انور منصور خان نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کا چارج سنبھال لیا

24 دسمبر 2009
اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + اے پی پی) سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج اور سابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ انور منصور خان کو اٹارنی جنرل مقرر کر دیا گیا ہے۔ انور منصور کی تقرری کی سفارش وزیراعظم کی جانب سے بھیجی جانے کے بعد صدر نے ان کا باقاعدہ تقرر کر دیا ہے اور اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ انور منصور خان نے تقرر کئے جانے کے بعد اپنے عہدے کا چارج بھی سنبھال لیا ہے۔ چارج سنبھالنے کے بعد انہوں نے دفتر میں کام کا آغاز کر دیا‘ ماتحت عملے سے ملاقات کی جس نے انہیں کام کے حوالے سے بریفنگ دی۔ انور منصور خان نے بعدازاں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ عدالتی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انور منصور خان سینئر وکیل اور وکالت میں باعزت مقام کے حامل سمجھے جانے والے وکیل ہیں۔ وہ مشرف دور میں بطور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کام کر رہے تھے جب جنرل مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی اور ججوں کو گھروں میں نظربند کیا تو انور منصور خان نے بطور احتجاج اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ دریں اثنا وفاقی وزیر قانون و انصاف و پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے وزارت قانون میں نئے اٹارنی جنرل انور منصور خان سے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر نے انور منصور خان کو اٹارنی جنرل کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور اپنی ٹیم کا حصہ بننے پر مسرت کا اظہار کیا۔
لاہور (وقائع نگار خصوصی) نئے اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان قانون کے شعبے میں آنے سے قبل فوج میں کیپٹن تھے جو بھارت میں جنگی قیدی بھی رہے۔ انور منصور خان سندھ ہائیکورٹ میں جج بھی رہ چکے ہیں انکے والد بھی معروف قانون دان تھے جن کا شمار شریف الدین پیرذادہ کے قریبی دوستوں میں ہوتا تھا ۔جس کے باعث انور منصور خان کو بھی شریف الدین پیرذادہ گروپ سے تصور کیا جا تا ہے۔ منصور خان نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معزولی کے دوران ان کے دورہ سندھ کے موقع پر سندھ ہائیکورٹ کے جج صاحبان کے ساتھ سکھر کے ائر پورٹ پر چیف جسٹس کا استقبال کر کے پرویز مشرف کے فیصلے سے اعلان بغاوت کیا۔ 2009-10 ءمیں انہوں نے سندھ ہائیکورٹ کراچی بار کے انتخاب میں صدارت کے عہدے کے لئے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو انہیں پیپلز پارٹی ¾ ایم کیو ایم اور دیگر گروپوں کی حمایت حاصل تھی لیکن وہ رشید اے رضوی کے مقابلے میں کامیابی حاصل نہ کر سکے۔