مالی امداد ہمارے مقتول بچے واپس نہیں لا سکتی: کراچی کے رہائشی پختون کی دہائی

23 جون 2011
کراچی (خصوصی رپورٹ) کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق کٹی پہاڑی‘ اورنگی ٹاﺅن‘ پختون آباد سمیت دیگر حساس علاقوں میں رہائش پذیر پختونوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ اس حوالے سے ایک سروے میں 70 سالہ نور محمد نے اپنی روداد غم سناتے ہوئے کہا کہ وہ 40 برس قبل کوئٹہ سے نقل مکانی کرکے کراچی آیا تھا‘ نور محمد نے روتے ہوئے کہا کہ رواں سال 13 جون کا دن میرے لئے قیامت سے کم نہیں تھا‘ جب میرے حافظ قرآن بیٹے فیض خان کو دہشتگردوں نے قصبہ کالونی کے بچت بازار میں گولیوں سے چھلنی کر دیا میں اسے ہسپتال لے جانے لگا تو مجھ پر دہشتگردوں نے ڈنڈوں اور لاتوں کی بارش کر دی۔ میرے بیٹے نے میری گود میں ہی دم توڑ دیا اب میں اپنے خاندان سمیت کوئٹہ جا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرا جرم صرف پختون ہونا ہے‘ مالی امداد ہمارے مقتول بچوں کو واپس نہیں لا سکتی ۔