مذہبی جماعتوں کے آئندہ انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لئے نئے اتحادیوں سے رابطے

23 جون 2011
لاہور (سید عدنان فاروق) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی ایم ایم اے کو بحال کرنے کی کوششیں بری طرح ناکام ہو گئی ہیں اور ایم ایم اے میں شامل بعض مذہبی جماعتوں نے آئندہ انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے کی نیت سے نئے اتحادیوں سے رابطے شروع کر دیئے ہیں، مرکزی جمعیت اہلحدیث جو کہ پہلے ہی مسلم لیگ (ن) کے قریب ہے اس کے قائدین نے نوازشریف سے حالیہ ملاقاتوں میں ان سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر آمادگی ظاہر کر دی ہے جبکہ جمعیت علمائے پاکستان نورانی نے تحریک انصاف سے رابطہ بڑھا لیا ہے، جماعت اسلامی تحریک انصاف کے قائدین بھی ایک دوسرے کو برداشت کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں تاہم جماعت اسلامی میں ان کے امیر کے علاوہ بعض قائدین اب بھی مسلم لیگ (ن) سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے خواہاں ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور تحریک اسلامی خیبر پی کے اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی اور (ق) لیگ سے پینگیں بڑھا رہی ہیں۔ منور حسن کے سخت گیر موقف اور لب و لہجہ سے جہاں مولانا فضل الرحمن سے دور ہو چکے ہیں اتنی ہی دوری ان کے اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان پیدا ہو چکی ہے اور ان کا رجحان سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے تحریک انصاف اور علاقائی جماعتوں کی طرف ہے، دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام جماعت اسلامی پر تکیہ کرنے کے لئے تیار نظر نہیں آتی۔ سینیٹر ساجد میر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ انتخابی اتحاد برقرار رکھتے ہوئے اس بار پنجاب میں مسلم لیگ (ن) سے زیادہ سیٹوں کا مطالبہ کرینگے، یوں مذہبی جماعتوں کی باہمی دوری کا فائدہ سیکولر جماعتیں اٹھائیں گی اور مذہبی جماعتوں کا ووٹ برے طریقے سے تقسیم ہونے کا غالب امکان ہے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...