چودھری جی جان دیو!

24 دسمبر 2009
کیا آپ میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ بلیاں حج کرنے کہاں جاتی ہیں محاورہ تو بہت پرانا ہے کہ ”نو سو چوہے کھا کے بلی حج نوں چلی؟“ یعنی نو سو چوہے کھا کر انہیں ہضم کرکے بلی حج کرنے جا رہی ہے یہ تو ظاہر ہے کہ وہ اپنے دامن کے چوہوں کے خون سے آلودہ ہونے کا احساس تو رکھتی ہے مگر ان معصوموں کو کھا جانے کا گناہ بخشوانے کے لئے بلی حج کرنے کہاں جایا کرتی ہے؟ ہمارا خیال تھا کہ علماءکرام کے امور داخلہ کے وزیر رحمان ملک کو لازماً معلوم ہو گا ہم کوشش کرنے کا بھی ارادہ رکھتے تھے ان سے رابطہ کا۔ پھر خیال آیا کہ اس سے ان کا قیمتی وقت ضائع ہو گا حضرت اور مولانا فضل الرحمن بھی اس خالص دینی نوعیت کے سوال کا جواب دے سکتے ہیں لیکن سنا ہے ان سے کسی سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے تو سید یوسف رضا گیلانی کو بھی صدر پاکستان سے سفارش کروانی پڑتی ہے یعنی این آر او کے گدی نشین سے۔ ہم تو ان سے سفارش نہیں کرا سکتے اگر آپ میں سے کسی کو معلوم ہو کہ چوہوں کا خون بہانے اور انہیں کھا پی جانے والی بلیاں کس کے گھر کا طواف کیا کرتی ہیں تو براہ کرم مطلع فرماویں کہ چاروں طرف بلیوں کے ممیانے کا شور ہے اذان بھی کان نہیں پڑتی چوہوں کے بعد وہ انسانوں کی جان کے بھی درپے ہو رہی ہیں موٹی موٹی بلیوں کے غراتے ریوڑوں سے جان بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کی منت کی جائے کہ جاﺅ ایک مزید حج کر آﺅ۔ مگر کہاں کے طواف کی درخواست کی جائے ان بلیوں سے؟ ایوان صدر کے؟ نہیں نہیں وہ تو چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر پارٹی کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ ہمارے ملک کا ایک عدد صدر تو ہے مگر ایوان صدر کوئی نہیں۔ اللہ ہماری جمہوریت کے صدر کو کوئی ایوان بھی عطا فرمائے تاکہ وہ اپنی صدارت کی بھی دیکھ بھال کر سکیں اور وہاں وہ جو ایک اور محاورہ ہوتا تھا کہ ”لاہ لئی لوئی تے کیہہ کرے گا کوئی“ یعنی جو کوئی شرم و حیا کا پیراہن اتار پھینکے اس کا کوئی کیا بگاڑ لے گا؟ اسے کوئی کیسے سمجھا سکتا ہے کہ شرم کرو لوگ کیا کہیں گے۔ وہ محاورہ انسانوں کے لئے ہے یا بلیوں کے لئے ہے؟ انسان تو کوئی ایسا کر ہی نہیں سکتا۔ کر سکتا ہے کوئی انسان ایسا؟ نہیں انسان تو کوئی بے شرمی کا ننگا ناچ نہیں ناچ سکتا۔ ہاں بلیاں ناچ سکتی ہیں کہ نو سو چوہے جو کھانا ہوتے ہیں تاکہ حج کی شرط پوری ہو جائے۔ ایک اور محاورہ ہوتا تھا کہ ”اک ہووے پاگل تے سمجھا لے گا وہڑا۔ وہڑا ہووے پاگل تے سمجھائے کہڑا“ یعنی اگر کوئی ایک ایسا پاگل ہو جو اپنے باپ دادا کی عزت و آبرو اور نام و ناموس کی لوئی پھینک کر ننگا ہو جائے تو اسے محلے والے سمجھا لیں گے کہ ایسا نہ کرو اپنے خاندان کا ہی احترام کرو لیکن اگر محلے والے سب ہی ایسا کرنے لگیں تو انہیں کون سمجھائے گا؟ چیف جسٹس آف پاکستان؟ اور ان کے سولہ ساتھی جج صاحبان؟ جہاں ”بے شرموں کے جانثار لکھ ہزار لکھ ہزار“ والی صورت احوال ہو وہاں بے چاری عدلیہ اور اس کی آزادی کیا کر لے گی؟ جب اس کی آزادی کے علمبرداروں اور جانثاروں کی اپنی پیشہ ورانہ آزادی بھی حارث سٹیل مل والوں کے کروڑوں کے الزامات کی زد میں ہو۔ ویسے ان عدل و انصاف کے علمبرداروں کی پیشہ ورانہ ضروریات پر کروڑوں نچھاور کر دینے والے شیخ سے یہ نہیں پوچھا جا سکتا کہ ان کا تو یہ پیشہ ہے تم ایسا کیوں کرتے رہے ہو؟ مال مفت دل بے رحم؟ لٹ مچاﺅ مال بناﺅ اور کپڑے لاﺅ؟ اس سے برا پیشہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ مگر ہو سکتا ہے اس شیخ پر ایسے پیشہ کا احترام بھی قانون پر فرض ہو۔ قانون دیاں رمزاں تو اس کے صدر مکرم جیسے محافظ اعلیٰ ہی جانتے ہیں یا ان کے کوئی چودھری شوہدری جانتے ہوں گے۔ ہم تو محاوروں کے بارے میں بھی کافی ناسمجھ واقع ہوئے ہیں قانون تو بڑی اونچی اور مقدس چیز ہے۔ باندھ سکتا ہے اس کی لنگوٹی بنا کر کوئی ننگا؟ قانون نہ ہوا جمہوریت ہو گئی۔ جو لنگوٹی ہی بنی آ رہی ہے نصف صدی سے قائدین و عوام و خاص کی۔ خون چوس خونخوار بھی اور لنگوٹی بھی۔ وہ جمہوریت کس کی لنگوٹی ہوتی تھی وہی جس کے قائد نے پاکستان اپنی جمہوریت کی تلوار سے دو ٹکڑے کر دیا تھا؟ مگر نہیں جمہوریت گنجی ہو کانی ہو لولی ہو لنگڑی ہو لنگوٹی ہو یا پیٹو ہو یا عوام کو بھیڑ بکریوں کی مانند ہانکنے والی ڈانگ ہو اس کا احترام سب پر لازم ہے۔ حکمران برادران کے سے خلوص خدمت کے احترام کی مانند۔ عدل و انصاف کے چیف سے ہماری درخواست ہے کہ وہ بھی اس مظلومہ کا خیال کریں اور عدل کا کھنگورا ذرا آہستہ مارا کریں۔ ....
چودھری جی جان دیو۔جمہوریت نوں کھان دیو
کم ایہہ ثواب دا اے۔تہاڈا کیہہ گواچ دا اے
جمہوریت دے لاڑیاں نوں۔راج دے دلاریاں نوں
خون شون پین دیو۔این آر او حلوہ کھان دیو
کھان ایہہ ثواب دا اے۔تہاڈا کیہہ گواچ دا اے
تھانیاں کچہریاں چ۔این آر او دی ستائی اے
وردی شاہ تے سام جی نے۔رل مل بنائی اے
سب نوں کمان دیو۔حلوہ پوڑی کھان دیو
چودھری جی جان دیو۔جمہوریت نوں کھان دیو
کھان ایہہ ثواب دا اے۔تہاڈا کیہہ گواچ دا اے