پاک فوج کے تحفظ کیلئے اقتدار کی قربانی دی: نوازشریف

23 جون 2011
پلندری (این این آئی + ثناءنیوز + مانیٹرنگ نیوز) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ آئین اور عدلیہ کو توڑنے والوں کو گارڈ آف آنر نہیں ان کے ہاتھ توڑ دینے چاہئیں‘ تمام مسائل ون مین شو کے باعث پیش آئے‘ کرگل کے معاملے پر پاک فوج پر آنچ نہیں آنے دیپاک فوج کے تحفظ کے لئے ہی اقتدار کی قربانی دی ‘ ملک کا مال لوٹنے والوں کے خلاف بات کرنا جرم نہیں‘ شیر آ چکا ہے‘ گیدڑ بھاگیں گے۔ حکومت امریکہ سے ملی ہوئی ہے ایک طرف اس نے ڈرون حملوں کی اجازت دے رکھی ہے‘ دوسری طرف سرحدی خلاف ورزیوں کا واویلا کر کے عوام کو دھوکہ دے کر امریکہ کو ڈرون حملے کرنے کے لئے آنکھ مار دی جاتی ہے کیونکہ ڈرون طیارے پاکستانی سرزمین سے ہی اڑتے اور حملے کرتے ہیں‘ جہاں عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کیا جائے وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ ملک کے اربوں کھربوں روپے لوٹے جا رہے ہیں‘ حکومت نے اپنے دوستوں کو مختلف اداروں کو لوٹنے کے لئے لگا رکھا ہے‘ آزاد کشمیر میں الیکشن مہم کے سلسلے میں پلندری میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے دور حکومت میں ملک میں ڈرون حملوں کا نشان بھی نہیں تھا۔ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی پر کمشن کیوں نہیں بنتا۔ اسلام آباد میں کرپشن عروج پر ہے۔ کرپشن پر خاموش رہنا ظلم کے مترادف ہے‘ پاکستان سٹیل ملز اور واپڈا میں کروڑوں روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔ پرویز مشرف نے وزیراعظم سے پوچھے بغیر کرگل آپریشن شروع کیا‘ فخر ہے کہ میں نے پاک فوج پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پاکستان کو جنگ کی جانب دھکیلا جا رہا تھا مگر انہوں نے بھارت کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور کیا۔ واجپائی نے 1999ءمیں مسئلہ کشمیر حل کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن پرویز مشرف نے پوچھے بغیر کرگل آپریشن کیا جس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر حل نہ ہو سکا۔ آج ملک دہشت گردی‘ مہنگائی‘ بےروزگاری اور لوڈ شیڈنگ کی زد میں ہے۔ عوام سراپا احتجاج ہیں لیکن حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ جہاں دہشت گردی اور انتہا پسندی‘ لوڈ شیڈنگ‘ غربت‘ بےروزگاری عروج پر ہو ایسے پاکستان کا کیا مستقبل ہے۔ حکومت ایسے مسائل سے چشم پوشی اور پہلوتہی کرتی چلی جا رہی ہے اسے کوئی احساس نہیں کہ عوام کس قدر تکلیف میں ہیں۔ مجھے بتایا جائے کہ چین اور سعودی عرب کے علاوہ پاکستان کے ساتھ کون ہے جب ہم نے ایٹمی دھماکے کئے تو آدھی سے زیادہ دنیا ہمارے ساتھ تھی مگر آج پاکستان تنہا ہو کر رہ گیا ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے آج ہمیں یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے‘ جس ملک میں وزیراعظم کو گرایا جاتا رہا ہو اسمبلیاں ٹوٹتی رہی ہوں‘ عدلیہ کے ججوں کو گرفتار کیا جاتا رہا ہو‘ عدلیہ کو اپنا غلام بنایا جاتا رہا ہو‘ جس میں آئین و قانون ٹوٹتا رہا ہو‘ جہاں اکبر بگٹی جیسے لوگوں کو شہید کر دیا جاتا ہو‘ لوگوں کو غائب کر دیا جاتا ہو‘ جہاں سلیم شہزاد جیسے آدمی کو بے دردی سے شہید کر دیا جاتا ہو‘ جس ملک میں ایبٹ آباد اور مہران بیس جیسے واقعات ہو رہے ہوں وہ ملک کس طرح ترقی کر سکتا ہے۔ آج پٹرول و ڈیزل نہیں مل رہا بجلی بمشکل دس گھنٹے آتی ہے‘ ان تین سال میں اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی‘ لوگ مظاہرے کر رہے ہیں‘ حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی‘ میرے کشمیری بھائیو! ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ پاکستان ساٹھ سالوں میں اس طرح کا ہو گا‘ پاکستانی قوم کو اب اپنی آنکھیں کھولنی چاہئیں‘ آئین و قانون شکنوں کے ہاتھ توڑ دینے چاہئیں۔ آج پاکستان کا میڈیا بھی یہی باتیں کر رہا ہے جو میں دس سال سے کر رہا ہوں۔ پاکستان میں کبھی آمریت کبھی مارشل لا کبھی صدارتی نظام اور کبھی پارلیمانی نظام آتا ہے ہم نے اس ملک کو اپنی مرضی سے توڑا اور مروڑا ہے یہ پاکستان کے ساتھ کتنا بڑا ظلم ہے اب پاکستانی عوام کو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئے‘ کیا ہم صرف اسی میں خوش رہیں گے کہ ہم ایٹمی قوت بن گئے ہیں‘ ایٹمی قوت کے ساتھ ساتھ یہاں خوشحالی بھی ہونی چاہئے تھی مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا۔ نوازشریف نے کہا ڈاکٹر نجیب نقی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہیں ان سے نہ صرف سیاسی تعلق ہے بلکہ میرے بزرگ ہمارے لئے باعث فخر غلام دستگیر کے داماد بھی ہیں میں ان کی کامیابی کے لئے آپ کے پاس آیا ہوں‘ آزاد کشمیر میں سردار خالد ابراہیم جیسے باکردار لوگ ہیں اور ہم مل کر چلیں گے اور ایک انقلاب برپا کریں گے انہوں نے کہا میں فوری طور پر راولپنڈی سے آزاد پتن تک موٹروے بنانے کا اعلان کرتا ہوں جلسہ سے سردار خالد ابراہیم خان ڈاکٹر نجیب نقی دیگر مقررین نے خطاب کیا۔