شاہدرہ کی چار بہنیں اغوا نہیں ہوئیں‘ مرضی سے شادی کے لئے گھر سے بھاگیں

23 جون 2011
لاہور (نامہ نگار) شاہدرہ کے علاقہ میں چار بہنوں کے اغوا کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ چاروں بہنوں کو اغوا نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ اپنی مرضی سے شادی کرنے کے لئے گھر سے بھاگی تھیں۔ تفصیلات کے مطابق شاہدرہ کے رہائشی پینٹ کا کام کرنے والے شوکت نے تین بیٹیوں عائشہ‘ ثناءاور حنا کی ماں دیبا کے ساتھ دوسری شادی کی تھی جس میں سے اس کی ایک بیٹی اقرا بھی پیدا ہوئی۔ منگل کے روز شوکت کی چاروں بیٹیاں گھر سے پراسرار طور پر غائب ہو گئیں جس پر شوکت نے تھانہ شاہدرہ میں چاروں بہنوں کے اغوا کا مقدمہ درج کرا دیا جس پر ایس ایچ او شاہدرہ شریف سندھو نے لڑکی کے والدین سے تفتیش کی تو دونوں کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔ بعدازاں لڑکی کے والدین نے اعتراف کیا کہ لڑکیوں میں سے 17 سالہ اقرا اور 21 سالہ حنا کے نارووال کے رہائشی لڑکوں وریام اور وقاص سے تعلقات تھے۔ لڑکیاں اپنی پھوپھو کے گھر رہنے نارووال گئی تھیں تو وہاں ان کی دونوں لڑکوں سے دوستی ہوئی تھی جس پر ایس ایچ او شاہدرہ شریف سندھو کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے نارووال چھاپہ مار کر چاروں لڑکیوں کو ایک پارک سے اپنی تحویل میں لے لیا اور دونوں لڑکوں وریام اور وقاص کو بھی گرفتار کر لیا۔ لڑکیوں نے بتایا کہ وہ ان لڑکوں کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہیں اور اپنی مرضی سے خود نارووال آئی ہیں۔ چاروں لڑکیوں نے گذشتہ روز عدالت میں بھی بیانات دئیے کہ ان کے والدین انہیں فروخت کرنا چاہتے ہیں جبکہ وہ اغوا نہیں ہوئیں ۔ دونوں لڑکوں سے شادی کرنے خود نارووال گئی تھیں اور ہم اپنے والدین کے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں جس پر عدالت نے چاروں لڑکیوں کو دارالامان بھجوا دیا ہے جبکہ پولیس کے مطابق لڑکیوں کے بیانات کی روشنی میں لڑکوں کو اغوا کا مقدمہ جھوٹا ہونے پر فارغ اور مقدمہ بھی خارج کر دیا جائے گا۔