مغرب کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان‘ ایران‘ ترکی اور افغانستان مشترکہ بلاک بنائیں: مجید نظامی

23 جون 2011
لاہور (خبر نگار) نظریاتی سمر سکول کا مقصد بچوں کو صحیح معنوں میں پاکستانی بنانا اور طلبہ کو نظریہ پاکستان کے بارے میں آگاہ کرنا ہے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ پاکستان کس طرح معرض وجود میں آیا اور مسلمانان برصغیر نے اس کے حصول کیلئے کیا قربانیاں دی ہیں۔اس سکول سے بچے نظریہ پاکستان کے ترجمان بن کر نکلیں گے۔ مغربی یلغار کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستانایرانترکی اور افغانستان کا ایک مشترکہ بلاک تشکیل دینا وقت کی ضرورت ہے ۔ آج طلبہ اپنی تعلیم کو ہر قیمت پر ترجیح دیں اور پاکستان کی آزادی کی حفاظت کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہنے کے علاوہ اس عزم کا اظہار کریں کہ اس کیلئے جو قربانی بھی دینا پڑے‘ اس سے دریغ نہیں کریں گے۔ ہر سطح پرنصاب تعلیم میں نظریہ پاکستان کو شامل کیا جائے‘ نصاب کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہارتحریک پاکستان کے سرگرم کارکن ‘ممتاز صحافی اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے ایوانِ کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں جاری نظریاتی سمر سکول کے ساتویں روز طلبا و طالبات سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد ‘نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید اور تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے سیکرٹری رفاقت ریاض بھی موجود تھے۔ اس نظریاتی سمر سکول کا اہتمام نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا ہے جو ایک ماہ تک جاری رہے گا۔ پروگرام کاآغاز تلاوت کلام پاک ‘ نعت رسول مقبول اور قومی ترانہ سے ہوا۔ محمد احمدنے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی ‘ عکاشہ الیاس نے تلاوت کی گئی آیات کا اردو جبکہ منیزہ محسن نے انگریزی ترجمہ کیا۔ نمرہ تحسین نے بارگاہ رسالت ماب میں نذرانہ عقیدت پیش کیا جبکہ پروگرام کی کمپیئرنگ کے فرائض تحریم فاطمہ نے انجام دیئے۔ مجید نظامی نے کہا کہ علامہ اقبالؒ قومی شاعر ہی نہیں قومی رہنما اور ایک وژن دینے والے لیڈر ہیں اور انہوں نے نظریہ پاکستان دیا۔ میرا آبائی قصبہ ضلع شیخوپورہ میںسانگلہ ہل ہے، وہاں میں نے نویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور پھر لاہور آگیا۔ ہم سانگلہ ہل میں بھی جلوس نکالا کرتے تھے اور”بن کے رہے گا پاکستان “ کے نعرے لگایا کرتے تھے۔ حمید نظامی مرحوم نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی اور لاہور میں ہمارا گھر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا ہیڈکوارٹر بن گیا۔ انہوں نے 23مارچ1940ءکو پندرہ روزہ ”نوائے وقت“ نکالا جو بعد ازاں ہفت روزہ اور 1944ءمیں روزنامہ کی حیثیت میں شائع ہونے لگا۔ حمید نظامی (مرحوم) قائداعظمؒ کے سچے پیروکار تھے اور ان سے خط و کتابت بھی کیا کرتے تھے۔ اسلامیہ کالج لاہور تحریک پاکستان کا مرکز بنا ہوا تھا۔ کالج کے پرنسپل عمر حیات ملک نے کالج بند کر دیا اور طلبہ سے کہا کہ باہر نکلو اور تحریک پاکستان کیلئے کام کرو۔ اس دوران میں نے بھی کافی کام کیا اور اسی وجہ سے مجھے اور ڈاکٹر رفیق احمد کو تحریک پاکستان کا مجاہد ہونے کا سرٹیفکیٹ ملا جبکہ لیاقت علی خانؒ نے مجھے اعزازی تلوار بھی دی۔ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک ایٹمی طاقت ہیں‘ ہمارے پاس ایٹم بم اور ایٹمی میزائل ہیں۔ اگر بھارت نے ہم پر دوبارہ حملہ کیا تو ہم اسے منہ توڑ جوب دیں گے۔ بے شک ہندو نے مکتی باہنی کے ذریعے بنگلہ دیش بنایا لیکن میرا ایمان ہے ایک دِن پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ملک بن جائیں گے۔ پاکستانایرانترکی اور افغانستان مل کر ایک بلاک بنالیں تو مغرب کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ میری طلبہ کو نصیحت ہے کہ آپ اپنی تعلیم کو ہر قیمت پر ترجیح دیں کیونکہ میں بھی تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے آج اس مقام پر ہوں وگرنہ میں بھی کسی فٹ پاتھ پر اخبار بیچ رہا ہوتا۔ مجید نظامی نے بچوں کے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ اپنی ساری توجہ اپنی تعلیم پر مرکوز رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ”نوائے وقت“کے صف اول کا اخبار ہونے کی بھی یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی پالیسی پر قائم رہتے ہیں اور کبھی اِدھر اُدھر نہیں ہوتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تعلیمی ڈھانچہ میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے۔ قبل ازیں معزز مہمان کی آمد پر نور جہانگیر‘حفصہ‘عریشہ احسان اور انوشہ نے ان کا استقبال کیا ا ور نظریاتی سمر سکول کا بیج لگایا۔ پروگرام کے دوران سمعیہ طارق‘ ثانیہ تحسین‘ عدین احمد‘ نائمہ اسلم‘ عیشا عابد‘ فریحہ محسن‘ زخرف عزیز‘رومینہ محسن‘ قافیہ مریم‘ماہ نور بٹ اور نباءراحیل پر مشتمل بچوں کے گروپ نے ایک نظم پرخوبصورت انداز میں ٹیبلو پیش کیا ۔ پروگرام کے اختتام پر مختلف مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنے اور سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرنے والے طلبا و طالبات میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ انعامات حاصل کرنے والوں میںسائنس کوئز میں غازیہ بتول‘ وردا ندیم‘ عبداللہ جاوید‘ محمد علی‘ مشعل مظہر‘ عروسہ صدیقی‘ حرا اقبال‘ انیہہ وارث۔ آرٹس میں ماہ نور شہزاد‘ خنشہ داﺅد‘ فضہ‘ تحریم فاطمہ‘درخشاں شامل ہیں۔ عیشا گل اور منال ذوالفقار کو” دن کے بہترین طالب علم“ کا انعام دیا گیا۔ بچوں کے ایک گروپ نے ”ہے کوئی ہم جیسا “ کا ملی نغمہ سنایا اس موقع پر بچوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ آخر میں مجید نظامی نے نظریاتی سمر سکول کے طلبا و طالبات اور اساتذہ کرام کو ایک سو روپے فی کس بطور انعام دینے کا اعلان کیا۔ پروگرام کا اختتام پاکستان ‘قائداعظمؒ‘ علامہ محمد اقبالؒ‘ مادر ملت فاطمہ جناحؒ زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے ہوا۔