شہریوں کا کورٹ مارشل : قائمہ کمیٹی دفاع نے آرمی ایکٹ میں مشرف کی ترمیم کو مسترد کردیا

24 دسمبر 2009
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + مانیٹرنگ نیوز + نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے پرویز مشرف دور میں آرمی ایکٹ میں کی گئی ترمیم مسترد کر دی ہے۔ یہ ترمیم پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگانے کے بعد نافذ کی تھی۔ کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت اختیارات میں توازن لایا جائے گا۔ کمیٹی نے آرمی ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے اجلاس میں بطور آئینی ماہر خصوصی شرکت کرنے والے بیرسٹر اعتزاز احسن کی کئی تجاویز پر بھی اتفاق کر لیا ہے اور انہیں یہ تجاویز تحریری شکل میں کمیٹی کو بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔ دفاعی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں چیئرپرسن ڈاکٹر عذرا فضل کی صدارت میں ہوا جس میں مشرف کے جاری کئے گئے پاکستان آرمی ترمیمی آرڈیننس 2007ءکا جائزہ لیا گیا‘ جس کے ذریعے سویلین شخص کے کورٹ مارشل کے لئے آرمی ایکٹ 1952ءکی دفعہ 2 میں ترمیم کی گئی تھی۔ آرمی ایکٹ میں مزید ترامیم کا معاملہ تمام پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ مشاورت تک م¶خر کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں مشرف دور کی ترمیم کو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم بھی قرار دیا گیا۔ اعتزاز احسن نے ترمیمی بل کو انصاف کے عالمی معیار کے مطابق بنانے کیلئے جو تجاویز دیں ان میں فوجی عدالت کا قیام متعلقہ ہائیکورٹ کی منظوری سے مشروط کرنے‘ کام کرنے کی مدت کی ضمانت‘ عدالتی فیصلہ خفیہ نہ رکھنا‘ مکمل ریکارڈ کا تحفظ‘ زبانی فیصلوں کی ٹربیونل سے منظوری‘ صرف دہشت گردی اور فوج پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف سماعت‘ فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کا حق اور اس نوعیت کی خصوصی قانون سازی کے نفاذ کی مدت کا بھی تعین کرنا شامل ہیں۔ اس ترمیمی بل پر مجلس قائمہ کے اگلے اجلاس میں بھی غور کیا جائے گا جو 10محرم الحرام کے بعد ہو گا۔