پاکستان اور تاجکستان نے دفاعی تعاون کی یادداشت پر دستخط کر دئیے

24 دسمبر 2009
راولپنڈی (اے پی پی) پاکستان اور تاجکستان نے خطے کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کےلئے دوطرفہ تعاون بڑھانے اور تجارت، دفاع اور معیشت کے شعبوں میں قریبی تعاون کے فروغ کےلئے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے وزیر دفاع چودھری احمد مختار اور تاجک وزیر دفاع کرنل جنرل خیرلیوف شیر علی کے درمیان یہاں ملاقات میں طے پایا۔ احمد مختار نے کہا کہ مستحکم اور پرامن افغانستان پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور تاجکستان کو افغانستان میں دیرپا امن و استحکام کے فروغ کےلئے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ احمد مختار نے مسئلہ کشمیر پر تاجکستان کے موقف کو بھی سراہا اور پاکستان کے دفاعی اداروں میں تاجکستان کے فوجی حکام کےلئے نشستوں کی پیشکش کی۔ اس موقع پر تاجک وزیر دفاع نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور فروغ دینے کےلئے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی بے پناہ گنجائش ہے اور مطلوبہ مقاصد کے حصول کےلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ بعد میں دونوں وزرا دفاع نے دفاعی تعاون کےلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے۔