پیپلز پارٹی کی محاذ آرائی کی سیاست سے ملک کو نقصان پہنچے گا: منور حسن

24 دسمبر 2009
لاہور (خصوصی رپورٹر) امیر جماعت اسلامی منور حسن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی محاذ آرائی کی سیاست سے پاکستان کو نقصان پہنچے گا جبکہ عدلیہ کے فیصلے پر عمل کرنے سے حکومت کی رٹ قائم ہو گی، حکمرانوں کا وقار بڑھے گا اور ملک میں اعتماد کی فضا پیدا ہو گی، این آر او پر فیصلے کے بعد 193 ارب روپے کے قرضے معاف کرانے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے خطاب اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قاضی حسین، پروفیسر غفور احمد، پروفیسر خورشید، لیاقت بلوچ، فرید پراچہ، ڈاکٹر وسیم اختر و دیگر نے شرکت کی۔ منور حسن نے کہا کہ این آر او پر عدالتی فیصلہ آنے کے بعد پیپلز پارٹی نے سپریم کورٹ کے خلاف جارحانہ مہم شروع کر دی ہے۔ وفاق ٹوٹنے اور پنجاب کو لاشیں بھجوانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ این آر او صحیح تھا تو اسے اسمبلی سے منظور کرایا جانا چاہئے تھا یا سپریم کورٹ میں اس کا دفاع کرنا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے واویلا کیا جا رہا ہے۔ محاذ آرائی کی کیفیت سے ملک اور خود پیپلز پارٹی کو نقصان ہو گا۔ حکومت عملاً سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی پر تلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس یا اعلیٰ عدلیہ کے خلاف سازش ہوئی تو عوام ایک دفعہ پھر سڑکوں پر ہوں گے۔ سپریم کورٹ کو حق کے راستے پر آگے جانا چاہئے، پاکستان کے عوام اس کے فیصلوں کی حفاظت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت میں شامل لوگ تو ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں لیکن اپوزیشن کے دعویدار نقلی اپوزیشن کا کردار بھی ادا نہیں کر سکے۔ ان کو فرینڈلی اپوزیشن کہنا بھی غلط ہے۔ یہ صرف فرینڈلی ہیں۔ بعض لیڈروں کو خطرہ ہے کہ انہوں نے این آر او پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے حق میں بات کی تو ان کو معاف کرائے گئے قرضے واپس کرنے پڑیں گے۔