نظریاتی سمر سکول کے طالبعلموں سے جناب مجید نظامی کا خطاب

23 جون 2011
نعیم احمد
آبروئے صحافت جناب مجےد نظامی کی باتےں حاضرےن کے لئے ہمےشہ ہی اےمان افروز ثابت ہوتی ہےں مگر جب اُن کے روبرو نوخےز طلبا و طالبات ہوں تو پدرانہ شفقت اور والہانہ پن کی آمےزش ان کی گفتگو کو نہاےت دل نشےں اور سحر انگےز بنادےتی ہے۔ےہ نظارہ آج اےک بار پھر اس وقت مشاہدے مےں آےا جب وہ نظرےاتی سمر سکول مےں 6تا 13برس کی عمر کے تقرےباً 325طلبا و طالبات کے اجتماعِ دل آوےز سے مخاطب تھے۔ ان کا چہرہ مسرت سے دمک رہا تھا اور اےسا کےوں نہ ہوتا‘ ان کے سامنے پاکستان کا روشن مستقبل ہمہ تن گوش تھا اور وہ بڑے آسان الفاظ مےں حدےثِ دل بےان کررہے تھے۔ اُنہوں نے بڑے پےار سے بچوں کو سمجھاےا کہ آپ جس ملک مےں رہتے ہےں‘ اسے ہندوستان کو توڑ کر بناےا گےا تھا۔ اس وقت ےہاں انگرےزوں کی حکمرانی تھی اور ہندوﺅں کی جماعت انڈےن نےشنل کانگرےس ان کی آلہ کار بنی ہوئی تھی۔ حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے جو ہمارے عظےم قومی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے قومی شاعر بھی ہےں‘ برصغےر کے مسلمانوں کو اےک وژن ےعنی نظرےہ پاکستان دےا تاکہ وہ انگرےزوں اور ہندوﺅں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی خاطر اپنے لئے اےک الگ وطن کے حصول کی جدوجہد کرسکےں۔ اُنہوں نے ہی حضرت قائداعظمؒ کو قائل کےا کہ وہ مسلمانانِ ہند کی جدوجہد کو منزل مقصود تک پہنچانے کے لئے مسلم لےگ کی قےادت سنبھالےں۔ چنانچہ قائداعظمؒ لندن سے واپس تشرےف لائے اور اسی شہر لاہور مےں 23مارچ 1940ءکے دن قراردادِ پاکستان منظور ہوئی جس کے بعد پشاور تاراس کماری مسلمانوں کی زبانوں پر دےوانہ وار اےک ہی نعرہ گونجنے لگا کہ ”بن کے رہے گا پاکستان‘ لے کے رہےں گے پاکستان“ جناب مجےد نظامی نے بچوں سے کہا کہ آپ کو دےکھ کر‘ آپ سے مل کر مجھے بےحد خوشی ہوئی ہے اور آپ نظرےاتی سمر سکول کے گےارہوےںتعلےمی سےشن کے ہونے والے گرےجواےٹس ہےں۔ مےرا آبائی قصبہ سانگلہ ہل ہے جو ضلع شےخوپورہ مےں واقع ہے۔ ہم سانگلہ ہل مےں بھی جلوس نکالا کرتے تھے اور قےام پاکستان کے حق مےں نعرے لگاےا کرتے تھے۔ ہمارے قصبے مےں ہندوﺅں کی اکثرےت تھی تاہم اِردگرد کے دےہات مےں مسلمان اکثرےت مےں تھے۔ دراصل سانگلہ ہل غلے کی بہت بڑی منڈی تھی۔ دوچار مسلمان آڑھتےوں کے علاوہ تمام آڑھت اور دےگر کاروبار پر ہندو چھائے ہوئے تھے‘ ےہاں تک کہ صبح سوےرے حلوہ پوری بھی ہندو دکانداروں سے ہی لے کرکھانا پڑتی تھی۔ سانگلہ ہل مےں نووےں جماعت تک تعلےم حاصل کرنے کے بعد مےں لاہور آگےا جہاں مےرے بڑے بھائی محترم حمےد نظامی صحافت سے منسلک تھے۔ اُنہوں نے مسلم سٹوڈنٹس فےڈرےشن کی بنےاد رکھی اور بےڈن روڈ پر واقع ہمارا گھر اس طلبہ تنظےم کا ہےڈکوارٹر بن گےا۔ قائداعظم محمدعلی جناحؒ کی ہداےت پر محترم حمےد نظامی نے 23 مارچ 1940ءکو پندرہ روزہ نوائے وقت کا اجراءکےا جو 1944ءمےں روزنامہ کی صورت مےں شائع ہونے لگا۔ مےرے بڑے بھائی قائداعظمؒ کے سچے پےروکار تھے اور ان سے رہنمائی حاصل کرنے کے لئے ان کے ساتھ خط و کتابت بھی کرتے تھے۔ لاہور مےں بھی ہم جلوس نکالا کرتے تھے اور پاکستان کے حق مےں پرجوش نعرے لگاےا کرتے تھے۔ پاکستان کی بنےاد ثابت ہونے والے 1946ءکے انتخابات مےں ہم طلبہ نے بہت کام کےا۔ تحرےک پاکستان کے سلسلے مےں کی جانے والی جدوجہد کے اعتراف مےں مجھے اور ڈاکٹر رفےق احمد کو مجاہد پاکستان کی اسناد اور مجھے اعزازی تلوار بھی مسلم لےگ کے سےکرٹری جنرل نوابزادہ لےاقت علی خان نے عطا کیں۔ لہٰذا ہم دونوں تو مستند جہادی ہےں مگر ہمارے ملک مےں تو آج جہاد کو فساد بنا دےا گےا ہے۔ کشمےر ہماری شہ رگ ہے جو بھارت کے قبضے مےں ہے۔ ہمارے پاس جو آزاد کشمےر ہے وہ جو مجاہدےن نے بھارتی فوج سے لڑ کر حاصل کےا تھا۔ ان مجاہدےن مےں اکثرےت صوبہ سرحد کے قبائل کی تھی جن پر آج امرےکہ ڈرون حملے کررہا ہے اور ہماری پارلےمنٹ کی قرارداد کے باوجود ےہ حملے بند نہےں کررہا۔
سمر سکول کے ساتھ نظرےاتی کا لفظ لگانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جناب مجےد نظامی نے جو سمر سکول کے بانی ہےں‘کہا کہ ےہ لفظ مےرے اصرار پر شامل کےا گےا کےونکہ ہم اِس سکول کو ٹےوشن سنٹر کے طور پر نہےں چلانا چاہتے تھے بلکہ ہمارا مقصد ےہ تھا کہ نسل نو کو قےامِ پاکستان کے حقےقی اسباب و مقاصد نےز اس کے قےام کی خاطر پےش کی جانے والی قربانےوں سے آگاہ کرکے اُسے صحےح معنوں مےں پاکستانی بناےا جاسکے۔ ہم نے اقلےت ہونے کے باوجود اےک ہزار سال تک برصغےر پر حکمرانی کی اور ہندوﺅں کو آج تک ےہ بات ہضم نہےں ہوسکی اور وہ پاکستان کو خدانخواستہ ختم کرنے کے لئے نت نئی سازشوں مےں مصروف رہتاہے۔ پاکستان کی نسبت اس کے پاس تےن گنا بڑی فوج ہے لےکن اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم کی بدولت ہم بھی اب اےک اےٹمی طاقت ہےں اور ہماری افواج اےٹم بموں اور اےٹمی مےزائلوں سے لےس ہےں۔ اگر بھارت نے حملہ کرنے کی جرات کی تو ہم اسے منہ توڑ جواب دےں گے۔
جناب مجےدنظامی نے طلبا و طالبات کے مختلف سوالات کے جوابات دےتے ہوئے کہا کہ روزنامہ ”نوائے وقت“ کی مقبولےت کی وجہ ےہ ہے کہ ےہ اخبار اول روز سے تحرےک پاکستان‘ نظرےہ پاکستان اور اُردو زبان کا ترجمان ہے۔ نوائے وقت نے قائداعظمؒ، علامہ محمد اقبالؒ اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کے نظرےات و تصورات پر مبنی پالےسی اپنائی اور کڑے سے کڑے حالات اور دباﺅ مےں بھی اس پالےسی سے کبھی روگردانی نہےں کی۔ مےرے بڑے بھائی محترم حمےد نظامی اےوب خان کے مارشل لاءکا شکار ہوئے اور اللہ کو پےارے ہوگئے۔مےں بھی اپنے دل کے تےن بائی پاس آپرےشن کروا چکا ہوں۔حقےقت تو ےہ ہے کہ صحافت کا پےشہ اور کاروبار انتہائی دشوار ہیں اور اصولوں پر قائم رہنے کی خاطر بھاری قےمت چکانی پڑتی ہے۔ جناب مجےد نظامی نے بچوں کو نصےحت کی کہ آپ تحرےک پاکستان کے بارے مےں معلومات حاصل کرنے کے لئے کتابےں پڑھےں اور حضرت قائداعظمؒ، حضرت علامہ محمد اقبالؒ اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کو داد دےجئے کہ اُنہوں نے ہمےں آزادی دلائی ورنہ ہم تو غلام پےدا ہوئے تھے لیکن آپ خوش قسمت ہیں کہ آزاد پیدا ہوئے۔ آزادی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ مجھے ےقےن ہے کہ اس نظرےاتی سمر سکول سے جب آپ گرےجواےٹ بن کر نکلےں گے تو آج سے بہت مختلف طالبعلم ہوں گے۔ ہمارا دارومدار آپ پر ہے لہٰذا آپ ہمےں ماےوس نہ کےجئے گا اور وطن عزےز کو اےک جدےد اسلامی جمہوری فلاحی مملکت بنانے کے لئے اپنی تمام تر توانائےاں صرف کردےجئے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔قبل ازےں جناب مجےد نظامی جب ہال مےں تشرےف لائے تو طلبا و طالبات نے اُن کا پرجوش خےرمقدم کےا اور کئی منٹ تک کھڑے ہوکر تالےاں بجاتے رہے۔ بعدازاں جب سٹےج سے جناب مجےد نظامی کا مختصر مگر جامع تعارف کرواےا گےا اور اعلان ہوا کہ جناب مجےد نظامی بچوں سے خطاب کرےں گے تو اُس وقت بھی طلبہ نے کھڑے ہوکر اُن سے اظہارِ عقےدت کےا اور اےسا کےوں نہ ہوتا‘ اُن کے روبرو اےک اےسی شخصےت موجود تھی جو 60سال سے زائد عرصے سے قومی‘ ملی اور صحافتی شعبوں مےں گراں قدر خدمات انجام دے رہی ہے۔ نظرےاتی سمر سکول کے طلبا و طالبات اس امر پر بجا طور پر فخر محسوس کررہے تھے کہ وہ دورِ مجےد نظامی مےں زندہ ہےں۔
واضح رہے کہ نظرےاتی سمر سکول کو چلانے کےلئے انتہائی قابل و تجربہ کار اساتذہ کرام کی خدمات حاصل کی گئی ہےںجو سکول کو احسن طرےقے سے چلانے مےں مصروفِ کار ہےں‘ اُن مےں وائس پرنسپل فرےحہ لئےق کی کارکردگی نماےاں ہے۔ علاوہ ازےں مختلف ماہرےن تعلےم کی رہنمائی بھی حاصل ہے۔جناب مجےد نظامی نے نظرےاتی سمر سکول کے مثالی نظم و ضبط سے خوش ہوکر تمام طالبعلموں اور اساتذہ کے لئے اپنی طرف سے ایک اےک سو روپےہ انعام کا بھی اعلان کےا۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...