حزب التحریر سے بریگیڈئر علی خان کے رابطے ثابت ہو چکے‘ چار میجر بھی شامل تفتیش ہیں: فوجی ترجمان

23 جون 2011
راولپنڈی (آئی این پی+ مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل اطہر عباس نے انکشاف کیا ہے کہ بریگیڈیئر علی خان کے علاوہ کالعدم تنظیم کے ساتھ تعلقات کے شبے میں 4 میجر بھی شامل تفتیش کئے گئے ہیں۔ وہ فوجی قواعد کے منافی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں‘ قومی سلامتی کے اداروں میں کسی دوسرے کلچر یا مزاج کو برادشت نہیں کرسکتے‘ انتہا پسندی فوج کو متاثر کر رہی ہے۔ واقعہ ایبٹ آباد اور پی این ایس مہران کے دوران کئی خامیاں سامنے آئی ہیں اس سلسلے میں بہت ساری چیزیں عوام کے سامنے آچکی ہیں جبکہ دیگر کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں‘ پاک فوج واقعہ ایبٹ آباد کی تحقیقات کیلئے قائم کمشن کی مکمل حمایت کرتی ہے ‘پاک فوج عوام سے کچھ چھپانا نہیں چاہتی۔ وہ بدھ کے روز سرکاری ریڈیو چینل کو انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ پاک فوج کا حاضر سروس بریگیڈئر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ہے جو کہ آرمی ڈسپلن کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ بریگیڈیئر علی خان کے کالعدم حزب التحریر کے ساتھ رابطے ثابت ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بریگیڈیئر حراست میں ہے اور اس سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے‘ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پاک فوج کے اہلکار بڑی تعداد میں شدت پسندوں کے ساتھ منسلک ہیں یا ان کے کالعدم تنظیموں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج جیسے بڑے ادارے میں ایسے عناصر کی موجودگی کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایک منظم ادارہ ہونے کے ناطے پاک فوج کا اندرونی کنٹرول کا نظام انتہائی سخت ہے اور جب بھی اس قسم کی سرگرمیوں کا پتہ چلتا ہے تو ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے۔