مفاہمت میں مزاحمت اور مزاحمت میں مفاہمت

24 دسمبر 2009
ہر طرف تصادم کی باتیں سنائی دے رہی ہیں تو اب تدبر کی بات بھی سنو، ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ میں ہوں تو اداروں میں لڑائی نہیں ہونے دوں گا، میرے ساتھ کوئی نہ تھا مگر میں عدالت میں جا کے کھڑا ہو گیا۔ وہ سمجھتا ہے کہ تین ادارے سول سوسائٹی کو زندہ کر دیں گے، طاقتور پارلیمنٹ ہو آزاد عدلیہ ہو اور ایگزیکٹو اتھارٹی افیکٹو ہو میں بھلائی کیلئے لڑائی کروں گا۔ یہ باتیں کرتے کرتے ڈاکٹر بابر اعوان نے یہ بھی کہہ دیا کہ ”اصلی“ پیپلز پارٹی والے وہی بوڑھے ہیں جو بھٹو کو چھوڑ گئے تھے یا جن سے بھٹو نے جان چھڑا لی تھی۔ انہیں بے نظیر بھٹو نے انکل کہہ کے مسترد کر دیا۔ یہ چلے ہوئے کارتوس ہیں تو پھر ان میں بارود کون بھر رہا ہے جن کی لیڈر غنویٰ بھٹو ہے تو وہ کس طرح کے پیروکار ہونگے۔ ان کا اشارہ ڈاکٹر مبشر حسن اور حفیظ پیرزادہ کی طرف ہے۔ ڈاکٹر بابر اعوان کے تدبر میں تصادم ہے اور تصادم میں تدبر ہے۔ مگر کیا راجہ ریاض اور تسنیم قریشی بھی اسی پیپلز پارٹی میں ہیں جس میں بابر اعوان ہیں۔ راجہ صاحب نے جس لاش کے لئے پنجاب میں آنے کی بات کی ہے ان کے بہت قریب کے دوست نے کہا ہے کہ میرا نام نہ بتا¶ تو بتا¶ں کہ راجہ صاحب کا اشارہ نواز شریف کی طرف ہے۔ میں نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا کہ پھر یہ بات نہ کرنا۔ پہلے تو راجہ صاحب ایسے نہ تھے؟ فوزیہ وہاب نے کہا کہ پنجاب کی لاشوں کی بات کرنے والا دوست نہیں ہو سکتا میں نے کل کے کالم میں اپنے انہی دوست نما دشمنوں کا ذکر کیا تھا۔ علی وہاب نے انصار عباسی کی موت کی خواہش میں موبائل پیغام بھیجا جس کے لئے معذرت فوزیہ وہاب نے کی۔ رانا آفتاب احمد کے لئے میرے دل میں اچھی کیفیت ہے شاید وہ رانا ثناءاللہ کے رشتہ دار ہیں۔ رانا صاحب ہر وقت غصے میں ہوتے ہیں وہ وزیر بن کر بھی وہی ہیں جو ڈپٹی اپوزیشن لیڈر ہوتے ہوئے تھے وہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے لئے جو کچھ کہتے ہیں اس کے بعد تو اسے اب تک پنجاب کا گورنر جنرل ہو جانا چاہئے تھا۔ جنرل کا لفظ جنرل مشرف کی یاد دلاتا ہے وہ صدر زرداری کا سیاسی آرمی چیف ہے۔ رانا آفتاب احمد نے کہا کہ اب ہم کسی کو ایوان صدر کی طرف دیکھنے نہیں دیں گے جو دیکھے گا اس کے ہاتھ توڑ دیں گے۔ کیا لوگوں کی آنکھیں اب ان کے ہاتھوں میں آ گئی ہیں۔ فرزانہ راجہ کے بقول صدر زرداری کا حق ہے کہ وہ تاحیات صدر زرداری بن جائیں یہ خیالات صرف پیپلز پارٹی والوں کے ہی نہیں مسلم لیگ ن کی تہمینہ دولتانہ کہتی ہے کہ ہم چاہیں تو دو منٹ میں حکومت ختم کر سکتے ہیں۔ ان کی اپنی حکومت کے دو بار ختم ہونے میں دو منٹ لگے تھے وہ کہتی ہے کہ حکومت کرنا نواز شریف کا حق ہے۔ ہم تو سمجھتے تھے کہ حکومت کرنا عوام کا حق ہے۔ تہمینہ کو وزیر بننے کا شوق بہت ہے اور یہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ نواز شریف کی حکومت ہو۔ اس نے بھی صدر جنرل مشرف سے وزارت کا حلف لیا تھا جس نے نواز شریف کی حکومت توڑی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ اب بھی نواز شریف کی حکومت کسی نہ کسی طرح ہے۔ رحمن ملک ہائی کورٹ لاہور گئے عدالت نے ریلیف دیا تو بہت جوش و خروش سے باہر آئے۔ ”میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا“ عدالتوں پر ہمارا ایمان ہے۔ اگر عدالت میں میرے خلاف کچھ بھی ثابت ہو گیا تو مستعفی ہو جا¶ں گا۔ استعفیٰ کا مطالبہ عدالت نے تو ان سے نہیں کیا۔ اس موقعے پر ریاض شیخ کی خوشی کیمرے کی آنکھ میں بھی سنبھالی نہیں جا رہی تھی۔ محترمہ ثمینہ ریاض نے رحمن ملک کو مبارکباد دی ہے تحمل اور تدبر سے معاملات کو سلجھایا جا سکتا ہے۔ یہ اچھی بات ہے سیاستدانوں کو سنبھلی شخصیت کا مالک ہونا چاہئے۔ وزیر داخلہ کو اپنے وزیر مملکت کو سمجھانا چاہئے۔ تسنیم قریشی پنجاب میں سندھ کارڈ کی بات کرتے ہیں کیا بے نظیر بھٹو سندھ کی لیڈر تھی اور زرداری صاحب صرف سندھ کے صدر ہیں۔ صدر پاکستان کے لئے سندھ کارڈ کی بات غیر سیاسی ہے۔
شہباز شریف اور مخدوم گیلانی کی ملاقات میں نظام کو مل کر بچانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایوان صدر کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ شریف برادران نے صدر زرداری کے استعفیٰ پر زور نہ دینے کا یقین دلایا ہے۔ اس بات پر صدر زرداری اور اس کے حواری کیسے یقین کریں گے۔ اب تو مخدوم گیلانی دونوں کے لئے ناقابل اعتبار نہیں رہے۔ مخدوم گیلانی نے کھلم کھلا صدر زرداری کی تابعداری کا اعلان دیر سے کیا ہے۔ اس سے ایوان صدر کو نقصان ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم پاکستان کی مفاہمت کے باوجود دونوں روایتی حریف پارٹیوں میں مزاحمت بڑھ رہی ہے۔ مفاہمت میں مزاحمت ہوتی ہے اور مزاحمت میں مفاہمت ہوتی ہے مگر ہم غور نہیں کرتے۔ فرینڈلی اپوزیشن لیڈر چودھری نثار نے کہا ہے کہ صدر زرداری سے استعفیٰ نہ مانگنے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ یہاں کس کی ضمانت ضبط ہونے کا خطرہ ہے چودھری نثار اپوزیشن لیڈر کے بعد لیڈر بننے کی سازشوں کا شکار ہے۔ احسن اقبال نے کہا ہے کہ استعفیٰ نہ مانگنے کا معاملہ مشروط ہے۔ معاہدے شرطوں میں پھنس جائیں تو اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ میثاق جمہوریت کو بھی اعتماد کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ احسن اقبال بھی ان لوگوں میں شامل ہے جو جنرل مشرف سے حلف لے کر وزیر ہوئے تھے۔ اب نجانے چودھری نثار اور احسن اقبال کی شرطیں کیا ہونگی۔ اس کے بعد شہباز شریف اور مخدوم گیلانی کی ملاقات کا کیا فائدہ؟ نواز شریف یہ کہہ کر لندن چلے گئے کہ میں صدر زرداری کے نظام کو بچانے کے لئے دیوار بن جا¶ں گا۔ میرا خیال ہے کہ سایہ دیوار پاکستان میں نہ تھا اب آ گئے ہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ وہ یہاں کس کے سائے میں بیٹھتے ہیں۔ یہ وہی دیوار ہے کہ جس کے لئے ہماری طالب علمی کے زمانے میں سیاسی تصادم کے دوران یہ نعرہ بہت مقبول ہوا تھا۔ ”گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو“، کس کو معلوم ہے کہ اس دیوار پر چڑھ کے کون بیٹھا ہے۔ شاید دونوں بیٹھے ہیں۔