سید محمد قاسم رضوی 

میں بہت خوش تھا کہ اس جلسہ میں فیڈریشن کے کارکنوں نے نظم و ضبط کا بہت عمدہ مظاہرہ کیا ہے حالانکہ اس روز جب قائدِ اعظم صبح ریلوے سٹیشن پر تشریف لائے تھے تو بد نظمی کی وجہ سے زبردست ہلڑ بازی کا افسوس ناک مظاہرہ دیکھنے میں آیا تھا۔ ہلڑ بازی کی کیفیت یہ تھی کہ نواب ممدوٹ ایسے لوگ بھی قائدِ اعظم سے ہاتھ تک نہ ملا سکے چنانچہ اس بد نظمی کے ذمہ دار کارکنوں کو یہ سزا دی گئی کہ ان میں سے ہر ایک کی پیشانی پر سیاہ داغ لگادیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ داغ صرف اس صورت میں صاف کرنے کی اجازت دی جائے گی جب شام کا جلسہ پورے نظم و ضبط سے اختتام پذیر ہوجائے، چنانچہ شام کے اس جلسہ میں ان کارکن طالب علموں کی پیشانیوں پر سیاہ داغ نمایاں طور پر دکھائی دے رہے تھے، خدا کا شکر ہے کہ شام کے جلسہ میں نظم و ضبط کی پابندی کی بدولت ان کے یہ داغ دھل گئے۔
لاہور کا ایک اور جلسہ بھی یادگار ہے۔ یہ جلسہ مجلسِ احرار اسلام کے زیر اہتمام منعقد ہوا تھا اور اس میں مولانا حسین احمد مدنی مرحوم کو خطاب کرنا تھا، ہم اکیس طالب علموں نے جن میں لائل پور کے چوہدری نصراللہ خاں مرحوم اور ایک دوسرے سرگرم کارکن مہر محمد صادق بھی شامل تھے، پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر علامہ اقبالؒ کی مشہور رباعی.... سرود برسرِ منبر.... لکھی ہوئی تھی، تقریر کے دوران ہم نے ”پاکستان زندہ باد“ کا ایک ہی نعرہ لگایا تھا کہ جلسہ کا تمام نظام یکا یک درہم برہم ہوگیا اور ہر طرف سے پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف اور پُرجوش نعرے سنائی دینے لگے، احرار کارکنوں نے ہماری خوب سرکوبی کی ہم میں سے بہت سے کارکن زخمی ہوگئے حتّٰی کہ ہمارے پُرجوش ساتھی محمد صادق کا سر پھٹ گیا۔ اگلے روز ہم نے اپنی اس مظلومیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زبردست جلوس نکالا، ہم اکیس کے اکیس طالب علم جلوس کے آگے آگے تھے جن میں سے اکثریت اپنے ان زخموں پر پٹیاں باندھے ہوئے تھی جو احرار کارکنوں کے حملوں سے پہنچے تھے۔ عام لوگ ہماری اس مظلومیت سے بے حد متاثر ہوئے اور ہمارے حق میں اس قسم کے جملے بھی کہے گئے کہ:.... ”بلا شبہ تم لوگ وارثانِ بدر میں سے ہو“ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا یہ جلوس احرارکے کفن کا آخری ٹانکا ثابت ہوا۔
طلبہ کی یہ سرگرمیاں قائدِ اعظم کی ہدایت کے عین مطابق تھیں، یہ فی الحقیقت NATIONAL EMERGENCY کا وقت تھا۔ قائد اعظم نے واضح طور پر یہ حکم دیا تھا کہ کالجوں سے نکل جاﺅ اس لئے کہ ایک نسل کی تعلیم کے مقابلے میں نسل ہا نسل کی زندگی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ جدوجہدِ آزادی میں طلبہ کی گہری دلچسپی بے حد ضروری تھی اور انہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ تحریک پاکستان کا سفینہ ساحلِ مراد سے آشنا ہوا، ایسی ضرورت صرف قومی ہنگامی حالات میں ہی پیدا ہوسکتی ہے کہ مختلف طبقے اپنے روزمرہ کے مشاغل چھوڑکر اہم تر قومی مسائل میں دلچسپی لیں۔
آج.... خاموشی اور سکوت کا دور ہے کسی لحاظ سے کوئی ہنگامی صورتِ حال موجود نہیں اور وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہر شخص اپنے کام میں پوری دلچسپی لے، اسی طرح طلبہ کو صرف تعلیم سے دلچسپی ہونا چاہئے وہ اپنے کالج کے معاملات میں تو دلچسپی لے سکتے ہیں مگر ملکی سیاست میں ان کو بالکل دخل نہیں دینا چاہئے۔جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ ہم نے جس تصور کے ساتھ آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا تھا وہ تصور کس حد تک پورا ہوا ہے، میرے نزدیک ابھی تو اس کے حصول کی ابتدا ہوئی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ابھی اس راستہ کی کوئی منزل بھی طے نہیں ہوئی۔ ہاں! البتہ پچھلے دنوں سے اس منزل کی جانب ہمارا گام تیز تر ہوگیا ہے خدا ہماری اس رفتار کو قائم رکھے۔
مندرجہ بالا انٹرویو سے تحریک پاکستان میں سید محمد قاسم رضوی کا کردار روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے آخر کار سید محمد قاسم رضوی کا وعدہ پُورا ہوا اور ہمیں لائل پور سے ہفت روزہ ”وفاق“ کو روزنامہ ”وفاق“ میں تبدیل کرنے کی اجازت مل گئی اور 25 دسمبر 1961ءکوہفت روزہ ”وفاق“ کا آخری شمارہ شائع ہوا اور یکم فروری 1962ءسے روزنامہ ”وفاق“ لائل پور کا اجراءعمل میں آیا۔ 25 فروری 1962ءکو روزنامہ ”نوائے وقت“ کے مدیر جناب حمید نظامی مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے، ہم نے ”وفاق“ کا پورا صفحہ اُن کے سانحہ¿ ارتحال کی خبروں پر مشتمل شائع کیا۔ پُورے صفحہ اول کو سیاہ حاشیہ لگایا اور ”وفاق“ کی لوح احتراماً اُوپر کے بجائے بالکل نیچے بائیں طرف شائع کی۔ سید محمد قاسم رضوی کو تحریک پاکستان میں اپنے سرگرم رفیقِ کار حمید نظامی سے گہرا لگاﺅ تھا، ”وفاق“ نے اُن کے انتقال کی خبر جس اہتمام سے شائع کی اس سے مدیرانِ ”وفاق“ کے ساتھ اُن کا تعلق اور گہرا ہوگیا۔ سانحہ کے اگلے روز اُن کی یاد میں ایک تعزیتی جلسہ کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت سید محمد قاسم رضوی نے کی، اُنہوں نے اس اجتماع میں جناب حمید نظامی کے ساتھ گذرے لمحوں کی یادیں تازہ کیں اور چند ساعتوں کے لئے وہ بُھول گئے کہ وہ لائل پور کے ڈپٹی کمشنر ہیں، یہ محسوس ہورہا تھا کہ اب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن پنجاب کا صدر خطاب کررہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ چند روز میںہمارا آئین قوم کے سامنے آرہا ہے، کاش اے کاش دُنیا سے جانے سے قبل نظامی صاحب ہمارے اس نئے آئین پر ہی کچھ کہہ گئے ہوتے، کچھ لکھ گئے ہوتے، کاش ہماری کچھ رہنمائی کر جاتے ہمارے نئے آئین کے بارے میں قوم کو کچھ بتا جاتے۔
سید محمد قاسم رضوی کچھ عرصہ بعد سرگودھا کے کمشنر بنادئے گئے، وہ اپنی ہر پریس کانفرنس اور اپنے ہر خطاب میں مجھے ضرور بُلاتے، کیونکہ اُنہیںمیری رپورٹنگ پر اعتماد ہوگیا تھا۔ کئی مواقع پر ایسا بھی ہوا کہ اُنہوں نے میرے انتظار میں اپنا خطاب شروع نہ کیا، میں وہاں پہنچا تب قاسم رضوی صاحب نے اپنی تقریر شروع کی، کمشنر سرگودھا رہنے کے بعد اُنہیں سیکرٹری محکمہ امدادِ باہمی پنجاب مقرر کردیا گیا، ہم بھی سرگودھا سے لاہور آچکے تھے،اُن کی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز محترمہ مسرت شوکت علی تھیں اور پبلک ریلیشنز آفیسر خواجہ محمد افتخار(اے پی پی کے سابق ڈائریکٹر جنرل ایم آفتاب کے چھوٹے بھائی) تھے۔ سید محمد قاسم رضوی نے محکمہ کے افسروں سے خطاب کیا تو مسرت شوکت علی نے اُن کی تقریر اشاعت کے لئے مرتب کی۔ خواجہ افتخار کی روایت کے مطابق سید محمد قاسم رضوی نے وہ مسودہ پڑھا اور یہ کہتے ہوئے پھاڑ کر پھینک دیا کہ پورے پاکستان میں جمیل اطہر نام کا ایک صحافی ہے جو میری تقریر کی صحیح رپورٹ لکھ سکتا ہے، پھر وہ مرکزی حکومت میں وزارت اطلاعات و نشریات میں جوائنٹ سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز مقرر ہوگئے۔ اُنہوں نے اگست 65ءمیں لاہور میں دانش وروں کے ایک اجتماع سے پنجاب یونیورسٹی کے سینیٹ ھال میں خطاب کیا۔ میں نے اُن کی تقریر روزنامہ ”وفاق“ میں شائع کی تو اُنہوں نے 4 ستمبر 1965ءکو میرے نام ایک خط میں اس کاوش کو سراہا۔ یہ خط مجھے ملا مگر اس پر رضوی صاحب کے دستخط نہیں تھے،میں نے مصطفی صادق صاحب سے درخواست کی کہ جب وہ اسلام آباد جائیں تو اس خط پر اُن کے دستخط کرالیں، مصطفی صادق صاحب نے یہ خط اُنہیں دستخط کے لئے دیا تو اُنہوں نے کہا کہ یہ تو اچھے کاغذ پر ٹائپ نہیں ہوا، اُنہوں نے قدرے بہتر کاغذ پر دوبارہ ٹائپ کرایا اور دستخط کردئیے، اس خط میں وہ کہتے ہیں:
 No 26-1, Block B, Satellite Town,Rawalpindi,
September 4,1965 
My dear Jamil,
I was thinking of writing to you at leaisure and in Urdu. However, extreme preoccupations do not seem to hold out a prospect of leisure. Thus I am resorting to quick dictation.
 2. I am obliged to you for the copies of Wafaq in which your very ably written reportage about the Youth Movement meeting appeared. I admire your grasp over essentials and the unusual quality to reproduce the essential parts of complicated speeches.
With more power to your pen! 
  With best wishes,
 Yours sincerely,
(sd)
(S.M Q. Rizavi)

ای پیپر دی نیشن