بھارتی فوج کی نقل و حمل اور بھاری مشینری کی تنصیب سے سیاچن تیزی سے پگھل رہا ہے: ماہرین

24 دسمبر 2009
اسلام آباد (آن لائن) اقوام متحدہ اور موسمیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارتی فوج کی نقل و حمل اور بھاری مشینری کی تنصیب کے باعث سیاچن گلیشیئر تیزی سے پگھل رہا ہے جس کے باعث پاکستانی معیشت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیاچن گلیشیئر دنیا کا دوسرا بڑا گلیشیئر اور بلند ترین جنگی محاذ ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق گلیشیئر پر ہزاروں بھارتی فوجیوں کی موجودگی نقل و حمل ، سینکڑوں بھاری مشینوں کی تنصیب روزانہ مٹی کے تیل کے دو ہزار گیلن کا استعمال اور جنگی جہازوں کی مسلسل پروازوں کے باعث گذشتہ 20 برسوں کے دوران سیاچن گلیشیئر 800 میٹر تک پگھل چکا ہے۔ ماہرین نے اس خطرے کا اظہار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سب سے اونچائی پر واقع حساس نوعیت کا یہ دفاعی اور ماحولیاتی خطہ تباہی کی دہلیز تک پہنچ جائے گا۔ ماہرین کے مطابق سیاچن گلیشیئر ہر سال 110 میٹر پگھل رہا ہے اور دنیا میں کوئی اور بڑا گلیشیئر اتنی تیزی سے نہیں پگھل رہا ۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے مقرر کردہ پینل کے چیئرمین لاجندرپجوری نے وارننگ دی ہے کہ ہمالیہ کے گلیشیئر دنیا کے دیگر گلیشیئرز کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں اور یہ 2035ءیا اس سے پہلے صفحہ ہستی سے غائب ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی زراعت کا انحصار ہمالیہ کے گلیشیئر سے آنے والے پانی پر ہے۔ گلوبل وارمنگ اور ہزاروں بھارتی فوجیوں کی سیاچن گلیشیئر پر موجودگی سے اسے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔