یہ خالقِ کائنات کی منشاءتو نہیں

24 دسمبر 2009
خلق خدا کا اور کون پرسان حال ہے اگر آپ بھی ان کی خبرگیری نہیں کریں گے۔ جناب چیف جسٹس! آپ نے بالکل درست فرمایا کہ بے شک آپ کو تنقید کا نشانہ ہی کیوں نہ بننا پڑے، بے شک طعنہ زنی کا رخ آپ کی جانب ہی کیوں نہ ہو جائے اور بے شک مفاد پرستوں کا اتحادی ٹولہ آپ کے خلاف محلاّتی اور اداراتی سازشوں میں ہی کیوں نہ مصروف ہو جائے، آپ قومی خزانے کی لوٹ مار کا ازخود نوٹس لیتے ہی رہیں گے اور بے وسیلہ، کمزور انسانوں کی دادرسی کرتے ہی رہیں گے۔ ریاستی اور حکومتی اختیار و اقتدار کے مالک جن لوگوں اور جن اداروں کی ذمہ داری یہ سب کچھ کرنے کی ہے، اگر وہ کچھ نہیں کر پارہے اور کچھ نہیں کرنا چاہ رہے تو جناب چیف جسٹس! بے وسیلہ کمزور انسان اسی لئے تو آپ کے ساتھ ساری توقعات باندھے ہوئے ہیں اس لئے کسی تنقید، کسی طعنے، کسی سازش کی پرواہ نہ کریں، جس حد تک اور جو آپ کے بس میں ہے کر گزریں۔ یہ لمحہ¿ موجود آپ کے نام وقف ہے، کل کیا ہونا ہے کسی کو خبر نہیں، آپ کم از کم اچھے کل کی امیدتو پیدا کر جائیں۔ مفاد پرستوں کے اتحادی ٹولے کی مرمت ہوگی اور انہیں کریدا، کھنگالا جائے گا تو ان کے ماتھے پر خوف کی کوئی تریڑی آئے گی ورنہ وہ تو پورے ملک کو اپنی جاگیرسمجھ کر اکھاڑنے، ادھیڑنے پرتُلے ہوئے ہیں۔بات صرف قرضوں کی معافیوں کی چلی تھی تو کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے۔ اب جو بھی اینٹ اکھڑے گی، اس کے نیچے زبردستی کے عزت داروں کے اسی مفاد پرست اتحادی ٹولے کا کوئی نہ کوئی مفاد لپٹا ہوا ملے گا، جیسے اس کائنات کو ربِ کائنات نے اسی ٹولے کی عیش کوشیوں کیلئے تخلیق کیا ہو۔ یہی اشرف المخلوقات ہوں، یہی ان داتا ہوں، یہی مالک و مختار ہوںباقی ارضِ کائنات پر رینگنے والے سب کیڑے مکوڑے، پاﺅں تلے کچلے جانے کے لائق۔مگر نہیں، مشیّت ایزدی کی یہ رضا ہر گز نہیں ہوسکتی۔ تکریم انسانیت کا فلسفہ ہے تو اس کے زمرے میں خواص ہی نہیں عام آدمی بھی آتا ہے۔ ورنہ تو اس دھرتی پر خدائی کے اتنے دعویدار ہو جائیں گے کہ نظامِ کائنات ہی الٹ پلٹ جائے گا۔تو جناب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری صاحب! آپ نے بالکل صحیح ڈگر اختیار کی ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے، بے وسیلہ افراد کو تو مہینوں، سالوں دردر کے دھکے کھانے،بے توقیر ہونے اور خود کو تماشہ بنانے کے بعداپنی اشد ضرورت کیلئے بمشکل تمام لاکھ دو لاکھ کا قرضہ مل پاتا ہے جس کے عوض وہ متعلقہ بنک، ہاﺅس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے ہاتھوں اپنی چھت کے سائے یا زمین کے ٹکڑے کے حقِ ملکیت سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ کوئی ایک قسط کسی معاشی مجبوری کی وجہ سے ادا ہونے سے رہ جائے تو رہن رکھی گئی اپنی جائیداد سے ہی ہاتھ نہیں دھونا پڑتے، اخبار اشتہار اور جیل و حوالات کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل کر اس بے بس انسان کو بھری دنیا میں تماشہ بھی بنا دیا جاتا ہے مگر یہ کیسی متبرک ہستیاں ہیں کہ 1997ءسے اب تک کے بارہ سال کے عرصہ میں انہوں نے ڈکار بھی نہیں مارا اور مجموعی دو کھرب روپے کے قریب اربوں کروڑوں روپے کے قرضے پلک جھپکتے میں حاصل بھی کرلئے اور معاف بھی کرا لئے۔ کیا قرضہ دینے اور معاف کرنے والے بنک اور مالیاتی ادارے ان کے باپ دادا کی جاگیر تھے جو ان کی وراثت میں آگئے اور ان کی لوٹ مار کا انہیں حق مل گیا۔ کیا ان کیلئے قانون، قاعدے، ضابطے نام کی کوئی چیز نہیں اور کیا انصاف ان کے در کی باندی ہے کہ سب کچھ لا کر ان کے قدموں میں ڈھیر کردیا جائے۔اگر یہ بھی خاکی پُتلے ہیں، دو ہاتھوں، دو ٹانگوں، دو آنکھوں، دو کانوں اور ایک دماغ والے انسان ہیں تو جتنے یہ اشرف المخلوقات ہیں، ان کی ساخت والے دوسرے انسان بھی ویسے ہی اشرف المخلوقات ہیں، خالقِ کائنات نے تو اپنی تخلیق میں کوئی امتیاز نہیں کیا۔ فرشتوں کو اپنی تخلیق اس انسان کے آگے سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا تو یہ تخصیص تو نہیں کی تھی کہ فلاں انسان کے آگے سجدہ کرنا ہے اور فلاں کو دھتکارنا اور راندہ¿ درگاہ بنانا ہے۔ پھر یہ امتیاز کیسے پیدا ہوگیا ہے۔ انسانوں میں برتراور کمتر کے درجات کس نے بنا دیئے ہیں۔ یہ رضائے خداوندی تو ہرگز نہیں ہوسکتی تو جناب چیف جسٹس صاحب! آپ نے اس سارے معاملہ کا احساس کرلیا ہے۔ خود میں ہمت پیدا کرلی ہے۔ انصاف کے فطری اصول کو ضابطہ¿ حیات بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے تو اب خدارا پیچھے مت ہٹئے گا۔ اس دھرتی کو ادھیڑنے، اکھاڑنے والوں سے حساب ضرور لیں۔ ازخود عزت دار بن کر اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں کو کیڑے مکوڑے سمجھ کر مسلنے کچلنے والے خدائی دعوے داروں کو رضائے ایزدی کی جھلک ضرور دکھائیں اور گورے کوکالے پر، عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں والے فلسفہ¿ سرور کائنات کو ضرور جاری و ساری کریں ورنہ یہ دھرتی بھی انسانی کروّفر سے عاجز آچکی ہے۔ انصاف نہ ہوا تو اس دھرتی کا سینہ پھٹ جائے گا ۔ اس لئے جناب چیف جسٹس! بے بس بے وسیلہ انسان آپ سے توقعات باندھے زنجیر عدل ہلائے جا رہے ہیں۔ آپ ثابت قدم رہیں، کسی کو خاطر میں نہ لائیں، میر کاررواں بنیں اور ڈوبتی نیا کو کنارے کی جانب دھکیل دیں ورنہ اب اس دھرتی کے اتھل پتھل ہونے میں طوفان نوح کی کسر ہی باقی رہ گئی ہے۔