گرمی اور ٹریفک وارڈنز

24 جون 2011
مکرمی! آج کل گرمی کا موسم ہے اور انسان کے ساتھ ساتھ چرند پرند بھی پریشان ہیں لیکن حیرت ہے کہ سب سے زیادہ گرمی ہمارے نوجوان فرض شناس ٹریفک وارڈنز کو لگتی ہے۔ ہر روز صبح میرے ساتھ ہزاروں لوگ جو ٹریفک کے اژدھام سے نمٹتے ہوئے اپنی اپنی منزل کیطرف رواں دواں ہوتے ہیں دیکھتے ہیں کہ تقریباً ہر ٹریفک سگنل پر کم از کم 3-2 وارڈنز موجود ہوتے ہیں لیکن سگنلز سے کچھ دور چھاﺅں میں حالانکہ حکومت اور محکمے نے انہیں چھتریوں سے بھی نواز رکھا ہے۔اشارے کھلنے یا بند ہونے پر موٹر سائیکل، رکشے اور کاریں آپس میںٹکرا رہی ہوتی ہیں انہیں کوئی سروکار نہیں، اگر کسی نصیب ہارے کو ہاتھ دیکر روک لیا گیا ہے تو اسکے اردگرد ایسے جمع ہو جاتے ہیں جیسے اس نے گھناﺅنا جرم کیا ہے، ہاں گرمی سے بچیں ضرور بچیں لیکن یہ بھی دیکھیں اور سوچیں کہ رب ذوالجلال نے روزی کیلئے جو ذریعہ عنایت کیا ہے اس کا پاس بھی ہو رہا ہے یا نہیں۔
(رانا ذوالفقار علی0315-4030187)