معاف کرائے گئے قرضوں کی واپسی ناممکن ہے‘ بنکنگ ذرائع ۔۔۔ سٹیٹ بنک کا سرکلر غیر آئینی تھا ‘ شاہد صدیقی

24 دسمبر 2009
لاہور (کامرس رپورٹر) سپریم کورٹ کی جانب سے بنکوں کے معاف کئے جانے والے قرضوں کا نوٹس لینے پر انسٹیٹیوٹ آف بنکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا ہے کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ سپریم کورٹ نے 1971ءسے ابتک معاف کئے گئے قرضوں کی فہرست طلب کرلی ہے اور سٹیٹ بنک کو حکم دیا ہے کہ وہ بنکوں کے صدور سے مل کر ان قرضوں کی وصولی کی حکمت عملی وضع کرے لیکن اگر وفاقی وزارت خزانہ‘ سٹیٹ بنک اور کچھ تجارتی بنکوں میں اہم پوزیشن پر ایسے افراد موجود ہیں جنہوں نے پاکستان کے دستور سے متصادم پالیسیاں وضع کیں اور غلط طریقے سے قرضے معاف کئے ہیں تو ان سے کسی موثر حکمت عملی کی امید نہیں کی جاسکتی اس لئے اگر کسی نے خود اپنا قرضہ معاف کرایا یا کسی کا قرضہ غلط طریقے سے معاف کیا تو وزارت خزانہ‘ سٹیٹ بنک میں اعلیٰ پوزیشنوں پر فائز اور بنکوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں موجود لوگوں کو الگ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں کی معافی کا سرکلر بی پی ڈی 29 سابق گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹر عشرت حسین نے 15 اکتوبر 2002ءکو جاری کیا جو پاکستان کے آئین سے متصادم تھا۔ میں نے 2008ءکو اسکے خلاف شریعت کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر شریعت کورٹ نے سٹیٹ بنک سے اپریل 2009ءتک جواب طلب کیا تھا جو کہ سٹیٹ بنک نے ابتک نہیں دیا جس پر میں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو 14 دسمبر 2009ءکو خط بھیجا جس میں ان سے استدعا کی گئی کہ وہ یہ کیس شریعت کورٹ سے اپنے پاس منگوا لیں یہ اور خوش آئند ہے کہ سپریم کورٹ نے سٹیٹ بنک سے جواب طلب کیا کہ سرکلر بی پی ڈی 29 کے سلسلے میں اپنی پوزیشن کی وضاحت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکلر بی پی ڈی 29 خلاف قانون قراردیا جاتا ہے تو 250 ارب روپے کے قرضوں کی وصولی ممکن ہے۔ دریں اثناءبنکنگ ذرائع نے کہا ہے کہ بنکوں نے سٹیٹ بنک کی گائیڈ لائن کے مطابق کام کیا ہے۔ سٹیٹ بنک کے سرکلر بی پی ڈی 29 کی صحیح تشریح نہیں کی جا رہی ہے۔ یہ سالہا سال کے ڈوبے ہوئے قرضوں کے معاملات طے کرنے کیلئے جاری کیا گیاتھا کیونکہ ان قرضوں پر ہر سال سود میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اس سرکلر کے تحت سارے قرضے معاف نہیں کئے گئے تھے بلکہ 30 فیصد تک قرضے کی اصل رقم اور سود ختم کیا گیا تھا بنکنگ ذرائع نے کہا کہ بنکوں کے ڈوبے ہوئے قرضوں کا مجموعی حجم 197 ارب ہے جس میں 104 روپے کا اصل زر اور 93 ارب روپے کا سود ہے۔ ان قرضوں کی واپسی تقریباً ناممکن ہے کیونکہ قرضے معاف کرانے والوں کی اکثریت کے ادارے بند ہو چکے ہیں اس میں صرف اتنا ہو سکے گا کہ بنکوں نے اگر اپنے ڈوبے ہوئے قرضوں کو ریگولر شو کیا تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی اور ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔