ٹرانسپورٹ کمپنی کی چینی بسیں لانے کے معاہدے میں از خود تبدیلیوں کی پیشکش

24 دسمبر 2009
لاہور(فرخ بصیر سے) ایک ٹرانسپورٹ کمپنی نے حکومت پنجاب کی ضمانت پر چین سے 2000سی این جی بسیں لانے کے لئے معاہدے میں از خود تبدیلیوں کی پیشکش کر دی تاکہ ساڑھے 10ارب کے خطیر منصوبے میں سے 2 ارب 65 کروڑ روپے سے زائد کی اپ فرنٹ (پیشگی)سبسڈی پر ہاتھ صاف کیا جا سکے۔لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی نے معاہدے کی مختلف شقوں پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے ملکی و عوامی مفاد کیخلاف قرار دیتے ہوئے ناقابل عمل قرار دیدیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق 9نومبر 2009کو چین کے شہر گوئی یانگ(GUIYANG) میں ہونےوالے رعایتی معاہدے کے تحت کمپنی کی طرف سے بھیجی گئی تجاویز کے مطابق پہلے مرحلے میں لائی جانیوالی 350سی این جی بسوں پر لاگت کا تخمینہ 1ارب 53کروڑ12لاکھ روپے لگایا گیا ہے جس پر اپ فرنٹ سبسیڈی 38کروڑ28لاکھ روپے بنتی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں 1650بسیں لانے کےلئے لاگت کا تخمینہ 9ارب 7کروڑ 50لاکھ روپے اور اس پر سبسیڈی 2 ارب پونے87کروڑ روپے بنتی ہے۔ اس معاہدے کے تحت پنجاب حکومت اور محکمہ ٹرانسپورٹ کمپنی کو پہنچنے والے آپریشنل نقصان کو پورا کرنے کے پابند ہونگے اورحکومت بسیں لینے اور بنانے والوں کی سرمایہ کاری کی ضامن ہو گی اور یہ بسیں رجسٹریشن سمیت ہر قسم کے حکومتی ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہو نگی۔ معاہدے کے تحت حکومت پنجاب ” کمپنی “ کو 10 نومبر تک 25فیصد اپ فرنٹ سبسیڈی فراہم کرنے کی پابند تھی مگر اس کی ادائیگی کےلئے محض 24گھنٹے کے نو ٹس کی غیرمناسب جلد بازی اس خواہش کو ظاہر کرتی ہے کہ 25فیصد سرکاری سبسڈی پر کیسے ہاتھ صاف کیا جائے جبکہ بقیہ 75فیصد فنڈز چین کے ایگزم بنک یاچائنا کنسٹرکشن بنک سے حاصل کئے جائینگے ۔