پشاور ہائیکورٹ : بجلی کی قیمتوں میں 60 فیصد اضافے کا فیصلہ معطل

24 دسمبر 2009
پشاور (بیورو رپورٹ/نیوز ایجنسیاں/ریڈیو نیوز) پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس دوست محمد خان نے بجلی کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ حکمران صارفین کیلئے اشیاءضروریہ کی قیمتوں کا تعین خود کرنے کی بجائے آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر کر رہے ہیں۔ اگر اسی طرح غیروں کے اشاروں پر اپنے عوام کے ساتھ ظلم کرنا ہے تو پھر ہم نے انگریزوں کو کیوں مار بھگایا۔ یہ ریمارکس فاضل جج نے سرحد حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیخلاف دائر رٹ درخواست سماعت کیلئے باقاعدہ منظور کرتے ہوئے دئیے۔ جسٹس دوست محمد نے کہا کہ پیپکو اور پیسکو غریب عوام کا خون چوس رہے ہیں۔ آئے روز معصوم بچے اور غریب عوام ننگی تاروں کی وجہ سے موت کا شکار ہو رہے ہیں اور واپڈا والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ دوسری جانب عدالت عالیہ کے جسٹس دوست محمد اور جسٹس پیر لیاقت علی پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے بجلی کے نرخوں میں 60 فیصد اضافہ کے فیصلہ کو معطل کرتے ہوئے 15 دن کے اندر اندر صارفین کیلئے یکم مارچ 2008ءسے قبل کے نرخوں کے مطابق نئے بل ارسال کرنے اور صارفین کو بیجا تنگ نہ کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ فاضل عدالت نے نیپرا، اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کر دئیے ہیں۔