پاکستان اور بھارت میں پانی کا تنازعہ امن عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے، وکی لیکس

23 جون 2011
کراچی( مانیٹرنگ نیوز) وکی لیکس کے مطابق امریکی سفارت کاروں نے بارہا یہ خدشہ ظاہر کیا کہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان پانی کا تنازع ، امن عمل کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔ پچیس فروری دو ہزار پانچ کو نئی دہلی میں امریکی سفیر ڈیوڈ ملفورڈ نے واشنگٹن کو مراسلہ بھیجا۔ امریکی سفیر نے بش انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ پاکستان اور بھارت اگر بگلیہار اور کشن گنگا پراجیکٹس جیسے تنازعات حل کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں اس کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں ہائیڈرو الیکٹرک ڈیمز کی تعمیر کے کئی بھارتی منصوبے سندھ طاس معاہدے کے تحت سوالیہ نشان بن جائیں گے۔ تین نومبر دو ہزار آٹھ کو اسلام آباد سے امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کے مراسلے کے مطابق اگرچہ ورلڈ بینک کی ثالثی سے بگلیہار ڈیم کی متنازع تعمیر کا معاملہ حل ہوگیا ہے لیکن اس کی تعمیر کے بعد دریائے چناب سے پاکستان کو پانی کی فراہمی میں چونتیس فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف موسم سرما کی فصلوں کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ پاکستان بھر میں بجلی کا بحران بھی شدت اختیار کرگیا ہے۔ این پیٹرسن نے واشنگٹن کو اس حقیقت سے بھی آگاہ کیا کہ بھارتی حکام نے سرکاری سطح پر تو پاکستان کی جانب سے پانی کی کمی کا دعویٰ مسترد کردیا ہے لیکن غیر سرکاری سطح پر بھارتی حکام اعتراف کرتے ہیں کہ پڑوسی ملک کو پانی کی کمی ،، بگلیہار ڈیم کی جبری تعمیر اور موسمی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ پاکستانی حکام نجی طور پر بھی امریکی سفیر سے مستقبل میں درجنوں ڈیمز کی تعمیر کے بھارتی منصوبوں پر تشویش ظاہر کرچکے ہیں۔ نئی دہلی میں امریکی سفیر نے مراسلے میں واشنگٹن کو ایک پاکستانی سفارت کار کے بیان سے بھی آگاہ کیا جس میں سفارت کار کا کہنا تھا کہ پانی کے معاملے پر کوئی اعتدال پسند اور فاختائیں نہیں۔