بنام سپہ سالارِ پاکستان

24 جون 2011
مکرمی! جنابِ سپہ سالار اس وقت ہمارے ملک میں صرف دو ہی ادارے ایسے باقی رہ گئے ہیں جن سے عوام کو بہتری کی امید ہے وہ دو ادارے عدلیہ اور افواجِ پاکستان کے ہیں۔ تاہم ریمنڈ ڈیوس کیس اور ایبٹ آباد آپریشن کے بعد فوج نے عوام کی نظروں میں اپنی وہ اہمیت کھودی ہے جو اس کو پہلے حاصل تھی۔ بہرحال عسکری قیادت نے آپریشن کے بعد جو بیان دیا ہے وہ کافی حوصلہ افزا ہے لیکن ! آپ کا یہ کہنا کہ ” آئندہ اس قسم کی کوئی کارروائی ہوئی تو امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرِ ثانی کریں گے“ نے ہمیں مزید تشویش میں مبتلا کردیا ہے کہ اس کارروائی کے بعد بھی ہمیں امریکہ پر اعتماد ہے کہ وہ دوبارہ ایسی حرکت نہیں کرے گا یا ہم کسی اور کارروائی کا انتظار کررہے ہیں جو ہوتو پھر ہم ان سے تعلقات پر نظر ثانی کریں۔ ہم ان کے اتحادی ہیں لیکن انہوں نے ہمیں بتانے کی زحمت اس لئے نہ کی کہ آپریشن ناکام ہوجائے گا۔ ہم امریکہ کے کیسے دوست ہیں کہ دشمنوں کی طرح اس کی نظر ہمیشہ ہمارے ایٹمی اثاثوں پر لگی رہتی ہے ۔لوگ کہتے ہیں کہ اگر امریکہ ہماری امداد روک دے گا تو ہماری معیشت تباہ ہوجائیگی تو سوال یہ ہے کہ اب جب امریکہ ہمیں امداد دے رہا ہے تو ہماری معیشت کون سی بلندیوں کو چھو رہی ہے؟ ہمارے ملک میں کتنے فیصد لوگوں کو روزگار میسر ہے؟ کتنے فیصد لوگ خوشحال زندگی گزار رہے ہیں؟ امریکی امداد اب بھی تو ہمارے حکمرانوں کے الّلے تلّلوں میں ہی خرچ ہورہی ہے اس سے ملک کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے کیا 16بلین ڈالر کی امداد ہمارے تیس ہزار سویلینز اور ہزاروں فوجیوں کی جانوں سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے؟ ہم لوگ روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کرسکتے ہیں لیکن براہِ کرم ہماری غیرت کو مت بیچیں۔ بقول اقبال....
اے طائرِ لا ہوتی اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
ہمارے ملک میں بے پناہ وسائل ہیں ہمیں کسی امداد کی ضرورت نہیں۔اگر ہم ایران کی مثال سامنے رکھیں وہ القاعدہ یا طالبان کی حمایت بھی نہیں کرتا اور امریکہ کے سامنے بھی ڈٹ کر کھڑا ہے۔ اگر ہم صرف ایک دن کے لئے بھی نیٹو کی سپلائی لائن روک دیں تو ساری امریکی حکومت ہماری منتیں کر رہی ہوتی ہے بس صرف آپ کے سٹینڈ لینے کی دیر ہے اگرآپ میری ان گزارشات پر غور کریں تو آپ ضرور حقیقت کے قائل ہوجائیں گے ورنہ آنے والے چند سال شاید آپ کو جنرل(ر) حمید گل کی یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور کردیں کہ امریکہ کے لئے القاعدہ بہانہ، افغانستان ٹھکانہ اور پاکستان نشانہ ہے۔
(تحریر: تحریم النساءجماعت دہم)

بنام بابا رحمتا

بحیثیت طالب علم گْو کہ راقم کسی وسیع مطالعہ کا دعویٰ نہیں کر سکتا لیکن علم کا ...