A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

بھارت کو بتا دیا‘ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر تعلقات بحال نہیں ہو سکتے: گیلانی

23 جون 2011
باغ (آزاد کشمیر ) (نامہ نگار+ریڈیو مانیٹرنگ+ ثناءنیوز ) وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت کو نیک نیتی کا ثبوت دینے کے لئے وادی کشمیر میں ظلم و جبر بند کر نا ہو گا، کسی کو مذاکرات کی آڑ میں کشمیری عوام پر ظلم و جبر کا سلسلہ تیز کر نے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔ مقبوضہ کشمیر میں فوج میں کمی، قیدیوں کو رہا کرنے اور انسانی حقوق کے اداروں کو کشمیر جانے کی اجازت دینے تک بھارت سے مذاکرات بے نتیجہ رہیں گے۔ پیپلز پارٹی کی بنیاد مسئلہ کشمیر پر ہی رکھی گئی ہے۔ ضلع باغ میں بھمبر کے مقام پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمارے درمیان جو ذہنی ہم آہنگی اور سیاسی رفاقت پائی جاتی ہے۔ پاکستان کے عوام اور کشمیر کے عوام حقیقی معنوں میں دو جسم اور ایک جان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں طرف کے عوام کے درمیان مذہبی، نظریاتی، سیاسی، ثقافتی اور جغرافیائی رابطے صدیوں پرانے ہیں جن پر حالات اور زمانہ کبھی اثر انداز نہیں ہو سکا۔ ہماری ان کوششوں کا احساس اور اعتراف کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے عوام نے ہمیشہ پاکستان پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا ۔ پاکستان پیپلزپارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جس کی جڑیں پاکستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی ہر سطح پر پھیلی ہوئی ہیں۔ آزاد کشمیر کے عوام نے پاکستان پیپلزپارٹی کا بھرپور ساتھ دیا ۔ آمریت کے خلاف جدوجہد کے مراحل ہوں یا جمہوریت کی بحالی کے لئے تحریک چلانے کا وقت ہو ، آزاد کشمیر کے عوام پاکستان پیپلزپارٹی کے پرچم تلے ہمیشہ متحد اور پراعتماد کھڑے رہے۔ ہم سرحد کے اس پار اپنے کشمیری بھائیوں کی مشکلات اور مسائل سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ہماری بھرپور کوشش ہے کہ وہ ظلم و ستم اور غلامی سے جلد نجات حاصل کرکے آزادی کی فضاﺅں میں اپنی مرضی کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔ ہم اپنے ان بہنوں اور بھائیوں کی آزادی کے حصول تک ان کی سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے۔ تاریخ گواہ ہے معاہدہ تاشقند کے موقع پر قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے ایوب خان کے ساتھ کشمیر کے مسئلہ پر اختلافات ہوئے۔اس کے بعد بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی قائم کی۔ پارٹی کی بنیاد درحقیقت مسئلہ کشمیر ہی ہے۔ بھٹو صاحب نے کہا تھا کہ ہم کشمیر کی آزادی کے لئے ایک ہزار سال تک جنگ کریں گے۔ قائد عوام کا یہ عزم اور فرمان ہمارے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ پیپلزپارٹی نے آزاد جموں و کشمیر کو عبوری آئینی ایکٹ 1974 دیا ۔ اس ایکٹ کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر میں پارلیمانی طرز حکومت متعارف ہوا۔ اسی ایکٹ کے نتیجے میں ہی جموں و کشمیر کونسل قائم ہوئی جو ایک منتخب باڈی ہے اور اس کا کشمیرامور ڈویژن کی بجائے وفاقی حکومت کے ساتھ رابطہ ہے۔ آزاد جموں و کشمیر دستور ساز اسمبلی اور آزاد جموں و کشمیر کونسل کو آئین سازی کا حق دیا گیا۔ پاکستان میں یہ اختیار صرف قومی اسمبلی اور سینٹ کے پاس ہے۔ بھارت کو بتا دیا کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر تعلقات بحال نہیں ہو سکتے ۔ بھارت کے ساتھ وزیر خارجہ کی سطح پر مسئلہ کشمیر پر بات ہو چکی ہے، کشمیری عوام کو انکی خواہشات کے مطابق فیصلے کا اختیار ملنا چاہئے۔ ضلع باغ میں حکومت شفاف انتخابات کرانا چاہتی ہے، آزاد کشمیر میں شفاف انتخابات سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن ہو گا۔ آزاد کشمیر میں انتخابات میں کسی بھی سطح پر دھاندلی نہیں ہونی چاہئے، کشمیرکا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے، آزاد کشمیر کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، جو ترقیاتی کام پاکستان میں کریں گے وہی آزاد کشمیر میں کرائے جائیں گے، بیرونی دنیا میں تمام تر حمایت کشمیریوں کے لئے ہو گی، پیپلزپارٹی ملک میں ترقی چاہتی ہے۔