بھارت نے 6 پاکستانی قیدی رہا کر دئیے، تشدد سے 5 کے ذہن مفلوج

23 جون 2011
لاہور/ نارنگ منڈی/ نئی دہلی (نامہ نگار+ایجنسیاں) بھارت کی جیلوں سے رہائی پانیوالے 6پاکستانی قیدی واہگہ بارڈر کے راستے وطن پہنچ چکے ہیں، بھارتی اہلکاروں کے بدترین تشدد سے پانچ افراد نیم پاگل ہو چکے ہیں۔ بھارتی جیلوں میں 2سے 7سال تک قید رہنے والے امجد علی، اصغر علی، اقبال صدیقی، محمد ارشد، ناران اور نصراللہ کو عدالتوں سے ملنے والی سزا مکمل ہونے کے بعد رہا کیا گیا۔ نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق محمد ارشد نارنگ کے گاﺅں مقبول پور میانی کا رہائشی ہے اور بھارت نے اسے 1996ءمیں سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا، اسکے 2بھائی محمد اشرف اور غلام رسول اسکی جُدائی برداشت نہ کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ دریں اثناءنارنگ کے ہی تین نوجوان عابد جھٹول، جمال اور لال دین 7برس قبل مویشی چراتے ہوئے غلطی سے سرحد عبور کر گئے تھے اور آج تک بھارتی حکام نے ان کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی۔ دوسری طرف نجی ٹی وی کےمطابق بھارت مےں محصور پانچ بہن بھائےوں کو نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ 2001ءمیں کراچی کا خاندان رشتہ داروں سے ملنے بھارت گیا تھا جہاں بھارتی حکام نے نجمہ بی بی اور اسکے خاوند شاہد کو گرفتار کرلیا۔ 5سال بعد نجمہ اور 10سال بعد شاہد کو رہا کر دیا گیا تاہم ان کے بچے وہیں دربدر تھے۔ پاکستانی ہائی کمشنر شاہد ملک کا کہنا ہے کہ پاکستانی بچے جلد وطن پہنچ جائےں گے۔آن لائن کے مطابق پانچوں بچے گیارہ سال سے بھارت کیقےد مےں تھے۔