آزاد دنیا جان چکی بھارت نے کشمیر پرغاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے: شبیر شاہ

23 جون 2011
لاہور (شعیب الدین سے) کشمیری حریت پسند رہنما اور بھارتی جیلوں میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزارنے والے سید شبیر شاہ نے کہا ہے کہ آزاد دنیا اب یہ بات سمجھ چکی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو گا۔ مسئلہ کشمیر کے حل سے پاکستان اور بھارت کے جنگی ہتھیاروں پر خرچ ہونے والا اربوں کھربوں روپیہ صحت، تعلیم و دیگر سہولیات پر خرچ ہو سکے گا۔ نوائے وقت سے پاک بھارت خارجہ سیکرٹری مذاکرات کے حوالے سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے سید شبیر شاہ نے کہا کہ جب آزاد دنیا یہ جان چکی ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ اس پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے تو پھر مشرقی تیمور اور سوڈان کی طرح یہاں ریفرنڈم کیوں نہیں کرایا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ 63 برس سے کشمیر پر 3 جنگیں ہو چکی ہیں۔ پاکستان کے ممنون ہیں کہ اس نے کشمیریوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے اور اس کا بے حد نقصان بھی اٹھایا ہے۔ پاکستان مسلم امہ اور برصغیر کے مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت مذاکرات میں فوکس مسئلہ کشمیر ہی رہنا چاہئے۔ یہ مسئلہ حل ہو گا تو سیاچن سرکریک سمیت تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کشمیری قیادت کو بھی مذاکرات کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ سیکرٹریز مذاکرات کے بعد نومبر میں سارک سربراہ کانفرنس میں منموہن سنگھ اور یوسف رضا گیلانی کی ملاقات سے بھی اچھی توقعات وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اگر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ مسئلہ کا حل چاہتا ہے تو پہلے کشمیر میں موجود 10 لاکھ فوج میں کمی کرے اور کشمیریوں پر مظالم بند کرنے کے علاوہ پابند سلاسل ہزاروں بے گناہوں کو رہا بھی کرے۔