ملک بھر کے پریس کلبوں کو وی وی آئی پی سکیورٹی‘ صحافیوں کو اسلحہ لائسنس دیئے جائیں گے : رحمن ملک

24 دسمبر 2009
اسلام آباد (ایجنسیاں) وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ملک بھر کے پریس کلبوں کو وی وی آئی پی سکیورٹی دی جائیگی اور صحافیوں کو اسلحہ لائسنس جاری کئے جائینگے۔ حافظ سعید کو بھارتی ڈکٹیشن پر گرفتار نہیں کیا جائیگا‘ ہم بھارتی عدالتوں کا احترام کرتے ہیں وہ بھی ہماری عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔ امریکیوں کی ملک میں نقل و حرکت کا معاہدہ مشرف نے کیا تھا‘ یقین سے کہتا ہوں بلیک واٹر پاکستان میں کام نہیں کر رہی‘ دہشت گردی کے حوالے سے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہیں۔ 20سالوں کے دوران قرضے حاصل کرنیوالوں کی فہرست مرتب کرنیکی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ وزیر داخلہ نے پشاور پریس کلب میں جاں بحق ہونیوالے کے ورثا کیلئے 5-5لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا۔ وزیر داخلہ نے پشاور پریس کلب پر خودکش دھماکے کے حوالے سے نکالی جانیوالی صحافیوں کی ریلی میں بھی شرکت کی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر داخلہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر شورش زدہ علاقوں میں فرائض سرانجام دینے والے صحافیوں کو فرائض کی ادائیگی کیلئے ڈیوٹی فری گاڑیاں فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل پریس کلب کو صحافیوں کیلئے 100 بلٹ پروف جیکٹس فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے نادرا کو ہدایت کی کہ نیشنل پریس کلب کی عمارت کے گرد اور اس کے اندر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں اور پریس کلب کی حفاظت کیلئے پولیس چیک پوسٹ قائم کرنے کا حکم بھی دےدیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پریس کلب کی چار دیواری جلد تعمیر کی جائے گی اور پریس کلب کے داخلی و خارجی راستوں پر واک تھرو گیٹس نصب کئے جائیں گے۔ اجمل قصاب سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے اس پر تبصرہ کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ اس کا کیس بھارتی عدالت میں ہے اور ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر میڈیا کو بلیک واٹر کی موجودگی کے بارے میں علم ہے تو حکومت کو بتائے، حکومت فوری کارروائی کرے گی۔ ملک کی تین بڑی ایجنسیوں نے بھی بلیک واٹر کے اس حوالے سے کلیئرنس دیدی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے بڑے لیڈر یہاں سے بھاگ گئے ہیں۔ فتویٰ دینے پر علماءکا شکریہ ادا کرتا ہوں‘ دنیا جنہیں طالبان کہتی ہیں میں انہیں ہمیشہ ظالمان کہتا آیا ہوں۔وزیر داخلہ نے اس وقت دورہ اچانک ختم کرکے واپس جانے کا اعلان کر دیا جب ایک صحافی نے بریفنگ کے دوران وزیر داخلہ سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ کی حکومت عدالتی دہشت گردی کا سامنا کر رہی ہے۔ صحافی کی معذرت پر الفاظ کارروائی سے حذف کر دئیے گئے جس کے بعد وزیر داخلہ نے بریفنگ اور پریس کلب کا دورہ مکمل کیا۔

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...