حضور نبی کریم ﷺ کی آمد کی بشارت (۱)

اللہ تعالی قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے :”اور یاد کرو جب اللہ تعالی نے انبیائے پختہ عہد لیاجو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق
 فرمائے تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔ فرمایا کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا۔ فرمایاتو ایک دوسرے پر گواہ ہو جاﺅ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہو ں۔ تو جو کوئی اس کے بعد پھرے تو وہی لوگ فاسق ہیں “۔ (سورة آل عمران) 
حضرت سیدنا علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھم سے مروی ہے کہ اللہ تعالی نے ہر ایک سے یہ پختہ وعدہ لیا کہ اگر ان کی موجودگی میں حضور نبی کریم ﷺ تشریف لے آئیں تو اس پر یہ لازم ہو گا 
کہ وہ رسول اللہ ﷺکی رسالت پر ایمان لے آئے اور آپ کی امت میں شامل ہونے کا شرف حاصل کرے۔ اور ہر طرح حضورﷺ کے دین کی تائید و نصرت کرے۔ اور تمام انبیاءنے یہ ہی عہد اپنی امتوںسے لیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام جب خانہ کعبہ کی تعمیر کا کام مکمل کر چکے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام اللہ تعالی سے دعا مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ ہم نے آپ کا گھر تعمیر کر دیا ہے اب اس کو آباد کرنے والا بھی بھیج دے۔
 ارشاد باری تعالی ہے :”اے ہمارے رب ! بھیج ان میں ایک بر گزیدہ رسول انہیں میں سے تا کہ پڑھ کر سنائے تیری آیتیں اور سکھائے انہیں یہ کتاب اور دانائی کی باتیں اور پاک صاف کر دے انہیں بےشک تو ہی بہت زبر دست اور حکمت والا ہے “۔ (سورة البقرة )۔
اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور دعا میں جس رسول کی بعثت کی التجا کی وہ حضورنبی کریم ﷺ ہی ہیں اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے نسب سے حضو ر نبی کریم ? کے سوا کوئی رسول پیدا نہیں ہوا۔
علامہ ابن جوزی روایت کرتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میں بارگاہ الٰہی میں خاتم النبین کے مرتبہ پر فائز ہو ں درآں حالیکہ حضرت آدم علیہ السلام کا خمیر تیار ہو رہا تھا اور میں تمہیں اس امر کی ابتدا سے آگاہ کرتا ہوں۔ میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ثمر ہوں۔ میں وہ ہوں جس کی آمد کی بشارت حضرت عیسی نے دی تھی۔ میں اس خواب کی تعبیر ہوں جو میری والدہ ماجدہ نے دیکھا تھا۔ اسی طرح انبیائے کرام کی امہات کوبھی اس قسم کا خواب دکھایا جاتا تھا۔