ٹیکسوں کا بحران‘دانشور اور میڈیا … (آخری قسط)

24 دسمبر 2009
محمود مرزا ...................
ٹیکس نظام کے ذریعہ حکومت مالی وسائل اکٹھے کرتی ہے۔ قومی خزانہ کو کبھی اتنے وسائل نہیں ملے جتنی گنجائش تھی۔ جو ٹیکس اکٹھے ہوئے اس کا ایک فیصد بھی ترقیاتی منصوبوں کیلئے استعمال نہیں ہوا۔ قومی خزانہ تعلیم، صحت اور رفاہِ عام کا بندوبست کرنے میں ناکام رہا۔ امن و امان اور قانون کی عملداری کیلئے وسائل ناکافی تھے۔ ان حالات سے اُکتایا ہوا ایک طبقہ بعض اوقات چیخ اُٹھتا ہے کہ ٹیکس سرے سے ادا نہ کیا جائے مگر کیا اس طرح مطلوبہ مقصد مثلاً امن حاصل ہو جائیگا۔ ہرگز نہیں۔
ہمارے یہاں متعدد جنونی گروہ ملک کی تخریب کیلئے انارکی کے منتظر ہیں۔ ہماری ضرورت سماجی تبدیلی ہے، انارکی نہیں۔ ہماری رائے میں پُرامن سماجی تبدیلی کا عمل 2007ء سے شروع ہو چکا ہے۔ فی الحال اس کا نقشہ خطوط اور رُخ واضح نہیں۔ لاہور میں سماجی ماہرین کا ایک گروپ اس سلسلہ میں لائحہ عمل تجویز کرنے میں مصروف ہے۔ لاکھوں، کروڑوں لوگ مروجہ نظام کے شاکی ہیں۔ جب بھی وہ پُرامن طور پر متحرک ہو جائیں گے، سماجی تبدیلی کا سامان ہو جائیگا۔
زیرِ نظر سطور میں بحث صرف ٹیکس نظام کی اصلاح پر مرکوز ہے۔ زیرِ غور مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس نظام کی ہیئت اور خصوصیات کیا ہوں جو اچھی حکومت کو اس قابل بنائے کہ وہ رفاہِ عام سرانجام دے۔ ذیل میں ٹیکس نظام کے بارے میں چند تجاویز پیش ہیں:
تجاویز: …فوری اہمیت پیداوار اور روزگار بڑھانے کی ہے۔ جب تک کساد بازاری جاری ہے، ہمارے حالات میں ٹیکس کی شرح میں اضافہ پیداوار اور روزگار کی حوصلہ شکنی کریگا‘ مگر ٹیکس وصولی کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ کام ٹیکس کا احاطہ پھیلا کر اور ٹیکس چوری روک کر کسی حد تک ممکن ہے۔ بصورتِ دیگر قرضوں اور مصارفِ قرضہ میں اضافہ ہوگا جو کساد بازاری کو دوام دیگا۔ ٹیکس نظام کی اصلاح کی تجاویز درج ذیل ہیں جو رفاہی ریاست کی منزل کی جانب پیشرفت کا ذریعہ بنیں گی۔
(1)ٹیکس نظام کے حوالہ سے ہماری بنیادی کمزوری ڈاکومنٹیشن کی ہے۔ ہماری معیشت کا بڑا حصہ نقد لین دین کرتا ہے۔ حکومت نے ڈاکومنٹیشن رائج کرنے کیلئے سائنٹفک اپروچ اختیار نہیں کی۔ اس نے قوانین تو بنا رکھے ہیں کہ تاجر اور صنعتکار خرید و فروخت کا ریکارڈ رکھیں مگر اسکی راہ میں مشکلات دُور کرنے کیلئے سنجیدہ قدم نہیں اُٹھایا۔ بعض کاروباروں کی ڈاکومنٹیشن کی راہ میں فنی مشکلات ہیں۔ یہ مشکلات ان شعبوں میں پائی جاتی ہیں جہاں انڈر انوائسنگ ہوتی ہے یا جہاں اشیا اسمگل ہوتی ہیں یا بجلی اور سیلز ٹیکس کی چوری ہوتی ہے۔ جس وسیع پیمانے پر یہ نقائص پائے جاتے ہیں بہت سے کاروباروں کی ڈاکومنٹیشن آسان نہیں۔
ضرورت ہے کہ ماہرین کی کمیٹی جائزہ لے کہ ہمارے حالات میں ڈاکومنٹیشن کی راہ میں کیا کیا مشکلات ہیں۔ کمیٹی ان مشکلات کو دُور کرنے کیلئے تجاویز پیش کرے۔ غالباً یہ ممکن نہیں ہوگا کہ ایک ہی ہلے میں مذکورہ مشکلات دور ہوں‘ اس لئے ڈاکومنٹیشن کیلئے تدریجی اقدامات اختیار کرنے ہونگے۔ بہتر ہوگا کہ وزیرِ خزانہ سرکاری سطح پر ماہرین کی کمیٹی قائم کریں جو سرکاری اور غیرسرکاری ماہرین پر مشتمل ہو۔ یہ کمیٹی تجاویز تیار کرے کہ نقائص کیسے دور ہوں اور صحیح حسابات کی جانب کیسے پیش رفت کی جائے۔
(2)ٹیکس ادا کرنیوالوں کا ٹیکس سسٹم پر اعتماد ضروری ہے۔ اس سمت ایک قدم یہ ہے کہ اپیلوں کے نظام کو صحیح معنی میں آزاد کیا جائے۔ اس کیلئے قانون میں ترمیم درکار ہے۔ اس وقت ایپلیٹ نظام کا بیشتر عملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ یہ بات صحیح نہیں۔
(3)سپریم کورٹ سے عرض ہے کہ وہ اس فیصلے پر دوبارہ غور کرے جس کی رُو سے اس نے مفروضہ آمدن اور فکسڈ ٹیکس کو شرفِ قبولیت عطا کیا۔ ٹیکس کی فکسڈ شرح ایک ایسے ملک کیلئے قابلِ قبول ہو سکتی ہے جس کی آبادی کم ہو اور معیشت سادہ ہو۔ پاکستان میں یہ قاعدہ ٹیکس کی آمدن بڑھانے اور معاشی انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ہے۔
(4)ایک طرف خود تشخیصی نظام ناگزیر ہے، دوسری طرف ہر سال کچھ ٹیکس گزاروں کا کمپیوٹر بیلٹ سے انتخاب اور مکمل آڈٹ ضروری ہے۔ قانون میں محکمہ کو آڈٹ کا اختیار حاصل ہے۔ مگر جنرل مشرف کی حکومت نے یہ طریقہ معطل کر رکھا تھا۔ موجودہ وزیرِ خزانہ نے اس قانون پر عملدرآمد کیا ہے جو اچھی بات ہے لیکن اسکے مفید نتائج اسی صورت میں برآمد ہوں گے کہ اگر محکمہ کے تشخیصی افسران منصفانہ رویہ اختیار کریں۔ اگر اُنہوں نے معاندانہ رویہ اختیار کیا یا ناجائز ٹیکس تشخیص کیا تو اس کے نتیجے میں وہ لوگ بھی جو نسبتاً بہتر حسابات رکھتے ہیں، ٹیکس چھپانے کی طرف مائل ہونگے۔
(5)مجموعی اصلاحات کی سکیم کا ایک نقطہ یہ ہونا چاہیے کہ سیلز ٹیکس کی شرح کم ہو۔ ہمارے یہاں اونچی شرح کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹیکس گزاروں کی بڑی تعداد اپنی فروخت چھپاتی ہے۔ وہ ٹیکس گزار تھوڑے ہیں جو اونچی شرح پر بھی عملدرآمد کرتے ہیں۔
عام طور پر ٹیکس گزار پسند نہیں کرتاکہ حکومت اسکی کمائی یا دولت میں شریک بنے۔ کہیں بھی ٹیکس خوشی سے دیا نہیں جاتا، وصولی کیلئے قانونی جبر لازمی ہوتا ہے۔ البتہ جہاں قانون بنانے والوں اور ٹیکس کلکٹروں کا دامن صاف ہو وہاں ٹیکس وصولی آسان ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں حکمران طبقے کا ٹیکس ادائیگی کا ریکارڈ مایوس کن رہا ہے۔ جب تک یہ طبقہ اپنے عمل سے عوام کے سامنے اچھی مثال قائم نہیں کریگا، عوام میں ٹیکس ادائیگی کیلئے ترغیب اُجاگر نہ ہوگی۔
معیشت کو معاشرتی انصاف سے متصف کرنے کے دو تقاضے ہیں۔ اوّل پیداواری ڈھانچہ توانا ہو اور دوم ٹیکس نظام مؤثر ہو۔ پیداواری ڈھانچہ کی مضبوطی جدیدیت اختیار کرنے سے منسلک ہے۔ جدیدیت کا عمل دو دہائیاں طلب کریگا۔ اسے جاری کرنے میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے‘ البتہ ٹیکس نظام کی اصلاح تین چار سالوں میں ممکن ہے۔
ٹیکس نظام اس وقت تک مؤثر نہ ہوگا جب تک معیشت کی ڈاکومنٹیشن نہ ہوگی۔ ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے کیلئے اسے آسان اور منصفانہ بنانا ہوگا۔ منصفانہ سے مراد یہ ہے کہ اشیا پر ٹیکسوں کا بوجھ کم ہو، بجٹ کو بھی منصفانہ بنانا ہوگا۔ اس کا ایک تقاضا یہ ہے غیرترقیاتی اخراجات کم کرنے ہونگے۔ اخراجات کی ترتیب میں عوامی آسودگی اور بہبود کو اوّلین مقام دینا ہوگا۔ یہ اصلاحات اسی صورت ہونگی اگر دانشور اور میڈیا بھرپور مہم چلائیں۔ جدوجہد کی ابتدا معیشت کی ڈاکومنٹیشن سے ہوگی۔ ڈاکومنٹیشن اور شفافیت قائم کر کے ٹیکس چوری اور غبن کی موثر روک تھام کرنی ہوگی۔ کالے دھن کی معیشت سکڑنے لگے گی۔ جوں جوں پیداواری ڈھانچہ مضبوط ہوگا، پیداوار بڑھے گی۔ روزگار کے مواقع بڑھیں گے، ٹیکس کی آمدن بڑھے گی اور قومی خزانہ مستحکم ہوگا۔ اِسی صورت میں ریاست اس قابل ہو گی کہ منصفانہ معاشرے کے قیام کی ذمہ داری نبھا سکے۔