حضرت پیر سیدجماعت علی شاہ لاثانیؒ علی پور سیداں

24 جون 2011
مکرمی! حضرت پیر سیدجماعت علی شاہ لاثانیؒ مادر زاد ولی تھے۔ جب آپ کی عمر پانچ سال ہوئی تو آپ کے والد گرامی نے آپ کو تحصیل علم کیلئے گاﺅں میں ہی مولوی عبدالرشید کے پاس چھوڑ آئے۔ قرآن کریم، حدیث شریف، فقہ و تصوف کی تعلیمات سے بہرہ ور ہوئے۔ جب فارغ التحصیل ہوئے تو اس وقت آپ کا عین عالم شباب تھا۔ شب و روز محویت کے عالم میں رہتے۔ خلوت کو عزیز رکھتے یہی وجہ تھی کہ اکثر تلاش حق کیلئے اہل اللہ کے مزارات اقدس پر تشریف لے جاتے۔ کوئی اندرونی جذبہ ہمہ وقت آپ کو بے قرار رکھتا۔ آپ کا اکثر وقت خواجہ شمس العارفین شمس الدین سیالویؒ اور مرزا سکندر بیگ نقشبندی مجددی کی معیت میں گزرتا۔ جوں جوں آپ کی عمر مبارک بڑھتی گئی آپ کا روحانی ذوق و شوق اور جذبہ عشق الٰہی محبت رسول سے بڑھتا ہی چلا گیا۔ اولیا اللہ کی معیت نے آپ کے جستجوئے حق کو جلا بخشی آپ نے فیصلہ کیا کہ اب دریا کا انتخاب ہوجانا چاہئے۔ رہبر کامل کی تلاش میں چورہ شریف کئی ایک بار ہوآئے تھے۔بالآخر آپ نے حضرت خواجہ خواجگان فقیر محمد چوراہیؒکے دست حق پرست پر بیعت کر لی۔بروز یک شنبہ 16 شعبان1358 ہجری المقدس مطابق یکم اکتوبر1939ءکو حضور قبلہ لاثانیؒ اس ذات کے نعرے لگاتے ہوئے فنا فی الذات ہو گئے۔
(علامہ حافظ ذوالفقار حیدر جماعتی)