A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

اوبامہ کا افغانستان سے انخلاءاور طالبان سے مذاکرات کی امریکی پالیسی کا اعلان .... کیا ہمارے حکمرانوں کو قومی مفاد عزیز نہیں؟

24 جون 2011
امریکی صدر باراک حسین اوبامہ نے آئندہ ماہ جولائی سے افغانستان میں تعینات ایک لاکھ امریکی افواج کی مرحلہ وار واپسی کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سال جولائی سے دسمبر تک دس ہزار امریکی فوجی افغانستان سے ملک واپس آجائینگے جبکہ آئندہ سال 2012ءمیں مزید 33 ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلوالیا جائیگا اور باقیماندہ 66 ہزار امریکی فوجیوں کی 2014ءتک واپسی ہو جائیگی۔ گزشتہ روز وائٹ ہاﺅس سے براہ راست اپنے نشری خطاب میں انہوں نے کہا کہ 2014ءتک سلامتی کی تمام ذمہ داری افغان حکومت کو منتقل کر دی جائیگی۔ انکے بقول افغانستان میں ایک سیاسی حل کی ضرورت ہے جس کےلئے طالبان سے مذاکرات پر پیش رفت کی توقع ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ پاکستانی سرزمین پر شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں قابل برداشت نہیں‘ پاکستانی حکومت شدت پسندی کے خاتمہ کے بارے میں اپنے عزم کی پاسداری کرے۔ ہم اسکے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے‘ انہوں نے واضح کیا کہ طالبان اور دوسرے شدت پسند گروپوں کے ساتھ مذاکرات اور مصالحت کی کوششوں میں ہم شامل ضرور ہونگے مگر مذاکرات افغان حکومت ہی کریگی اور شدت پسندوں کے جو گروپ ان مذاکرات کا حصہ بننا چاہتے ہیں‘ وہ القاعدہ سے اپنے روابط ختم کر دیں۔
افغانستان میں تعینات نیٹو فورسز کی 2014ءتک مکمل واپسی کا شیڈول لزبن میں منعقدہ نیٹو سربراہی کانفرنس میں طے کیا گیا تھا‘ جس کے تحت آئندہ ماہ جولائی سے ہی نیٹو فورسز کے افغانستان سے انخلاءکا عمل شروع ہونا ہے۔ چونکہ نیٹو فورسز میں غالب حصہ امریکی فوجیوں کا ہے اور 2001ءکے خودساختہ امریکی نائن الیون کے بعد امریکہ نے ہی اس خطہ میں نیٹو فورسز کے ذریعے اپنے مفادات کی جنگ شروع کی جس میں دس سال تک کسی قسم کی پیش رفت نہ ہونے کے باعث امریکہ اقوام عالم اور اپنے عوام کے سخت دباﺅ کے باعث افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلاءکا سوچنے پر مجبور ہوا‘ اس لئے اب بھی امریکہ کی یہی کوشش اور حکمت عملی ہو گی کہ افغانستان سے واپسی کے عمل کے دوران اور مکمل انخلاءکے بعد بھی افغانستان کی حکومت و مملکت کے معاملات پر اسی کا کنٹرول رہے اس لئے اوبامہ کے اعلان کے باوجود یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اعلان کردہ شیڈول کے مطابق افغانستان سے امریکہ اور دوسرے نیٹو ممالک کی افواج کا انخلاءمکمل ہو جائیگا کیونکہ نیٹو کی لزبن سربراہی کانفرنس کے بعد بھی اب تک اعلیٰ امریکی حکام بشمول صدر اوبامہ کی جانب سے یہی عندیہ دیا جاتا رہا ہے کہ 2014ءکے بعد بھی امریکی افواج افغانستان میں موجود رہیں گی۔
افغانستان میں اس وقت عملاً ایک لاکھ 30 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جن میں سے 30 ہزار فوجی آنجہانی رچرڈ ہالبروک کی زیر نگرانی طے کی گئی نئی پاکستان افغانستان (افپاک) پالیسی کے تحت چند ماہ قبل ہی افغانستان بھجوائے گئے جبکہ ایک لاکھ امریکی فوجی پہلے ہی اس دھرتی پر مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کی مذموم کارروائیوں میں شریک تھے۔ چنانچہ اوبامہ کے اعلان کی روشنی میں اس سال دس ہزار امریکی فوجیوں کی واپسی محض لیپا پوتی اور دکھاوے کا عمل نظر آتا ہے اور امریکی افواج کی واپسی کا عمل اسی رفتار سے شروع کیا جائیگا تو شاید آئندہ دس سال تک بھی افغانستان سے امریکی فوجیوں کی مکمل واپسی ممکن نہ ہو پائے۔ چنانچہ غالب امکان یہی ہے کہ اوبامہ نے آئندہ سال 2012ءمیں ہونیوالے امریکی صدارتی انتخابات میں دوبارہ اپنی جگہ بنانے کیلئے امریکی عوام اور دنیا کو یہ لالی پاپ دیا ہے جبکہ انہوں نے یہ اعلان بھی یقیناً اسی تناظر میں کیا ہے کہ افغانستان کیلئے آئندہ کی حکمت عملی مئی 2012ءکو شکاگو میں منعقد ہونےوالی نیٹو سربراہی کانفرنس میں طے کی جائیگی‘ اس لئے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے مرحلہ وار انخلاءکا اعلان کسی بڑے مقصد کے حصول کی ریہرسل نظر آتا ہے جس کا عندیہ اس سے بھی ملتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنی نشری تقریر میں پاکستان کے بارے میں انتہائی سخت لب و لہجہ اختیار کیا اور تحکمانہ لہجے میں تقاضہ کیا کہ پاکستان شدت پسندوں کے خاتمہ کے بارے میں اپنے عزم کی پاسداری کرے بلکہ اپنی تقریر سے قبل انہوں نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے ٹیلی فونک رابطہ بھی کیا اور افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاءکے بارے میں امریکی حکمت عملی سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں یہ بھی واضح الفاظ میں باور کرایا کہ امریکہ شدت پسندوں کیلئے محفوظ پناہ گاہوں کو کسی صورت برداشت نہیں کریگا چنانچہ پاکستان میں موجود شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کےخلاف اپریشن بھی دہشت گردی کیخلاف ہماری جنگ کا حصہ ہے۔ اسکے جواب میں صدر زرداری نے بھی انہیں یقین دلایا کہ یہ جنگ ہماری اپنی ہے جو دہشت گردی کے خاتمہ تک جاری رہے گی۔
بے شک صدر اوبامہ نے اس جنگ میں پاکستان کے اب تک کے کردار کی ستائش کی‘ اسکے باوجود انکے عزائم پاکستان کو مسلسل دباﺅ میں رکھنے والے ہی نظر آتے ہیں۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ امریکہ خود تو افغانستان سے اپنی فوجوں کی محفوظ واپسی کےلئے طالبان سمیت تمام شدت پسند گروپوں سے مذاکرات کا عمل شروع کر چکا ہے اور صدر اوبامہ کے خطاب سے ایک روز قبل امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اسکی تصدیق بھی کر چکے ہیں کہ امریکہ افغانستان میں موجود طالبان کے ارکان سے بات چیت کر رہا ہے مگر وہ پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر طالبان کے ساتھ برسرپیکار ہی رکھوانا چاہتا ہے۔ اگر پاکستان طالبان کے ساتھ امریکی مذاکرات کے نتیجہ میں امریکی افواج کے افغانستان سے پرامن انخلاءکا عمل شروع ہونے کے دوران بھی اور انخلاءمکمل ہونے کے بعد بھی امریکی ایجنڈے کے تحت شدت پسندوں کےخلاف اپریشن جاری رکھتا ہے‘ جس کا صدر زرداری امریکی صدر اوبامہ کو یقین بھی دلا چکے ہیں‘ تو اسکے نتیجہ میں ہمارے ملک میں بدامنی اور دہشت گردی اور خودکش حملوں کی وارداتوں میں مزید اضافہ ہو جائیگا کیونکہ امریکہ کے جانے کے بعد طالبان امریکہ کا انتقام بھی ہم سے لیں گے اور اگر کل کو افغانستان میں طالبان کے پھر اقتدار میں آنے کی راہ ہموار ہوتی ہے تو ہمارے ساتھ طالبان حکومت کا رویہ شاید کرزئی حکومت سے بھی بدتر ہو گا‘ اس لئے امریکی مفادات کی یہ جنگ جسے صدر زرداری پاکستان کی اپنی جنگ قرار دیکر اسے جاری رکھنے کے عزم کے اظہار کر رہے ہیں۔ درحقیقت ہماری مکمل تباہی و بربادی کی جنگ ہے۔ امریکی صدر تو افغان جنگ میں اپنے پندرہ سو فوجیوں کی ہلاکتیں بھی برداشت نہیں کر پا رہے اور مزید ہلاکتوں سے بچنے کیلئے طالبان سے مذاکرات کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں مگر ہمارے حکمرانوں کے دل اس جنگ میں ہماری سیکورٹی فورسز کے پانچ ہزار ارکان سمیت کم و بیش 40 ہزار شہریوں کا خون ناحق بہنے اور ملک کی معیشت برباد ہونے پر بھی نہیں پسیج رہے اور وہ امریکی خوشنودی کی خاطر اس جنگ کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کئے جا رہے ہیں اور صدر اوبامہ کو اس کا یقین بھی دلا رہے ہیں۔ چنانچہ آخری دہشت گرد کے مارے جانے کے انتظار میں ہمارے حکمران شاید پورے ملک کو قبرستان میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں‘ پھر کیا وہ قبرستان پر مجاور بن کر حکمرانی کرینگے؟
اس تناظر میں ہمارے قومی مفادات کا یہی تقاضہ ہے کہ امریکی نیٹو افواج سے افغان سرزمین کو جلد از جلد خلاصی دلانے کی حکمت عملی طے کی جائے اور امریکہ پر واضح کیا جائے کہ اس خطہ میں اسکی موجودگی تک علاقائی‘ عالمی اور خود امریکہ کے امن کی بھی ضمانت نہیں دی جا سکتی اس لئے وہ جتنی جلد ممکن ہے‘ اپنا بوریا بستر سمیٹ کر یہاں سے واپس چلا جائے اور ہمیں ڈکٹیشن دینے والی پالیسی ترک کر دے۔ اسکے ساتھ ساتھ امریکہ کو ڈرون حملے بند کرنے پر بھی مجبور کیا جائے‘ بصورت دیگر پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد پر عملدرآمد کرتے ہوئے ڈرون گرانے اور نیٹو کی سپلائی بند کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے۔ یہ عوام کا مزید خون ناحق بہنے سے روکنے کے علاوہ ملک کی سلامتی کا بھی سوال ہے‘ جس پر کسی قسم کی مفاہمت کا ملک متحمل نہیں ہو سکتا اس لئے ہمارے حکمران پرائی جنگ کو اپنی جنگ قرار دینے کی سوچ سے اب رجوع کرلیں‘ ورنہ امریکہ تو اسکی آڑ میں ہمیں تہس نہس کرنے کی پوری منصوبہ بندی کئے بیٹھا ہے۔
شہباز شریف کا بیرون ملک اثاثے پاکستان لانے کا خوش آئند اعلان
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے جلاوطنی کے دوران بیرون ملک سرمایہ کاری سے بنے ہوئے اثاثے واپس لانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان اثاثوں کی مالیت تین کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے۔
زمین کی اتھاہ پستیوں کی طرف لڑھکتی معیشت کا بنیادی المیہ یہ نہیں کہ امن و امان کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر بیرونی سرمایہ کاری رک گئی ہے یا سرکاری عمال کرپشن کی علتِ میں اس طرح مبتلا ہو چکے ہیں کہ سرمایہ کار پاکستان کا رخ کرنے سے ڈرتے ہیں بلکہ دل کو رونے اور جگر کو پیٹنے کا المیہ یہ ہے کہ سیاستدانوں نے لوٹ مار کی جمع پونجی کو بیرون ممالک منتقل کیا ہوا ہے، ان کے اثاثے سوئس بنکوں میں پڑے ہیں، 6 جون کو قومی اسمبلی میں بیرون ممالک اثاثے رکھنے والے 27 ارکان پارلیمنٹ کی فہرست پیش کی گئی تھی جس میں 10 سینٹرز اور 17 ایم این اےز شامل ہیں جن کے بیرونی ممالک میں اثاثے کھربوں میں ہیں۔ اگر یہ سیاستدان محب وطن ہونے کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے خود پاکستان میں سرمایہ کاری کریں تو یقین جانئے بیرونی سرمایہ کار بھاگتے پاکستان آئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو چاروں موسموں سے نواز ہے اور زرخیز مٹی عطا کی ہے۔
لیکن جگر لالہ میں ٹھنڈک اور ناامیدی کے اس جھرمٹ میں روشنی کی کرن پیدا کرنےوالی خبر ہے کہ میاں شہباز شریف نے بیرون ممالک سے اثاثے پاکستان لانے کا اعلان کر دیا ہے‘ انکے اس فیصلے کے تحت برطانیہ میں موجود انکے اثاثوں کی فروخت شروع ہو چکی ہے۔ یہ وہ اثاثے ہیں جو انہوں نے پرویز مشرف کی طرف سے جلاوطنی کے دوران بنائے تھے‘ ان میں 18 فیصد انکی ذاتی سرمایہ کاری ہے جبکہ باقی ماندہ رقم قرضوں پر مشتمل ہے۔ سیاستدانوں کو میاں شہباز شریف کے جذبے کی تقلید کرنی چاہئے اور اپنے کاروبار اور اثاثوں کو فی الفور پاکستان لانا چاہئے، یقین جانئے جس دن ہمارے سیاستدانوں نے خلوص نیت سے پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کا فیصلہ کر لیا اس دن دنیا کی کوئی طاقت اس کو پھلنے پھولنے اور خوشحال بننے سے نہیں روک سکے گی۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری سے لےکر 27 ارکان پارلیمنٹ کو میاں شہباز شریف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے اثاثوں کو فی الفور پاکستان لانے کا اعلان کرنا چاہئے۔
ماروی میمن کا جرات مندانہ فیصلہ
ق لیگ کی حکومت میں شمولیت پر ماروی میمن نہ صرف اسمبلی سے بلکہ پارٹی سے بھی مستعفی ہو گئیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ق لیگ نے حکومت میں شامل ہو کر قومی امنگوں کی نفی کی، ضمیر کے خلاف نہیں جا سکتی، ماروی میمن، صالح جرات کی پیکر ہیں، وہ ایک زندہ ضمیر اور قلبِ بیدار رکھتی ہیں، اس لئے وہ قیادت کی غلطی کی پیروی کرنے سے دور ہٹ گئیں۔ اُن میں جو جرات رندانہ ہے، اُس کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ قوم اُنہیں پہچاننے میں غلطی نہیں کرےگی۔ خورشید شاہ اور فیصل صالح حیات نے ماروی پر جو نکتہ چینی کی ہے اُس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ماروی نے جو کیا ٹھیک کیا، کیونکہ ان دونوں کو کون نہیں جانتا، لوگ کہتے ہیں قیادت کا فقدان ہے، ہم کہتے ہیں کہ ماروی میمن نے اس تاثر کو مٹا دیا ہے۔ جو اقدام انہوں نے کیا ہے، اس کا مسلم لیگ نون نے بھی خیرمقدم کیا ہے، کیا یہ ممکن نہیں کہ قوم اس وقت گوناگوں مشکلات میں الجھ چکی ہے، اُسکے شب و روز گویا جہنم میں کٹ رہے ہیں، اگر میمن ماروی لوگوں کو پاکستان کو غربت اور امریکہ کی دلدل سے نکال سکتی ہیں، تو اب اُنکے دونوں ہاتھ آزاد ہیں، وہ اللہ کا نام لے کر محروموں کی فوج ظفر موج کی قیادت شروع کر دیں۔ مسلم لیگ ق ایک مستقل سیاسی جماعت تھی، مگر اب اقتدار میں شامل ہو کر اُس نے ثابت کر دیا کہ وزارت کے سوا اُسکے کوئی سیاسی آدرش نہیں، اُسے بس حکمرانی چاہئے، چاہے وہ قاتل لیگ کہلوا کر بھی ملے۔ درویشی و سلطانی عیاری کی نذر ہو چکی ہے، اور ملک کو ایک ایسی نڈر صاحب بصیرت قیادت کی ضرورت ہے، جو یہ مہنگائی ختم کر دے، لوڈ شیڈنگ کا مداوا کرے، امریکہ سے نجات دلائے، ملکی وسائل کو بروئے کار لائے اور عوام کی طاقت کو لے کر چلے۔