شائد کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات

23 جون 2011
سارے ڈاکٹر بزنس مین نہیں ہوتے۔ اگر کچھ ڈاکٹر امیر کبیر لوگوں کے لئے ڈاکٹر ہسپتال بنا لیتے ہیں تو دوسری طرف ایسے بھی اللہ کے نیک بندے ہیں جو غریب غربا کے لئے فری اور فلاحی ہسپتال بھی بنا جاتے ہیں۔ مگر بیورو کریسی (براکریسی) ہمیشہ غریبوں کے لئے فلاح و بہبود کے منصوبوں میں روڑے ہی اٹکاتی ہے۔ ایسے معاملوں میں اچھے بھلے افسران بالا افسران تہہ بالا بن جاتے ہیں۔ انہیں گوارا نہیں کہ غریبوں کے لئے کوئی کام ہو اور مفت بھی ہو۔
ڈاکٹر انور چودھری بہت قابل سرجن ڈاکٹر ہیں۔ ایسے اچھے ڈاکٹروں کی کمی نہیں، جن کے دل درد اور دماغ دانائی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ میں اس کے لئے بالعموم اہل اور اہل دل کے الفاظ استعمال کرتا ہوں۔ ڈاکٹروں سے شکایات بھی ہیں اور ایسی حکایات بھی ہیں جو ان کی درد مندی کی دلیل ہیں۔ میں ہڑتالی ڈاکٹروں کے خلاف بھی نہیں، وہ معاشرے کا سب سے محترم طبقہ ہیں۔ ساری عمر پڑھتے رہتے ہیں۔ ان کے لئے تنخواہ کا معاملہ وہ بیورو کریٹ طے کرتے ہیں جنہوں نے عمر بھر ایک کتاب بھی پوری نہیں پڑھی ہوتی۔ بھلائی اور اچھائی کی بات کرنے والوں کو بیورو کریسی (براکریسی) اذیت اور ذلت سے دوچار کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتی۔ اس ملک میں انتظامی افسران نے بھی بدانتظامی پھیلائی ہوئی ہے۔ اس ملک کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے ڈاکٹر انور چودھری فلاحی شخصیت ہیں ان کے شب روز اور ساری سرگرمیاں صرف کار خیر کے زمرے میں آتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ان کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ رکاوٹیں بھی ایسی کہ اب شہباز شریف کی مداخلت سے ہی مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ ٹھوکر نیاز بیگ کے علاقے میں ایک فلاحی ہسپتال بنانے کے لئے ڈاکٹر انور چودھری نے کچھ زمین خریدی تاکہ وہاں ہر کسی کا مفت علاج کیا جائے وہاں ایک دو کمرے بھی بنائے گئے ہیں مگر نوٹیفکیشن ہی جاری نہیں کیا جا رہا کہ کام شروع کیا جا سکے۔ سردار ذوالفقار خاں کھوسہ نے بھی اس معاملے میں دلچسپی لی ہے۔ میں بھی اس محفل میں موجود تھا۔ جہاں کھوسہ صاحب مہمان خصوصی تھے۔ ڈاکٹر انور چودھری کے اپنے آبائی گاﺅں مجوچک ضلع شیخوپورہ کے لئے خدمات اور ٹھوکر نیاز بیگ میں بیورو کریسی کی طرف سے بے جا رکاوٹوں کے حوالے سے تقریب تھی۔ تقریب میں ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ رابعہ بھی موجود تھی وہ مرحومہ فلم سٹار رانی کی بیٹی ہیں۔ میاں بیوی کی محبت اور خیالات کی ہم آہنگی اتنی ہے کہ رابعہ کی ماں رانی اور ڈاکٹر صاحب کی ماں رفیقن دونوں کی یاد میں ایک سوسائٹی بنائی گئی ہے۔ جس کا نام رانی رفیقن ویلفیئر سوسائٹی ہے۔ جسے آر اینڈ آر ویلفیئر سوسائٹی بھی کہا جاتا ہے۔ ٹھوکر نیاز بیگ میں ہسپتال کا نام بھی رانی رفیقن میموریل ہسپتال رکھا گیا ہے۔
سردار ذوالفقار خاں کھوسہ نے اعلان کیا کہ اس معاملے میں بیورو کریسی کی طرف سے رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔ انہوں نے اس فائل پر دستخط کئے اور شہباز شریف کی طرف بھجوانے کی ہدایات جاری کیں۔ مگر ایک ایڈیشنل سیکرٹری نے فائل مسترد کرکے داخل دفتر کر دی۔ وہ ایڈیشنل سیکرٹری ابھی چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں ہے۔ سردار ذوالفقار کھوسہ بھی وہیں ہیں مگر ایک فلاحی منصوبے کی فائل گم کی جا رہی ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری کو ایسے منصوبوں کی کیا ضرورت ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری خود یا اس کے عزیز اور دوست غریب نہیں ہیں۔ ضرورت پڑنے پر انہیں کسی سرکاری ہسپتال میں وی وی آئی پی کمرہ دیا جائے گا اور پروٹوکول کے ساتھ ان کی ”خدمت“ کی جائے گی۔ غیر سرکاری ہسپتال ڈاکٹر صاحب خود بنا رہے ہیں کیا اس میں سے بھی وہ اپنا حصہ چاہتے ہیں۔؟
امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان کے محکمہ صحت کو تباہ کر دیا جائے تاکہ وہاں بھی امریکہ کو اپنی من مانی کرنے کا موقعہ ملے اور امریکہ کا یہ کام بیورو کریسی بڑی خوش اسلوبی سے انجام دے رہی ہے۔ پہلے ہی ہیلتھ سیکرٹریٹ کے ”حُسن انتظام“ نے ڈاکٹروں کو ہڑتال پر مجبور کیا۔ کئی ڈاکٹر دوسرے ملکوں میں چلے گئے ہیں۔ اب ایک اچھے دل ودماغ والے بیورو کریٹ جہاں زیب بطور ہیلتھ سیکرٹری آئے ہیں۔ امید ہے کہ وہ اس شعبے کی خرابیاں دور کریں گے۔ ڈاکٹر سعید الہی کی باتوں میں نہ آئیں اور شہباز شریف سے اپنا رابطہ بحال رکھیں انہیں صحیح مشورے دیں تاکہ وہ خوشامدی مفاد پرست ٹولے سے محفوظ رہیں۔ ٹھوکر نیاز بیگ لاہور شہر کا حصہ لگتا ہے۔ موٹروے اور اوور ہیڈ برج بھی ٹھوکر نیاز بیگ کا حصہ ہے۔ ورنہ شہر کے اندر اپنی پسماندگی کی وجہ سے کئی علاقے مضافات کی طرح لگتے ہیں شہر میں شامل سمجھے جاتے ہیں مگر دور افتادہ لگتے ہیں ٹھوکر نیاز بیگ میں ڈاکٹر انور چودھری کا فلاحی ہسپتال بن جائے گا تو علاقہ کے لوگوں کو آرام اور صحت کی معیاری سہولتیں میسر ہوں گی۔ اپنے آبائی گاﺅں مجوچک میں ڈاکٹر انور چودھری جاتے ہیں۔ وہ چھٹی کا دن گھر پر نہیں گزارتے اپنے مریضوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔ ایک دن میں تقریباً 300 مریض چیک کرتے ہیں ہر مریض سے ذاتی طور پر اچھی طرح ملتے ہیں۔ ان کی اہلیہ رابعہ ایک باکمال آرٹسٹ ہیں۔ وہ نیشنل کالج آف آرٹس سے پڑھی ہیں ایک ممتاز مصورہ ہیں۔ پچھلے دنوں ایک تصویری نمائش میں رابعہ کی تین پینٹنگز دو لاکھ میں فروخت ہوئیں۔ اس کے علاوہ رابعہ کے ساتھی فنکاروں نے تصویروں سے ہونے والی آمدنی کا 40 فیصد ڈاکٹر انور چودھری کے ہسپتال کو دینے کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو ممتاز پنجابی شاعر تنویر ظہور کا تعاون بھی حاصل ہے۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کی اہلیہ نے سیلاب زدگان کے لئے بھی دل کھول کر خدمات انجام دی ہیں۔ دونوں میاں بیوی ہر طرح کے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ حب الوطنی اور عوام دوستی کا تقاضا تو یہ ہے کہ ایسے نیک دل لوگوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ ایسے لوگ عوامی سماجی بہبود کے کام کرکے حکومت کا بوجھ بٹا رہے ہیں اور وہ کام کر رہے ہیں جو حکومتوں کو کرنے چاہئیں۔ اس فقیر بے نوا کی یہ تحریر بے حسی کے جنگل میں اذان ”حی علی الفلاح“ کے سوا کچھ نہیں۔ ....ع
شائد کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات