اجمل قصاب‘ سمجھوتہ ایکسپریس اور ہیمنت کرکرے کا قتل

24 دسمبر 2009
بھارتی انسداد دہشت گردی کے اداروں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ دہشتگردی کیخلاف بین الاقوامی اتحاد کا حصہ ہونے کے باعث پاکستان خود بھی تاریخ کی انتہائی بدترین دہشت گردی کا شکار ہے جس کا لقمہء اجل ہزاروں پاکستانی شہری بھی بن چکے ہیں، جس انداز سے ممبئی دہشت گردی کی واردات میں پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں معاملہ فہمی اور جموں و کشمیر و دیگر مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی بجائے دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات سے ہی علیحدگی اختیار کر لی تھی اور جسے خطے میں ایک معنی خیز سیاسی اور سفارتی ڈویلپمنٹ سے تعبیر کیا گیا تھا‘ کے بعد اب ممبئی دہشت گردی کے حوالے سے اہم ملزم اجمل قصاب کا اپنے اقبالی بیان سے منحرف ہونا ، بہت سی نئی کہانیوں کا پیش خیمہ ہی لگتا ہے ۔اِس سے قبل بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستی کی ٹرین سروس جسے سمجھوتہ ایکپریس سے تعبیر کیا جاتا ہے اور دہلی و مالے گائوں بم دھماکوں کے حوالے سے دہشت گردی کی بہیمانہ وارداتوں کا ملبہ بھی بھارتی ریاستی اداروں نے مبینہ پاکستانی شدت پسند تنظیموں اور ریاستی تنظیم ISI پر ہی ڈالا تھا لیکن اِن دونوں وارداتوں میں بل خصوص سمجھوتہ ایکسپریس اور مالے گائوں دھماکوں میں بھارتی انسداد دہشت گردی کی ٹیم کے دو باضمیر افسروں ہیمنت کرکرے اور سالسکر کی غیرجانبدارانہ تفتیش کے دوران جو حقائق سامنے آئے وہ انتہائی حیران کن تھے جس سے یہ بات اظہر من الشمش ہو گئی تھی کہ دہشت گردی کی اِن واقعات میں پاکستانی شدت پسند تنظیمیں نہیں بلکہ اِن المناک وارداتوں کے اصل ملزمان بھارتی انتہا پسند، ہندو توا ، تنظیموں سے منسلک بھارتی فوج کے چند متعصب افسران بشمول ریٹائرڈ کرنل پروہت بھی دہشت گردی کی اِن کارروائیوں میں ملوث تھے لیکن حیران کن بات ہے کہ ممبئی دہشت گردی کے دوران پُراسرار طور پر اِن باضمیر بھارتی افسران کو بھی قتل کر دیا گیا ۔ چنانچہ اِسی حوالے سے گذشتہ روز بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونیوالے اجمل قصاب کے نئے انکشافات بھی بھارتی قانون نافذ کرنیوالے اداروں میں پاکستان مخالف شدت پسندی کی موجودگی کو ہی ظاہر کرتے ہیں۔ اجمل قصاب کا اجمل قصاب ہونے سے ہی انکار کرنا اور پولیس تشدت کے ذریعے اقبالی بیان دئیے جانے کا تذکرہ کرنا ، اِس لئے بھی اہم ہے کیونکہ بھارت نے ممبئی دہشت گردی کی واردات میں بین الاقوامی یا پاکستانی اداروں کی مدد سے کسی بھی نوعیت کی مشترکہ تفتیش سے انکار کر دیا تھا ۔
بہرحال حقیقت یہی ہے کہ اجمل قصاب کا ممبئی دہشت گردی سے منسلک ہونا یا نہ ہونا اتنا اہم نہیں تھا جتنا اہم اِس بات کا پتہ چلانا ہے کہ کیا ایک سے زیادہ پاکستانی شہری مبینہ طور پر ایسی المناک واردات سے منسلک ہوئے ہیں ؟ اجمل قصاب کا یہ کہنا معنی خیز ہے کہ اُنہیں اِس بہیمانہ اقدام میں کسی اہم ریاستی آفیشل کے حکم پر ملوث کیا گیا تھا کیونکہ ممبئی دہشت گردی کے وقوع پزیر ہونے سے بیس روز قبل ممبئی کے علاقے چوپاٹی سے بھارتی پولیس نے اُسے گرفتار کیا تھا؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر اجمل قصاب کے کہنے کیمطابق وہ اجمل قصاب نہیں ہے تو اصل اجمل قصاب کہاں ہے کیونکہ ایک پاکستانی اجمل قصاب کے متعلق اُس کی فیملی ذرائع کا مبینہ طور پر کہنا کہ قصاب چند سال سے اُنکے رابطے میں نہیں ہے جبکہ بین الاقوامی شہرت کے حامل بیرسٹر فاروقی میڈیا بیانات میں کہتے رہے ہیں کہ اجمل قصاب اور دیگر بہت سے پاکستانیوں کو بھارتی ایجنسیاں نیپال سے اغوا کر کے لے گئی تھیں جن کی بازیابی کیلئے ایک درخواست نیپالی سپریم کورٹ میں بھی دائر کی گئی تھی جو ابھی تک زیر سماعت ہے ۔ گو کہ پاکستان میں نیپالی سفیر نے ممبئی دہشت گردی کی واردات کے بعد ایک اخباری بیان میں نیپالی فورسز کی جانب سے کسی پاکستانی شہری کو بھارتی ایجنسیوں کے حوالے کرنے کی تردید کی لیکن بیرسٹر فاروقی بدستور اپنے موقف پر قائم رہے کہ بھارتی ایجنسیاں نیپال سے پاکستا نیوں کے اغوا میں ملوث ہیں ؟
اجمل قصاب کے نیپال میں گرفتار ہونے کی ایک اخباری خبر 22 فروری 2008 ڈیٹ لائن کے حوالے سے نیوز اخبار میں شائع ہونی بیان کی گئی ہے لیکن اُس وقت نیپالی سفارت خانے کی جانب سے اِس اَمر کی تردید نہیں کی گئی تھی لہذا بین الاقوامی ایجنسیوں کو اِس اَمر کی تحقیق سنجیدگی سے کرنی چاہئیے اور آزادانہ تفتیش کے دوران اِس اَمر کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ بھارتی ایجنسیاں بہت سے پاکستانیوں کو ضروری سفری دستاویزات رکھنے کے باوجود ویزہ رولز کی معمولی خلاف ورزیوں ، معمولی اشیا کی سمگلنگ وغیرہ میں ملوث ہو جانے یا پھر بھارت کے آزادانہ ماحول میں Joy ride کے حوالے سے بھارتی ہوٹلوں میں غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہو جانے کی بنیاد پر اکثر گرفتار کرتی رہتی ہے اور ایسے گرفتار شدگان کو جسمانی اور نفسیاتی تشدد کے ذریعے پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کیلئے دبائو ڈالا جاتا ہے ۔ ماضی میں کچھ ایسے ہی پاکستانی قیدیوں کی لاشیں بھارت سے موصول ہوتی رہی ہیں جنہیں بھارتی ایجنسیوں نے مبینہ طور پر پاکستان میں دہشتگردی یا جاسوسی کیلئے استعمال کرنے کے ارادے سے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ چونکہ بھارتی فوج اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں میںانتہا پسند ہندو افسران کی کمی نہیں ہے جو پاکستان کو نشانہ بنانے اور بین الاقوامی اداروں میں پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ، لہذا ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ جہاں بھارتی ایجنسیوں نے کشمیر یا دیگر سرحدی علاقوں سے Armed encounters میں گرفتار کئے گئے شدت پسندوں کو اپنی مقصد براری کیلئے دہشتگردی کے Fake منصوبوں میں استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا ۔ اندریں حالات، اجمل قصاب کے اپنے گذشتہ بیانات سے انحراف کرنے کے بعد اِس اَمر پر بھی غور و فکر کیا جانا چاہئے کہ آیا ممبئی دہشت گردی بھارتی ریاستی اداروں کی انجیئنرڈ ہے یا اِس کارروائی میں مذموم مقاصد رکھنے والے ہندو دہشت گرد ملوث ہیں ؟ چنانچہ انسداد دہشت گردی کے بین الاقوامی اور پاکستانی اداروں کو بھارتی میڈیا میں وقتاً فوقتاً شائع ہونیوالی اِن رپورٹس پر بھی غور و فکر کرنا چاہئے جن کے ذریعے بھارتی انتہا پسند ہندتنظیموں شیو سینا ، وشوا ہندو پریشد ، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ ، ہندو یونٹی ، بجرنگ دل اور دیگر ، ہندو توا ، تنظیموں کی لیڈرشپ کے بھارتی فوج اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی حوصلہ افزائی سے پاکستانی اداروں اور سپورٹس ٹیموں کیخلاف نفرت انگیز پروپیگنڈے میں ملوث ہونے کی دلیل بن جاتی ہے ۔ دہشت گردی اور پاکستان کے حوالے سے بھارتی مسلمان مذہبی تنظیموں سے منسلک افراد کے بارے میں میڈیا رپورٹس بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر متعلقہ افراد کو منسلک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جیسا کہ اِن مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے ۔
2006 میں وارنسی بم دھماکوں سے تعلق ظاہر کرنے کیلئے بھارتی پولیس نے دہلی کے مضافات میں دہشت گردی کے ایک پولیس مقابلے میں دو نوجوانوں کو ہلاک کیا جس پر بھارتی سول لیبرٹی مانٹرنگ کمیٹی نے مارچ 2006 میں اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ وارنسی دھماکوں کے بعد پولیس نے دو مسلمان نوجوانوں کو غیر قانونی حراست میں لیا اور چند دن حراست میں رکھنے کے بعد دہلی کے مضافات میںنام نہاد پولیس مقابلے میں دہشت گرد ظاہر کرکے ہلاک کر دیا ۔ جولائی 2006 میں ممبئی ٹرین دھماکوں کے حوالے سے بھارتی قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے تفتیش کو درست پیرائے میں رکھنے کی بجائے بھارت کے دور دراز علاقوں سے مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کیا جن میں کچھ ملزمان کو اِن دھماکوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا ۔ دو طلباء کو ریاست بہار اور ایک کوممبئی کی مضافاتی بستی سے گرفتار کیا گیا ۔ ایک طالب علم کے گھر سے ڈیڑھ کلو دھماکہ خیز مواد قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا گیا لیکن اِس طالب علم کی والدہ جو ایک بھارتی فوجی کی بیوہ تھی نے میڈیا کو بتایا کہ اُس کا بیٹا دہشت گردی میں ملوث نہیں ہے اور پولیس نے گھر میں موجود سیاہ سیمنٹ کو دھماکہ خیز مواد بنا کر پیش کیا ہے ، پولیس نے البتہ اُس بھارتی انتہا پسند ہندو نوجون سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جس نے اِی میل کے ذریعے اِن دھماکوں کی ذمہ داری کا الزام لشکر قہار کے نام لگایا تھا ۔ اِسی مقدمے کے بیشتر ملزمان نے عدالت میں یہی بیان دیا کہ وہ بے گناہ ہیں اور پولیس نے اُن پر دبائو ڈال کر فرضی بیان لئے ہیں اور سادہ کاغذوں پر دستخط کرائے ہیں ‘ اِسی طرح شہادت مٹانے کیلئے ماضی بھارت نے انڈین پارلیمنٹ اور ایودھیا میںبابری مسجد کے ہموار پالاٹ کے نزدیک تما م مبینہ دہشت گردوں کو شوٹ و کِل کے حوالے سے قتل کیا جبکہ اِن دہشت گروں نے` کسی کو یرغمال بھی نہیں بنایا تھا؟
مندرجہ بالا تناظر میں اِس اَمر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے کہ بھارت ، خطے میں علاقائی مفادات کو ہی عزیز رکھتا ہے اور بین الاقوامی دہشت گردی کی روک تھام کرنے کی بجائے بھارت نے ہمیشہ اپنے علاقائی مفادات کو ہی مقدم رکھا ہے۔ موجودہ بین الاقوامی منظر نامے میں بھی بھارت مبینہ طور پر ممبئی دہشت گردی کی آڑ میں پاکستان سے جامع مذاکرات سے گریز کر کے کشمیر ہڑپ کرنے اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کیپ کرانے کے ایجنڈے پر گامزن ہے۔ اندریں حالات اجمل قصاب کا موجودہ بیان معنی خیز ہے جس کی تہہ تک پہنچنے کیلئے انسداد دہشت گردی کے بین الاقوامی اداروں کو مناسب نوٹس لینا چاہئے۔