بلوچ قومیت پرستوں نے کمزور سیاسی اسٹیبلشمنٹ کا پیکیج یک زبان ہو کر مسترد کردیا

24 دسمبر 2009
اسلام آباد (بی بی سی ڈاٹ کام) اسلام آباد کی ایک کمزور سیاسیاسٹیبلشمنٹ ‘ نے جس نیم دلی اور کافی تاخیر کے بعد دوستی کا جو ہاتھ بلوچستان کے عوام کی طرف بڑھایا ہے اسے بلوچ قوم پرستوں نے یک آواز ہو کر مسترد کر دیا ہے۔ بی بی سی ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان اور اسلام آباد کے درمیان اعتماد کی جو گہری خلیج پائی جاتی ہے حقیقت میں وہ ہی اس ناقابلِ عمل اور غیر متاثر کن پیکیج کے بلوچستان کے قوم پرستوں کی طرف سے یک آواز مسترد کیے جانے کی بڑی وجہ بنی ہے۔بلوچستان کے عوام کا خیال ہے کہ ماضی میں بھی بلوچستان کے لیے کئی پیکیجوں کا اعلان کیا گیا حتی کہ مشرف کے دور میں بھی پیکج کا اعلان ہوا اور مختلف استحصالی منصوبوں کو پیکج کا نام دیا جاتا رہا۔ اس تازہ ترین پیکیج میں بلوچستان کے عوام کے سیاسی ، اقتصادی اور انتظامی مستقبل کے بارے میں کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔
جن میں ان کا یہ دیرینہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ انہیں خودمختاری اور اپنے قدرتی وسائل پر مکمل اختیار حاصل ہونا چاہیے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیام شدہ کمیٹی نے بھی وہی راستہ اختیار کیا ہے جو کہ اس سے قبل مشرف کے دور میں بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی نے کیا تھا۔پیپلز پارٹی کی طرف سے تجویز کردہ پیکیج میں آئینی معاملات کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ بلوچ عوام کے لیے کوئی کشش نہیں رکھتا کیونکہ بنیادی حقوق اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے آئین میں دی گئی ضمانتوں کو ماضی میں مرکزی حکومت کی طرف سے پامال کیا جاتا رہا ہے۔