چودھری شجاعت نے مسلم لیگ ق کے ویژن 2010ءکا اعلان کردیا

24 دسمبر 2009
اسلام آباد (نےوز اےجنسےاں) مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی رشوت سکینڈل اور این آر او کی طرح قرضہ معافی کیس سے بھی ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ این آر او پر اعلی عدلیہ کے فیصلے پر حکومت اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کرائے‘ پیپلز پارٹی نے عدلیہ کیخلاف محاذ آرائی شروع کر رکھی ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔ این آر او پر عدالتی فیصلے سے جمہوریت مستحکم ہو گی‘ سیاستدان ہوش کے ناخن لیں اور ملک کو غیر مستحکم نہ ہونے دیں‘ ہم پاکستان کوغےر مستخکم نہیں ہونے دینگے۔ ق لیگ مستقبل میں بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پارٹی کی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چودھری شجاعت کی زیر صدارت اجلاس میں 6 قراردادیں بھی منظور کی گئیں جن میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں اور سوات آپریشن پرفوج کو خراج تحسین پیش کیاگیا جبکہ حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ جبکہ انہوں نے پارٹی کے 2010ءکے وےژن کا اعلان کےا۔ چودھری شجاعت نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ہم قائداعظم کے اصولوں کو آگے لیکر چلیں گے جس میں ہمیں نئے ایجنڈے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کی جماعت قائد اعظم کے فرمودات اور وےژن پر عمل کرتے ہوئے آئےن اور قانون کی بالا دستی ،خودمختار خارجہ پالیسی ،صوبائی خودمختاری اور بےن الصوبائی ہم آہنگی پر عمل کرے گی،انہوں نے مذےد کہا کہ عدلیہ نے این آر او کے حوالے سے جو فیصلہ دیا ہے اس کی ہم تائید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب این آر او کا ڈرافٹ تیار ہو رہا تھا تو ہمیں دکھایا گیا تو ہم نے اسے منظور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی ہوئی تو یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے ہم عدلیہ کا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب ماضی کی طرف نہیں بلکہ آگے دیکھنا ہے۔ اے این این کے مطابق چودھری شجاعت نے کہا کہ ہم آزاد میڈیا کے ساتھ ہیں اور اس کے خلاف کئے جانے والے تمام اقدامات کی مذمت کرتے ہیں۔ اس موقع پر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ہم آزاد خارجہ پالیسی کے حامی ہیں امریکی فوج کے خطے سے انخلاءکی بات سب سے پہلے ہم نے کی تھی ہمیں خوشی ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے یہ بات مان لی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 25 دسمبر کو قائداعظمؒ کے یوم ولادت پر ایک خصوصی سیمینار مسلم لیگ ہاﺅس میں منعقد کیا جائےگا ۔ دریں اثناءامیر مقام نے کہا کہ موجودہ حکومت کے 50 فیصدوزراءکے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہیں اور ان کے اثاثے بھی ملک سے باہر ہیں وہ عوام کی کیا خدمت کریں گے؟۔