نئی افغان پالیسی… کسی خوش فہمی میں نہ رہیں … (۱)

24 دسمبر 2009
بہت سوچ بچار کے بعد آخر امریکی صدر بارک حسین اوباما نے افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے تیس ہزار تازہ دم فوجی زخموں سے تار تار بدقسمت ملک میں بھیجنے کا اعلان کردیا۔ اس طرح افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 98 ہزار ہو جائے گی۔ امریکی تائید میں نیٹو ممالک نے بھی مزید 7 ہزار ٹروپس بھیجنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس طرح غیرملکی افواج کی کل تعداد ڈیڑھ لاکھ سے بڑھ جائے گی۔ صدر اوباما کی تقریر کے اہم نکات کا تذکرہ ضروری ہے تاکہ موجودہ صورت حال اور مستقبل میں امریکی عزائم کی نشاندہی کی جاسکے۔ انہوں نے فرمایا:
O… پاکستان میں القاعدہ کی پناہ گاہیں ناقابل برداشت ہیں۔ ان کے خلاف پاکستان میں کارروائی سے دریغ نہیں کریں گے۔
O…القاعدہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔
O…جولائی 2011ء سے امریکی فوجوں کی افغانستان سے واپسی کا عمل شروع ہو جائے گا۔
O…امریکہ پاکستانی عوام کی سلامتی کا سب سے بڑا حامی ہے۔
اسی روز پاکستان میں مقیم امریکی سفیر صاحبہ نے فرمایا۔ ’’القاعدہ کی پاکستان میں موجودگی کی انٹیلی جنس رپورٹ موجود ہے۔‘‘ ’’دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے نظرانداز کرنا تباہ کن ہوگا۔‘‘ ساتھ ہی امریکی سلامتی کے سربراہ جیمز جونز نے ارشاد فرمایا ’’پاک افغان سرحد سے شدت پسندوں کے خاتمے تک واپس نہیں جائیں گے۔‘‘ اس انتہائی اہم پالیسی کے اعلان پر جن تحفظات کا اظہار کیا گیا ان کا تذکرہ بھی کرتی چلوں۔
O… چونکہ 48% امریکی عوام فوجیں بھیجنے کے خلاف تھے۔ اس لئے امریکی ارکان کانگریس نے تحفظات کا اظہار کیا۔
O…روس، بھارت، آسٹریلیااور نیٹو ممالک نے نئی افغان پالیسی کی حمایت کا اعلان کیا۔
O…پاک فوج نے کہا ’’ڈومور کا مطالبہ غیرمناسب ہے۔ بیرونی دبائو پر حکمت عملی تبدیل نہیں کریں گے۔‘‘
O… پاکستان کی وزارت خارجہ نے دست بستہ عرض کیا:’’امریکہ یقین دلائے پاکستان پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔‘‘
O…وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ارشاد فرمایا:’’مزید فوجیوں کی تعیناتی پر کچھ تحفظات ہیں۔‘‘ ایک روز پیشتر بڑے مئودبانہ انداز میں اپیل کی تھی کہ ’’امریکہ کو مزید پانچ برس تک افغانستان کو نہیں چھوڑنا چاہئے۔‘‘
واہ ری قسمت! کیسے کیسے عجوبہ روزگار سیاسی رہنماء پاکستان کو قدرت نے عطا کردیئے ہیں۔ اگر کچھ تحفظات ہیں تو امریکہ کو پانچ سال تک اس علاقہ میں قیام کی دعوت کیوں دے رہے ہیں؟ کیا سیاست کا معیار صرف منافقت اور جھوٹ ہے؟ یہ بھی کہا گیا کہ بارک حسین اوباما نے ٹیلی فون پر پاکستانی صدر سے نئی افغانستان پالیسی پر مشاورت کی۔
واللہ! کتنا اہم ہے ہمارا صدر کہ سپر پاور کے ظلِ الٰہی نے امریکہ سے فون کیا تھا؟
حقیقت صرف اس قدر ہے کہ بھارتی وزیراعظم سے تفصیلی مشاورت کرکے مسٹر آصف علی زرداری کو بھی فون کیا گیا اور جو کچھ طے کرلیا گیا تھا وہ بیان کردیا گیا۔ اسے مشاورت کہنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ اگر صدر اوباما کی تقریر کے نکات ’’قابل احترام‘‘ پاکستانی صدر سے مشاورت کا شاخسانہ ہیں تو یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے دانشوروں، کالم نگاروں، تجزیہ کاروں اور ٹی۔وی اینکرز کی اکثریت نے مسٹر اوباما کی نئی افغانستان پالیسی کی کھلے دل سے تعریف کی ہے۔ کچھ تو محض اس وجہ سے بہت خوش ہیں کہ ظلِ الٰہی نے اپنی تقریر میں 22مرتبہ پاکستان کا نام لیا۔ (کس تناظر میں لیا اس کی پرواہ نہیں) اس یکطرفہ خوشی کے اظہار کی موجودگی میں مجھ جیسی انتہائی جونیئر لکھاری کیلئے اپنے دلی تاثرات کا اظہار رنگ میں بھنگ ڈالنے کے مترادف تھا۔ پہلی بات تو یہ کہ اخبارات میں جو کچھ لکھا جا رہا ہے اس پر حکومت کی کوئی ایجنسی دھیان ہی نہیں دیتی۔ حب الوطنی کے جذبہ میں ڈوبے ہوئے مضامین جونامور اور سینئر ترین کالم نگار خون میں انگلیاں ڈبو کر تحریر کر رہے ہیں۔ ان کا نوٹس بھی کسی سطح پر نہیں لیا جارہا۔ جسٹس کے ایم۔صمدانی نے اپنے خوبصورت مضمون میں ’’نصب العین‘‘ کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ تو بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ پاکستانی قوم کا نصب العین تو مادہ پرستی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ اوپر کی سطح پر لوٹ مار، کرپشن، اقرباء پروری، ناجائز مراعات اور غیر قانونی اقدامات کی بھرمار ہے اور نچلی سطح پر ذہنی کرپشن اپنے عروج پر ہے۔ 4 دسمبرکو جب راولپنڈی کی عبادت گاہ سے معصوم بچوں کی میتیں نکالی جا رہی تھیں، اس وقت ٹی۔وی پر کامیڈی ڈرامے، بیہودہ ڈانس اور اخلاق سے گرے ہوئے پنجابی ڈرامے نشر کئے جا رہے تھے۔ یہ سب کچھ اس غمگین شام کو بھی دہرایا گیا تھا جس روز بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا تھا۔
پچھلے تین روز کے اندر بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ اس لئے قلم اٹھایا ہے۔پہلی بات تو یہ کہ امریکہ نے اعلان کردیا ہے کہ ’’اسامہ جہاں ہوگا کارروائی کریں گے۔‘‘ امریکی سلامتی کے مشیر جیمز جونز نے واضح طور پر نشاندہی کردی ہے۔ ’’اسامہ پاکستان یا پاک افغان سرحدی علاقہ میں چھپا ہوا ہے‘‘ اس بیان کا سلیس اردو میں ترجمہ یہ ہے کہ تازہ دم امریکی فوجیوں کو پاکستانی قبائلی علاقوں (فاٹا) میں زمینی آپریشن کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ حکومت کی اسامہ یا القاعدہ لیڈر شپ کی پاکستانی علاقوں میں موجودگی کی تردید اس لئے غیر اہم ہے کہ این۔ڈبلیو۔ پیٹرسن انٹیلی جنس رپورٹس کی سچائی کا ذکر پہلے ہی کر چکی ہیں۔ امریکی وزیر دفاع کا یہ بیان کہ ان کی فوجیں پاکستان کے اندر طالبان کا پیچھا نہیں کریں گی محض کیموفلاج ہے۔ مسٹر اوباما نے 2011ء میں افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کا جو ذکر اپنی تقریر میں کیا تھا اس کی وضاحت ایڈمرل مائیک مولن اور ہلیری کلنٹن نے کردی ہے۔ ایک نے فرمایا ہے کہ ’’افغان جنگ جیتنے کی تاریخ نہیں دے سکتے‘‘ اور محترمہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’2011ء میں امریکی افواج کی واپسی کو ڈیڈ لائن نہ سمجھا جائے۔‘‘… (جاری ہے)