A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

جمہوریت کی گا ڑی بے شک ڈی ریل نہ ہونے دیں مگر عوام تک جمہوریت کے ثمرات بھی تو پہنچائیں

24 دسمبر 2009
وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ جمہوریت کی گاڑی کو ڈی ریل نہ ہونے دینا مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور پارٹی کی پالیسی ہے کیونکہ جمہوریت کے دور میں عوام کی آواز ہوتی ہے اور انکے مسائل حل ہوتے ہیں۔ گزشتہ روز پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے ارکان کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں سرخرو ہونے اور اپنا مقام بنانے کیلئے ہمیں امیر اور غریب کے فرق کو کم کرنا ہو گا۔ انکے بقول غریبوں کو عدلیہ کے فیصلوں پر بحث مباحثوں اور حکمرانوں کے معمولات سے کوئی غرض نہیں، انہیں اس بات سے غرض ہے کہ انکے بچوں کو تعلیم، صحت، خوراک اور دوسری بنیادی سہولتیں حاصل ہوں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جمہوری نظام کی بنیاد عوام کی حکومت، عوام کیلئے عوام کے ذریعے کے فلسفہ پر کھڑی ہے اور اسے سلطانیٔ جمہور بھی اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اس نظام میں عوام ہی خود کو حکمران تصور کرتے ہیں اس لئے بنیادی طور پر جمہوریت کا مقصد شرف انسانیت کی پاسداری کرتے ہوئے ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست تشکیل دینا ہے جس میں انسانوں کے مابین اونچ نیچ کا کوئی تصور قائم نہ ہو۔ قومی وسائل و اختیارات ایک یا چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہوں، غریب کو غریب تر اور امیر کو امیر تر بنانے کی فضا پیدا نہ ہو۔ لوگوں کو بلاروک ٹوک اور بلاامتیاز انصاف حاصل ہو رہا ہو۔ تمام بنیادی ضرورتیں پوری ہو رہی ہوں، آبرومندی اور جان و مال کے تحفظ کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع دستیاب ہوں اور ان کا اپنا ہی نہیں انکے بچوں کا مستقبل بھی محفوظ ہو۔ ان صفات کا حامل جمہوری نظام کسی معاشرے کی خوش بختی ہوتا ہے اور اسی تصور کی بنیاد پر جمہوریت کو ڈی ریل نہ ہونے دینے کیلئے مسلم لیگ (ن) اور اسکے قائدین میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کا عزم قابل قدر ہے مگر آج جس نظام کو ڈی ریل نہ ہونے دینے کیلئے وہ پرعزم نظر آتے ہیں انہیں یہ بھی تو جائزہ لینا چاہئے کہ آیا وہ جمہوریت کی تعریف پر پورا بھی اتر رہا ہے یا نہیں۔ اگر اس نظام میں انسانی دکھ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہے ہیں۔ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہی نہیں ہو رہا غریب طبقہ خط غربت سے بھی نیچے دھکیلا جا رہا ہے اور مراعات یافتہ طبقہ اشرافیہ کو تمام قومی وسائل اپنے تصرف میں رکھنے کا حقدار سمجھ لیا گیا ہے، انسانی بُعد و امتیاز کی کوئی حد ہی نہیں رہی۔ مہنگائی، مسائل کے مارے عوام کو زندہ درگور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ لاقانونیت اور بدامنی ایسی ہے کہ کوئی شخص (خاتون و مرد) اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں اور انتہا یہ کہ قومی مفادات کی نگہبانی بھی نہیں ہو رہی تو کیا یہ وہی جمہوری نظام ہے جسے مسلم لیگ (ن) کے قائدین ڈی ریل ہونے سے بچانا چاہتے ہیں اور اس سلسلہ میں حکمران پیپلز پارٹی کے ساتھ غیر مشروط تعاون کا اعادہ و اعلان کئے چلے جا رہے ہیں۔
اس وطن عزیز میں یکے بعد دیگرے چالیس برس تک مسلط رہنے والی فوجی آمریتوں نے جو گل کھلائے ہیں عوام کو اذیتوں میں مبتلا کیا ہے، ملکی و قومی مفادات کا سودا کیا ہے، آئین و قانون کا حلیہ بگاڑا ہے اور شخصی حکمرانی کی بدترین مثالیں قائم کی ہیں۔ اسکے پیش نظر ملکی و قومی سلامتی اور عام آدمی کے مسائل کے حل کیلئے فکرمند کوئی فرد یا جماعت ماورائے آئین اقتدار کے خناس میں مبتلا کسی طالع آزما کو دوبارہ جمہوریت کی بساط الٹانے کا موقع فراہم کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی، جس کی مزاحمت کیلئے میاں نواز شریف کا عزم یقیناً قابل ستائش ہے مگر اس وقت سلطانیٔ جمہور کی باگ ڈور جن ہاتھوں میں ہے‘ وہ سلطانی جمہور کو مستحکم بنانے اور اس کیخلاف کسی سازش کو پروان نہ چڑھنے دینے کیلئے خود کتنے فکرمند ہیں، اس کا جائزہ لیا جائے تو جواب منفی میں ہی سامنے آئیگا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی یہ تشویش بھی بجا ہے کہ اگر ہم نے عام آدمی کو ریلیف نہ دیا‘ انکے بنیادی مسائل حل نہ کئے اور امیر غریب میں فاصلہ کم نہ کیا تو پھر یہاں خونیں انقلاب کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ مگر جو حکمران اپنی عاقبت نااندیشیوں، عوام دشمن پالیسیوں اور لوٹ مار گروپ کو سرکاری تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کی بناء پر خود ہی خونیں انقلاب کی راہ ہموار کر رہے ہوں، مسلم لیگ (ن) اور اسکے قائدین جمہوریت کو ڈی ریل نہ ہونے دینے کے نام پر انہی حکمرانوں کو بچانے کی فکر میں غلطاں ہیں۔ نتیجتاً وہ خود بھی عوامی غیظ و غضب کا کیوں نشانہ نہیں بنیں گے۔ جمہوریت کے تحفظ و استحکام سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے اور جرنیلی آمریتوں کی ڈسی ہوئی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین پر جمہوریت کے تحفظ و استحکام کیلئے کردار ادا کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے مگر پہلے جمہوریت کے نام پر اقتدار میں آنیوالے حکمرانوں کو تو جمہوریت کی ڈگر پر چلا لیا جائے۔ اگر وہ خود ہی کدالیں لیکر جمہوریت کے میٹھے پھل والے درخت کی جڑیں کاٹنے پر تلے ہوئے ہیں تو پہلے جمہوریت کے آگے گڑھے کھودنے والے ان ہاتھوں کو تو روک لیا جائے۔ اس وقت دمادم مست قلندر کے نعرے لگاتے، سندھ کارڈ استعمال کرنے اور اگلی لاش پنجاب بھجوانے کی دھمکیاں دیتے ہوئے اس سسٹم کے ساتھ جو کچھ کیا جا رہا ہے، کیا یہی وہ جمہوریت ہے جسے بچانے کیلئے آخری حد تک جانا مسلم لیگ (ن) نے اپنے منشور کا حصہ بنالیا ہے؟ میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کو غور کرنا چاہئے کہ جن عوام کو ڈیزل، پٹرول، گیس، بجلی، پانی کے نرخوں میں ہر مہینے دو مہینے بعد ناقابل برداشت اضافہ کر کے مہنگائی کی چکی کے ظالم پاٹوں میں بے دردی کے ساتھ پیسا جا رہا ہو اور انہیں گھر کے اندر اور باہر اپنی جان و مال کے تحفظ کی بھی کوئی امید نہ ہو تو کیا وہ ان مصائب و مظالم کی بنیاد بننے والی حکومت کو جمہوریت کے تحفظ کے نام پر بچانے کیلئے آپکے عزم کے ساتھ جڑے رہیں گے یا آپ کو بھی ان کا ساتھی تصور کر کے انہی کے انجام سے دوچار کرنے کا سوچیں گے۔
اندریں حالات سسٹم کو بے شک ڈی ریل نہ ہونے دیں اور اس کیلئے ڈھال بن جائیںمگر اس سسٹم کو خلق خدا کے دکھ دور کرنے کا ذریعہ بھی تو بنائیں۔ اس سسٹم کی بناء پر غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کا توڑ بھی تو کریں اور اس سسٹم کو قومی خودداری سے ہم آہنگ بھی تو کریں ورنہ خونیں انقلاب کے جس خدشے کا وزیر اعلیٰ پنجاب اکثر اظہار کرتے نظر آتے ہیں اس کی راہ ہموار ہونے میں مزید کیا دیر لگے گی۔
مقبوضہ کشمیر… ایک متنازعہ
علاقہ ہے بھارت تسلیم کرے
عالمی بنک نے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کیمطابق مقبوضہ کشمیر کی حکومت نے وادی میں واٹر شیڈز کی تعمیر کیلئے عالمی بنک سے ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر کا قرضہ طلب کیا تھا مگر عالمی بنک نے کہا ہے کہ ادارہ کسی متنازعہ علاقے کیلئے امداد نہیں دے سکتا اور وہاں جاری منصوبوں کیلئے مزید سرمایہ کاری کرنے سے قاصر ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عالمی بنک کے حکام نے بھارتی نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کٹھ پتلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں یہ تحریری یقین دہانی کرائی جائے کہ اگر عالمی بنک نے اس مقصد کیلئے قرضہ دے بھی دیا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ عالمی بنک کے حکام کی طرف سے ایسا موقف اختیار کرنے پر مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت اور نئی دہلی میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر میں بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو کے مطالبہ پر استصواب کرانے کی قراردادیں منظور کی تھیں اب یو این کو تو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ ان قراردادوں پر عمل درآمد کرائے کیونکہ اقوام متحدہ گذشتہ کئی عشروں سے سپر طاقتوں بالخصوص امریکہ کے آلہ کار کی حیثیت سے محلاتی سازشوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے پاکستان کی طرف سے متعدد بلکہ سینکڑوں بار مطالبہ کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو یو این قراردادوں کی روشنی میں انکی مرضی کیمطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے جو کہ تقسیم برصغیر کا ایک اہم حصہ ہے جب تک بھارت کشمیر میں رائے شماری نہ کرائے گا اس وقت تک برصغیر کی تقسیم مکمل نہیں ہو گی اور کشمیری عوام کی مرضی کے بغیر انہیں کسی جانب بھی زبردستی نہیں دھکیلا جا سکتا۔ بھارت کو تو پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک گاہ بہ گاہ یہ یاد کراتے رہتے ہیں کہ پاک بھارت تعلقات مسئلہ کشمیر کے حل تک ٹھیک نہیں ہو سکتے اور نہ ہی خطہ میں امن و امان ہو سکتا ہے عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کو چاہئے اس مسئلہ کے حل کیلئے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے۔
یہ سفاکانہ مذاق ہوگا‘ نہ کریں
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین سہیل احمد نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان آپریشن کے اخراجات پورے کرنے کیلئے 16 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جائیں گے‘ انہوں نے کہا کہ یکم جنوری 2010ء سے ایک فیصد اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بھی لگائی جائیگی۔
پاکستان میں ہماری افواج قومی سلامتی اور امن و امان قائم رکھنے کیلئے آپریشن کر رہی ہیں‘ اس آپریشن کیلئے امریکی حکومت نے حکومت پاکستان کو مجبور کیا تھا‘ مگر ہمارے حکام اب ہمیں ہی دھمکیاں دے رہے ہیں کہ آپریشن کے اخراجات عوام پر سولہ ارب روپے کے نئے ٹیکس لگا کر پورے کئے جائیں گے۔ دوسری طرف امریکی صدر اوبامہ نے امریکہ کے دفاعی بجٹ کو منظور کرتے ہوئے پاکستان اور افغانستان میں ڈرون حملوں کیلئے آٹھ کروڑ ڈالر کے مزید ڈرون خریدنے کی منظوری دیدی۔ امریکہ ڈرون جہاز خرید رہا ہے تاکہ پاکستان میں مزید حملے بڑھائے جا سکیں اور ہماری فوج اپنے ہی ملک میں آپریشن کرکے دہشت گردوں کے نام پر اپنے ہی شہریوں کا صفایا کر رہی ہے اور اسکے اخراجات پورے کرنے کیلئے عوام پر مزید ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام ملک میں ٹیکسوں کی بھرمار سے پہلے ہی تنگ ہیں‘ ہماری کرنسی کی مارکیٹ ویلیو بہت زیادہ گر چکی ہے‘ ملک میں بے تحاشہ مہنگائی اور بے روزگاری ہے‘ آٹا‘ چینی‘ بجلی‘ گیس اور پٹرولیم کی مصنوعات کے بحران کی وجہ سے شہریوں کیلئے زندگی کا سلسلہ برقرار رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں عوام پر مزید سولہ ارب روپے کے ٹیکس لگانا انکے ساتھ نہایت سفاکانہ مذاق ہو گا۔ فوجی آپریشن کے اخراجات امریکی امداد سے پورا کریں‘ سب کچھ عوام سے ہی وصول کرنا ہے تو امریکی امداد کس کیلئے لی جا رہی ہے۔ بھوکے مرتے ہوئے اور خودکشیاں کرتے ہوئے عوام کے ہاتھوں سے منہ کا نوالہ چھیننا کسی طور بھی درست نہیں ہو گا۔ اب حکمران خود اپنی جائیدادیں‘ اپنے ناجائز اثاثوں اور غیرملکی بنکوں میں پڑے ہوئے سرمایہ کی قربانی دیں‘ عوام کی جیبوں اور رگوں میں اب کچھ باقی نہیں رہا‘ عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ لادنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
بھارتی جیلوں میں 1965ء
کے جنگی قیدی…!!
بھارت کی مختلف جیلوں میں 1965ء کے جنگی قیدیوں کی موجودگی کا انکشاف ایک نجی ٹی وی چینل نے کیا ہے۔ پٹیالہ جیل میں قید محمد ایوب ولد عبداللہ نامی قیدی کے خاندان کے افراد نے ان اطلاعات کے بعد کچھ روز قبل نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشن کے حکام سے ملاقات کی اور بتایا کہ محمد ایوب پٹیالہ جیل میں موجود ہے۔ 2004ء اور 2005ء میں کچھ پاکستانی رہا ہوئے تھے انہوں نے بھی تصدیق کی تھی کہ محمد ایوب پٹیالہ جیل میں ہے۔ سکیورٹی حکام نے محمد ایوب کے علاوہ مزید اٹھارہ پاکستانی قیدیوں کی بھارتی جیلوں میں موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔
بھارتی حکومت کانگرس کی ہو یا کسی بھی اور سیاسی پارٹی کی انکا کردار ناقابل اعتبار ہے وہ صرف پاکستان ہی کے دشمن نہیں ہیں۔ وہ عالم اسلام کے دشمن ہیں ان کا مشن مسلمانوںکو نیست و نابود کرنا ہے۔ بھارتی حکومت میں واجپائی جیسا منافق ہو یا من موہن سنگھ جیسا آدھا تیتر آدھا بٹیر۔ یہ سب پاکستان اور اسلام دشمنی میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں۔ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ 1965ء کی جنگ کے جو قیدی بھارت میں ہیں اور جن جیلوں کا پتہ چل گیا ہے ان کے بارے میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کو اطلاع کی جائے۔ریڈ کراس انٹرنیشنل کو انکی برآمدگی کے بارے میں درخواست کی جائے اور پاکستان میں جو بھارتی قیدی ہیں انکو غیر مشروط طور پر رہا کرنے کی بجائے 65ء کے جنگی قیدیوں کے علاوہ بھی جو قیدی بھارتی جیلوں میں ہیں انہیں ہر قیمت پر رہا کرایا جائے۔ معلوم ہوا ہے کہ بھارتی قید میں اٹھارہ سے زائد فوجی بھی ہیں جنہیں وہ گاہ بہ گاہ مختلف جیلوں میں منتقل کرتے رہتے ہیں۔ ان میں دو میجر، ایک کیپٹن، ایک لیفٹیننٹ ایک سیکنڈ لیفٹیننٹ ایک حوالدار، ایک لائس نائیک اور متعدد سپاہی رینک کے افراد ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھارتی جیلوں میں اس وقت 720 قیدی ہیں جو پاکستانی ہیں۔ ان تمام پاکستانی قیدیوں کو رہا کرایا جائے اور پاکستانی جیلوں میں جو بھارتی قیدی ہیں حکومت انکے ساتھ تبادلہ کرے اور پاکستانی جیلوں میں سربجیت سنگھ جیسے جو بھی قیدی ہیں جنہیں سپریم کورٹ سے سزائے موت کی سزا ہو چکی ہے۔ انہیں رہا کرنے کی بجائے سزائے موت دی جائے اور عالمی پریس کو اس سلسلہ میں بھارتی حکومت کے رویہ کے بارے میں مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔