باتوں کا اعتراف کرتا۔
-1 امریکہ کا عراق اور افغانستان پر حملہ غیر ضروری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھا۔
-2 دہشت گردی کےخلاف جنگ سے القاعدہ کو تباہ کرنے، عراق سے WMD کا خاتمہ اور افغانستان کی حکومت، فوج اور پولیس کو مضبوط کر کے سوشل ریفارم کے اہداف امریکی بساط سے باہر تھے اور امریکہ اس میں مکمل ناکامی کا اعتراف کرتا۔
-3 امریکہ یہ بھی کہتا کہ افغانستان میں پُرامن فضا کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پاکستان کو اس میں کلیدی کردار نہیں دیا جاتا۔
-4 افغانستان میں ہندوستان کو گھسیڑ کر امریکہ نے اپنے حلیف پاکستان سے غداری کی چونکہ ہندو جاسوس امریکی مرضی کے بغیر افغانستان سے پاکستانی بلوچ اور ہماری قبائلی پٹی میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔
-5 پاکستانی افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کےخلاف مغربی پراپیگنڈا بلاجواز اور قابل مذمت ہے اور پاکستان کے اندر عسکری یا سیاسی کارروائی کرنے کےلئے پاکستان پر ”ڈو مور“ کی بے تکی رٹ نے پاکستانی حکومت اور افواج کو چند ایسی کارروائیوں سے بھی روکے رکھا جو شاید ضروری تھیں، چونکہ پاکستان کی حدود کے اندر امریکی دباو کے نیچے کی گئی کسی بھی کارروائی کو پاکستانی عوام حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔
-6 کاش کہ صدر اوباما اس بات کا اعتراف بھی کرتے کہ امریکی پالیسیوں نے پاکستان اور افغانستان کے لوگوں کے دل اور دماغ جتنے کی بجائے امریکہ کےخلاف حقارت میں اور اضافہ کیا جو امریکہ سمیت سارے ممالک کے فائدے میں نہیں تھا -7 امریکی صدر کو حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اس بات کا بھی اعتراف کرنا چاہیے کہ ماضی میں امریکی حاکموں نے پاکستان میں ڈکٹیٹروں اور کمزور کردار سیاسی وڈیروں کی ناجائز پشت پناہی کر کے اور ملکی سیاست میں گھس کر بے جا مداخلت کرتے ہوئے این آر او منظور کروا کر ریاستی سطح پر پاک امریکہ تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور اب بھی اگر سیاسی جوڑ توڑ سے وہ آئندہ پاکستان میں تابعدار حکومت کا تسلسل چاہتے ہیں تو یہ پاک امریکہ تعلقات کیلئے زہر قاتل ہو گا۔
قارئین امریکہ اگر یہ سبق رٹ لے تو فائدے میں رہے گا، پہلی بات یہ کہ پوسٹ امریکہ افغانستان کے ساتھ موثر روابط قائم رکھنے کیلئے پاکستان ہی ایک بہترین ذریعہ ہے، دوسرا یہ کہ پاکستان ہی امریکہ کے طالبان سے مذاکرات کروا سکتا ہے، تیسرا یہ کہ پاکستان ہی امریکی انخلا کو باعزت انخلا میں تبدیل کروا سکتا ہے اور آخری اور سب سے اہم یہ کہ 75 فیصد سے بھی زیادہ پاکستانی اپنی افواج پر نازاں ہیں۔ امریکہ پاک افواج کی تضحیک کر کے اپنے پاوں پر کلہاڑی نہ مارے۔ افغانستان میں پاکستان دوست حکومت کا قیام اب نوشتہ دیوار ہے دوستی کے اس رشتے کو مضبوط کرنے کیلئے ہمارے قبائلی بھائی کلیدی کردار ادا کریں گے۔