فوجی قیادت خود غور کرے‘ طالبان سے لڑائی قوم کے فائدے میں نہیں، سلمان خالق

23 جون 2011
لاہور (رپورٹ: خواجہ فرخ سعید) سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور سابق آئی جی پولیس سندھ سید سلمان خالق نے کہا ہے کہ طالبان کے عقائد ٹھونسنے کے رویے نے غیر ملکی طاقتوں کو موقع دیا کہ وہ پاکستانی افواج اور طالبان کو آپس میں لڑا دیں‘ بلوچستان اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی ذمہ دار وہاں کی صوبائی حکومتیں ہیں‘ فوجی قیادت کو خود غور کرنا چاہئے کہ طالبان سے لڑائی میں قوم کا فائدہ نہیں ہے‘ افغانستان پر قبضہ کرنے والی بیرونی طاقتوں اور پاکستان کے مفادات الگ الگ ہیں‘ موجودہ حکومت اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے‘ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز روزنامہ نوائے وقت‘ دی نیشن اور وقت نیوز کے زیر اہتمام لیکچر سیریز میں ”قومی سلامتی کو لاحق خطرات اور ان کا حل“ کے موضوع پر لیکچر اور سوالوں کے جواب میں کیا۔ قبل ازیں انہوں نے ایڈیٹر انچیف نوائے وقت گروپ مجید نظامی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا ہم نے اپنے ملک کے ایک طبقے سے لڑائی میں برسر پیکار ہونے کی وجہ سے اتنا نقصان اٹھایا ہے جتنا بھارت کے ساتھ جنگوں میں بھی نہیں ہوا تھا۔ ہمارے جہاز تباہ ہوئے‘ ہزاروں فوجی مارے گئے‘ عمارتیں تباہ ہوئیں‘ اس کے عوض ہم نے کچھ پیسے‘ فوجی امداد اور چکنی چپڑی باتوں کے سوا کچھ نہیں پایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ ہماری موجودہ مشکلات کا باعث ہیں‘ افغانستان پر قبضہ کر کے انہوں نے وہاں ہزاروں لوگوں کو مارا ہے‘ افغان روایتی طور پر بدلہ لیتے ہیں اور جب واضح نہیں کہ بیرونی مداخلت اور قبضہ کب ختم ہو گا تو ان کی مدد کرنے کی پاداش میں پاکستانی افواج کا بھی نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والی گڑبڑ میں بھی امریکہ کا ہاتھ ہے۔ علیحدگی پسند بلوچ مغربی ملکوں میں بیٹھے ہیں‘ بلوچستان اگر خدانخواستہ پاکستان سے الگ ہوا تو ان ہی ملکوں کی گود میں جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایک جماعت کا تسلط ہے وہ چاہے تو فساد اور چاہے تو امن ہو جاتا ہے۔ حکومت سندھ پر منحصر ہے کہ اس کے ساتھ کس طرح ڈیل کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جس کے سربراہ صدر مملکت کا کراچی گڑھ ہے‘ ایم کیو ایم اور اُس کا جس اے این پی سے جھگڑا ہے وہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں حلیف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو اپنے گڑھ میں اپنے حلیفوں کی لڑائی نہیں رکوا سکتے ان سے بڑا نااہل کون ہو گا۔