وزیراعظم نے دیامیر بھاشا ڈیم کی جلد تعمیر کیلئے 6 رکنی وزارتی کمیٹی بنا دی

24 دسمبر 2009
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں مسائل رکاوٹیں دور اور وسیع البنیاد اتفاق رائے کیلئے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس کمیٹی کے ارکان وفاقی وزراء پانی وبجلی، کشمیروگلگت بلتستان، اطلاعات و نشریات، محنت و افرادی قوت، بین الصوبائی رابطہ اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ ہوں گے۔ گزشتہ روز دیامر بھاشا ڈیم پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت دیامر بھاشا ڈیم کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ تمام متعلقہ ادارے اس ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرکے جلد از جلد کام شروع کریں جب کہ گلگت بلتستان کے عوامی نمائندوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔ قبل ازیں بریفنگ میں بتایا گیا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے گلگت بلتستان اور کوہستان میں اقتصادی و سماجی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ 11 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری سے علاقے میں روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہونگے اس بڑے منصوبے سے یومیہ 40 لاکھ ڈالر کی توانائی پیدا ہو گی جبکہ اس کے توانائی، پانی اور دیگر اقتصادی فوائد سالانہ 2 ارب 19 کروڑ ڈالر سے زائد ہونگے۔ ڈیم میں 6.4 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور اس سے ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی ڈیم کے مکمل ہونے سے تربیلا ڈیم اور غازی بروتھا ڈیم میں بھی سالانہ 12 سو 50 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا ہو گی۔ علاوہ ازیں یوسف گیلانی سے سینٹ کے چیئرمین فاروق ایچ نائیک نے وزیراعظم ہاﺅس میں ملاقات کی اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم سے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن فرزانہ راجہ نے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے وزیراعظم کو سکیم پر عملدرآمد کے متعلق اقدامات کے بارے میں بتایا۔ وزیراعظم نے فرزانہ راجہ سے کہا کہ سکیم میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے آزاد قومی انسانی حقوق کمشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کا بل جلد ہی قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائےگا۔