پہلے گرفتاری پھر مقدمہ : غیر قانونی پلازوں کی تعمیر میں ملوث ایل ڈی اے حکام کیخلاف اینٹی کرپشن کا منصوبہ تیار

24 دسمبر 2009
لاہور (احسان شوکت سے) وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ہدایت پر محکمہ اینٹی کرپشن حکام نے غیرقانونی پلازوں کی تعمیر میں ملوث ایل ڈی اے کے اعلیٰ افسران و اہلکاروں کیخلاف شکنجہ کسنے کیلئے پہلے گرفتاری اور پھر مقدمات درج کرنے کی حکمت عملی اپنا لی ہے۔ گذشتہ رات گئے اینٹی کرپشن ٹیموں نے ایل ڈی اے کے متعدد افسران کی رہائش گاہوں پر ان کی گرفتاریوں کیلئے چھاپے بھی مارے جبکہ محکمہ اینٹی کرپشن آج غیرقانونی پلازوں کی تعمیر میں ملوث 30 افسران و اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کر لے گا۔ ذرائع کے مطابق اس حکمت عملی پر محکمہ حکام نے عملدرآمد کرتے ہوئے گذشتہ رات گئے اینٹی کرپشن لاہور ریجن کے افسران و اہلکاروں پر مشتمل دو ٹیمیں تشکیل دی ہیں جنہوں نے رات گئے تک غیرقانونی پلازوں کی تعمیر میں ملوث ایل ڈی اے کے افسران و اہلکاروں کی گرفتاری کیلئے ان کی رہائش گاہوں اور دیگر مقامات پر چھاپے مارے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایل ڈی اے کے افسران و اہلکاروں کو محکمہ اینٹی کرپشن کی اس حکمت عملی کی پہلے سے بھنک پڑ گئی تھی جس پر غیرقانونی پلازوں کی تعمیر میں ملوث افسران و اہلکار روپوش ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق شہر میں 35 سے زائد غیرقانونی پلازوں کی تعمیر میں ایل ڈی اے کے 33 افسران و اہلکاروں کیخلاف محکمہ اینٹی کرپشن مقدمہ درج کرے گا۔ ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے کے جن افسران و اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی جا رہی ہے ان میں قاضی مسعود احمد، اسد الزمان، محمود علی، محمد فہیم، محمد افتخار، آفتاب احمد خان، محمد اکرم، شکیل انجم منہاس، خالد شیخ، محمد فاضل، قاضی نعمت، ملک طفیل، شفیق احمد، ضیاءحسین، امجد نذیر، عرفان سہیل، یونس ڈار، تنویر اشرف، فیاض ظہور، اختر عابد، عرفان بیگ، انعام الدین، محمد فقیر احمد، شاہد نذیر اور دیگر شامل ہیں۔