A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

جناب مرد حر! میں کسی کا ”سیاسی گرو“ نہیں: مجید نظامی کی وضاحت

23 جون 2011
میاں محمد نوازشریف نے آزاد کشمیر کی انتخابی مہم میں صدر زرداری صاحب کو بھی تختہ مشق بنایا ہے جواب میں انہوں نے نوڈیرو میں شہید بےنظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر تقریر میں میاں صاحب کو رگڑا لگایا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ ان کے ”سیاسی گرو“ نے مجھے ” مرد ِ حر “ کا خطاب دیا تھا اور ”سیاسی گرو“ نے ہی کہا تھا کہ یہ قید نہیں کاٹ سکتے مچھر کاٹتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے شریف فیملی کے ساتھ اس وقت سے تعلقات ہیں جب اتفاق انڈسٹری کو ٹیک اوور کیا گیا اور میاں صاحب کے مرحوم والد محترم میاں محمد شریف صاحب میرے پاس دفتر میں تشریف لائے۔ میرے دوست میاں صاحب محترم و مرحوم تھے۔ ان کے بیٹے میرے عزیز و محترم ضرور ہیں لیکن میں کسی کا ”سیاسی گرو“ نہیں۔ میں سیاستدانوں یا حکمرانوں کو خواہ منتخب ہوں یا آمر اپنے اخبار کے کالموں میں ہی مشورہ دیتا ہوں۔ کسی کا سیاسی گرو نہیں اور نہ ہی مجھے کوئی سیاسی گرو مانتا ہے۔ میں نے جب زرداری صاحب کو صرف لمبی جیل کاٹنے کی وجہ سے ” مرد ِ حر “ قرار دیا تھا تو میاں صاحب جدہ کے سرور پیلس میں سُرور لے رہے تھے۔ میں سالہا سال سے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہر سال عمرہ ادا کرتا ہوں۔ پانچ بار حج بھی کیا ہے لیکن ڈاکٹر کے مشورہ کے مطابق اب میں حج نہیں کرتا۔ آمدم برسر مطلب جب سرور پیلس کے ڈائننگ ٹیبل پر میاں صاحب نے طنزاً کہا کہ آپ نے زرداری کو ” مرد ِ حر “ قرار دے دیا ہے؟ تو میں نے جواب دیا اگر آپ بھی یہاں سُرور نہ لے رہے ہوتے جیل میں ہوتے تو اس سے پہلے میرے ” مرد ِ حر “ ہوتے۔ میں ” مرد ِ حر “ کا خطاب واپس نہیں لوں گا۔ ازراہِ کرم صدر زرداری صاحب ”سیاسی گرو“ کا خطاب واپس لے لیں کیونکہ میں کسی کا سیاسی گرو ہوں نہ میرے سیاسی مقاصد ہیں ورنہ میں صدر مملکت کے منصب کے لئے میاں نوازشریف اور ان کے مرحوم و مغفور والد محترم کی پیشکش کیوں ٹھکراتا اور اس سے پہلے سابق وزیراعظم مرحوم محمد خاں جونیجو کی گورنر پنجاب کی پیشکش بصد شکریہ انکار کی بجائے قبول کر لیتا۔ میں تو صرف قائدؒ و اقبالؒ کے تصورات کے مطابق وطنِ عزیز میں جدید اسلامی جمہوری فلاحی معاشرے کے قیام کا خواہش مند ہوں۔ ملک کی ترقی اور بقا کے لئے ہندو بنیا کے خونیں پنجے سے اپنی شہ رگ کشمیر کی آزادی چاہتا ہوں اور کالاباغ ڈیم کے منصوبے کی تکمیل چاہتا ہوں۔ آپ میری یہ خواہش پوری کر دیں تو آپ میرے مرد ِ حر کے ساتھ ساتھ قوم کے مسلمہ لیڈر بھی بن جائیں گے۔