مسلم لیگ ن بالآخر فرینڈلی اپوزیشن کے طعنوں سے باہر نکل آئی

23 جون 2011
لاہور (احمدجمال نظامی سے) سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے آزادکشمیر کی انتخابی مہم میں صدر آصف علی زرداری کو براہ راست ہدف تنقید بنا کر موجودہ حکومت کی ناکامیوں، اس کی امریکہ نواز خارجہ پالیسی، بجلی اور گیس کے بحران، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ، مہنگائی، بیروزگاری، ملک میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور ملک پر ہر طرف کرپشن کلچر کے قبضے کے حوالے سے حکمرانوںکی نااہلی کے تذکرے کو اس قدر بڑھا دیا ہے کہ وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک کو کہنا پڑا کہ نوازشریف پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت پر تنقید بند کرو۔ یہ تنقید بند نہ ہوئی تو وہ کیس بنانا اور ایسے کیسوں کو چلانا بھی جانتے ہیں۔ رحمان ملک نے میاں محمدنوازشریف کے تندوتیز لہجے پر فرط جذبات میں مسلم لیگ ( ن ) کی قیادت کے لئے بنایا گیا اپنا منصوبہ قبل از وقت بیان کردیا ہے۔ رحمن ملک نے جن مقدمات کے بنانے اور چلانے کی دھمکی دی ہے ان کے حوالے سے ایوان صدر کے ذرائع سے گذشتہ ہفتہ پہلے ہی خبر سامنے آ چکی ہے کہ وفاقی حکومت نے میاں محمد نوازشریف اور میاں محمد شہبازشریف سمیت مسلم لیگ ( ن ) کی قیادت کے خلاف کرپشن میں ملوث ہونے کے مقدمات کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایوان صدر یہ مقدمات آئندہ عام انتخابات سے پہلے کھولنا چاہتا ہے تاکہ مسلم لیگ ( ن ) کو سیاسی لحاظ سے نقصان پہنچے۔ دراصل آصف علی زرداری کو انتقامی سیاست کے گر ہمیشہ سے معلوم تھے لیکن وہ اپنے حریفوںکو زہر دے کر مارنے کی بجائے شہد میں زہر ملا کر اس انداز میں مارنا چاہتے تھے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ آزاد کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ ( ن ) کو ایک تہائی نشستیں بھی مل گئیں تو یہ مسلم لیگ ( ن ) کی بہت بڑی کامیابی ہو گی کہ یہ پہلا موقع ہے جب مسلم لیگ ( ن ) نے آزادکشمیر کے انتخابات میں براہ راست اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ اس طرح پاکستان میں سال رواں کے اندر اندر آئندہ انتخابات کا طبل بج جائے گا۔ مسلم لیگ ( ن ) اسمبلیوں سے استعفے دے کر اور پنجاب اسمبلی کو تحلیل کر کے آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کا جواز فراہم کر سکتی ہے۔ امریکہ نے مشرف کے بعد زرداری کو بھی سو فیصد حد تک استعمال کر لیا ہے۔ (ق) لیگ امریکہ کے نزدیک ایک مردہ سیاسی جماعت ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کو وزارت خارجہ سے خود امریکہ نے فارغ کرایا تھا۔ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان سے اسی طرح کی بغاوت کو اپنی سیاسی مقبولیت کے لئے کیش کروایا تھا لیکن مخدوم شاہ محمود قریشی اقتدار سے نکل کر پاکستان کی سیاست میں کوئی ہلچل نہیں مچا سکے۔ زرداری کو اطمینان ہے کہ ملک میں جتنی بھی کرپشن ہو جائے نوازشریف نے سکیورٹی کے اداروں کو الفاظ کی توپوں کے نشانے پر رکھ کر زرداری کو اسٹیبلشمنٹ کا آدمی بنا دیا ہے اور خود اینٹی اسٹیبلشمنٹ بن گیا ہے لہٰذا فوج، زرداری کو ہٹانے کے لئے ایوان صدرکا گھیراو نہیں کرے گی۔ یہ اس لئے بھی ممکن نہیں ہے کہ اب سپریم کورٹ نہ تو بوٹوں کی دھمک سے ڈرتی ہے اور نہ سکوں کی کھنک اور بریف کیسوں میں بھری ہوئی روپوں کی چمک سے خریدی جا سکتی ہے۔ ملک میں مارشل لاءیقینا نہیں آئے گا۔ مسلم لیگ ن اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کے حالیہ بیانات کے بعد فرینڈلی اپوزیشن کے طعنے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا یہ تجزیہ درست ثابت ہو رہا ہے کہ صدر آصف زرداری کی نواز شریف پر تنقید ان کی کامیابی ہے۔