زرداری کی تقریر کیخلاف قومی اسمبلی میں ہنگامہ‘ شیم شیم کے نعرے‘ مسلم لیگ ن کا واک آﺅٹ‘ سعد رفیق کی سپیکر سے تلخ کلامی

23 جون 2011
اسلام آباد (لیڈی رپورٹر + نمائندہ خصوصی + مانیٹرنگ نیوز) صدر آصف علی زرداری کی نوازشریف کے خلاف تقریر پر مسلم لیگ ( ن ) کے ارکان نے قومی اسمبلی مےں شدید احتجاج کیا‘ شیم شیم کے نعرے لگائے گئے‘ ایوان ہنگامہ آرائی کا منظر پیش کرنے لگا‘ خواجہ سعد رفیق کی تقریر کے دوران پیپلز پارٹی کے ارکان نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور مائیک کے بغیر بولنا شروع کر دیا۔ قومی اسمبلی سے واک آﺅٹ کر گئے۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ( ن ) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کی سپیکر اور وفاقی وزیر مذہبی امور کے ساتھ اس وقت تلخ کلامی ہو گئی جب انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے صدر کی نواز شریف کے خلاف تقریر پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری کو دھمکیاں دینے کا شوق ہے تو ایوان سے باہر نکلیں اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بن کر بات کریں۔ نواز شریف تنہا نہیں جمہوریت پسند پاکستانی ان کے ساتھ ہیں۔ صدر زرداری دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کی بجائے حکومتی کارکردگی پر نظر رکھیں۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر زرداری اپنے الفاظ واپس لیں۔ تمام جماعتوں نے کسی نہ کسی طرح آمریت کا ساتھ دیا۔ صدر نے اخلاق کے ضابطے سے باہر زبان استعمال کی۔ صدر زرداری کے بیان سے دل آزاری اور جگ ہنسائی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں۔ صدر نے جو الفاظ استعمال کئے وہ واپس لیں۔ ہم مولوی نہیں ہیں لیکن یہ نہیں کہتے کہ تھوڑی سی پیتے ہیں اور حلوہ نہیںکھاتے۔ اس نظام کو چلنے دیں کسی اور کو دعوت نہ دیں۔ مسلم لیگ ( ن ) معاملات کو یو ٹرن پر نہیں لے جانا چاہتی صدر دھمکیاں دینا بند کریں۔ سعد رفیق نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ حکومت لڑائی وہاں تک لے کر جائے جہاں تک ”وارا“ کھاتی ہے۔ (ق) لیگ کے رضا حیات ہراج نے کہا کہ ہم نے تو انہیں نہیں کہا تھا کہ آزاد کشمیر جا کر صدر کے خلاف باتیں کرو۔ ندیم افضل چن نے کہا کہ مسلم لیگ ( ن ) والے چلے گئے اب کیا بات کریں۔ فنانس بل کی منظوری کے بعد خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ صدر اور وزیر داخلہ نے دھمکیاں دی ہیں جس پر ایوان میں شیم شیم کے نعرے بلند ہوئے۔ سعد رفیق نے کہا کہ محترمہ بےنظیر بھٹو کے یوم ولادت پر صدر نے خطاب میں جو زبان استعمال کی اس پر پاکستانیوں کو تکلیف ہوئی ہے‘ صدر سیاسی بیانات دیں لیکن جب وہ اپوزیشن جماعت کے قائد کو کوسنے دیں اور دھمکیاں دیں تو اس کے بعد کیا باقی رہ جاتا ہے۔ صدر نے فوج کے سامنے سجدہ سہو کر لیا ہے لیکن ہم نے جو غلطی کی تھی اسے نہیں دہرائیں گے‘ ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں‘ ہمارے درمیان بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے جرنیلوں اور سول آمروں کی مخالفت کی۔ این آئی سی ایل سکینڈل کے علاوہ متعدد دوسرے سکینڈل ہیں فیصل صالح حیات جو اب وزیر بن گئے ہیں وہ حکومت کے خلاف عدالت میں گئے‘ داڑھی رکھنا جرم نہیں‘ صدر ایک منصب اپنے پاس رکھیں‘ صدر اپنے الفاظ واپس لیں اور کسی اور کو دعوت نہ دیں۔ ان کے اس خطاب پر حکومتی بنچز میں ردعمل ہوا۔ نسیم چودھری اپنی نشست پر کھڑی ہو گئیں‘ اس کے علاوہ متعدد دوسرے ارکان بھی بولنے لگے تاہم سپیکر نے حکومتی ا رکان کو خاموش رہنے کی ہدایت کی اور چیف وہپ کو ہدایت کی کہ وہ حکومتی ارکان کو چپ کرائیں۔ خواجہ سعد رفیق کے خطاب کے بعد مسلم لیگ ( ن ) کے تمام ارکان ایوان سے واک آوٹ کر گئے۔ بعدازاں وزیر مملکت رضا حیات ہراج نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ صدر زرداری منتخب صدر ہیں ہم سب شیشے کے گھروں میں بیٹھے ہیں‘ زبان سب کے پاس ہے لیکن ہمارا خون اجازت نہیں دیتا اگر سننے کی ہمت نہیں تو بات کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ ہم نے تو نہیں کہا تھا آزاد کشمیر جا کر صدر کے خلاف باتیں کرو‘ پہلے بے عزتی ہوتی تھی تو لوگ پردہ ڈالتے تھے۔ اب یہ ایوان میں آ کر بتاتے ہیں کہ ہماری بے عزتی ہوئی۔ مہرین انور راجہ نے کہا کہ چوڑیوں کو منفی نہ بنایا جائے‘ محترمہ بےنظیر بھٹو نے بھی چوڑیوں کے ساتھ شہادت حاصل کی۔ ہم چوڑیوں کے ساتھ جیل گئی ہیں‘ ہم قرارداد لا رہے ہیں کہ خواتین کے لباس‘ چوڑیوں کو منفی انداز میں بیان نہ کیا جائے۔ آصف علی زرداری ایک ویژن کا نام ہے۔ دریں اثناءمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعد رفیق نے کہا کہ صدر زرداری دنگل چاہتے ہیں یا زور آزمائی چاہتے ہیں تو ان کا شوق پورا کیا جا سکتا ہے‘ مشرف کی وردی والی آمریت کا مقابلہ کیا‘ ٹائی سوٹ والی جمہوریت ایک جھٹکے کی مار ہے۔
اسلام آباد (لیڈی رپورٹر) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سی ڈی اے نے اگر کوئی غیر قانونی اقدام کیا ہے اس کا ذمہ دار میں ہوں لیکن کسی شخص کے انفرادی فعل کا میں ذمہ دار نہیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی کے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ مسئلہ ایوان میں کئی بار اٹھایا گیا ہے اگر قائد حزب اختلاف کی کردار کشی کے لئے سرکاری وسائل استعمال کئے گئے ہیں تو میں اس کا ذمہ دار ہوں جس کی مکمل تحقیقات ہو گی اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہو گی تاہم میں کسی شخص کے انفرادی فعل کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے نکتہ اعتراض پر کہا ہے کہ میرے خلاف ذاتی نوعیت کے بینرز لگائے گئے ہیں اور یہ اس وقت لگائے گئے جب میں علالت میں تھا اور شہر میں موجود نہیں تھا۔ ان لوگوں کا ضمیر مر چکا ہے یہ پورا ایک مافیا ہے جن کی کوئی حیثیت نہیں ہے ان کی بیویاں ٹی وی پر آ کر کہتی ہیں کہ یہ بڑے جھوٹے ہیں تو ان کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے تاہم افسوسناک بات یہ ہے کہ بینرز لگانے کے لئے سرکاری وسائل کا استعمال کیا گیا سی ڈی اے کے سرکاری وسائل کسی بھی شخص کی کردار کشی یا سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا غیر قانونی ہے۔ حکومت اس معاملہ کی تحقیقات کروائے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کو آزاد عدلیہ کے سامنے نہ لیکر جائیں پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی کمیٹی بنا دیں نیب کے پاس یا ایف آئی اے کے پاس معاملہ تحقیقات کے لئے بھجوا دیں۔ اگر میں قصوروار ہوا تو سب قبول کروں گا غیر قانونی بینرز آویزاں کرنے کے خلاف میرے حلقہ کے عوام نے احتجاج کیا تو ریاستی طاقت استعمال کرکے انہیں گرفتار کر لیا اور ان افراد پر سنگین نوعیت کے جھوٹے مقدمات بنا دئیے گئے ہیں۔ گاڑیاں تباہ کی گئیں کیا اندھیر نگری ہے حکومت نوٹس لے انہوں نے بتایا کہ (2005ئ) میں مشرف کے دور میں میں نے ہاﺅسنگ سوسائٹی میں پلاٹ لیا اور (30) لاکھ روپے ادا کئے جس کی میرے پاس رسید بھی موجود ہے ڈی ایچ اے سے خط آیا کہ یہ ہاﺅسنگ سوسائٹی اب ہماری ہے آپ اتنے مزید واجبات ادا کریں میں نے (285000) بھی ادا کر دئیے جھوٹ کو سچ بنا کر قائد حزب اختلاف کی کردار کشی کی جا رہی ہے سی ڈی اے میں بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ اوپر سے دباﺅ ہے۔ قوم کا پیسہ ایسے مقاصد کے لئے استعمال کرنا افسوس ناک بات ہے۔