A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

لوڈشیڈنگ جاری‘ کاروباری و دیگر حلقوں کا بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ اضافہ واپس لینے کا مطالبہ

24 دسمبر 2009
لاہور (کامرس رپورٹر/ نیوز رپورٹر/ لیڈی رپورٹر/ نامہ نگاران) کاروباری برادری‘ کسان رہنماﺅں اور خواتین نے یکم جنوری 2010ءسے بجلی کی قیمتوں میں 13.6 فیصد مجوزہ اضافے کے حکومتی فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے صنعت و حرفت پر منفی اثرات مرتب ہونگے حکومت ایسے اقدامات اٹھانے سے گریز کرے۔ وزیراعظم مجوزہ اضافے کو کالعدم قرار دلائیں جبکہ دوسری طرف صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں اعلانیہ و غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ گذشتہ روز بھی جاری رہا۔ جس کے باعث صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور کاروبار تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ظفر اقبال‘ سینئر نائب صدر اعجاز اے ممتاز‘ نائب صدر فیصل شیخ نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ حکومت ہائیڈل بجلی کی پیداوار بڑھائے اس سے بجلی سستی اور قلت دور ہوگی۔ پیاف کے چیئرمین عرفان قیصر شیخ‘ لاہور ٹاﺅن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے نومنتخب چیئرمین ظہیر بھٹہ‘ فیروزپور انڈسٹریل ایسوسی ایشن کے صدر شاہد بیگ‘ کتاربند روڈ انڈسٹریل ایریا کے رہنماءمحمود غزنوی‘ رائیونڈ ڈیفنس روڈ کے حاجی عبداللہ ‘ انجمن تاجران سینٹری ویئر لاہور کے نائب صدر میاں سلیم نے مشترکہ ردعمل میں کہا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ ملکی صنعت پر کاری ضرب اور برآمدات محدود کرنے کے مترادف ہے۔ پیاف کے چیئرمین عرفان قیصر شیخ نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم تعمیر کر لیا جائے تو بجلی پونے دو روپے یونٹ پڑے گی۔ اس طرح ملک کو سالانہ 525 ارب روپے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کسان بورڈ پاکستان کے صدر سردار ظفر نے وفد سے گفتگو میں کہا کہ بجلی مہنگی ہونے سے زراعت کو ناقابل تلافی نقصان کا خدشہ ہے‘ حکومت فیصلہ واپس لے۔ لیڈی رپورٹر کے مطابق نوائے وقت کے سروے میں مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی شیریں ارشد‘ ایم پی اے عارفہ خالد نے کہا ہے کہ حکومت نے بجلی مہنگی کر کے عوام کی کمر توڑنے کا اعلان کر دیا۔ غزالہ ایڈووکیٹ‘ پروفیسر ڈاکٹر فیرہ فواد‘ سعدیہ قیوم اور پروین منظور نے کہا کہ حکومت عوام پر خودکش حملے نہ کرے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے۔ دریں اثناءگذشتہ روز بجلی کی نظام میں 2300 میگاواٹ کا شارٹ فال رہا اور ڈسٹری بیوٹر کمپنیوں نے شہروں اور دیہاتوں میں 12 گھنٹے تک بجلی بند رکھی جس پر صارفین نے شدید احتجاج کیا۔ کامونکے سے نامہ نگار کے مطابق لوڈشیڈنگ سے کاروبار ٹھپ ہوگئے اور ہزاروں مزدور بیروزگار ہوگئے۔